| عنوان: | مقامِ اجنادین (روشن ستارے): حضرت عَمْرُو بن سعید رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ (تیسری قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عدنان احمد عطاری مدنی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ایک صحابی رضی اللہ عنہ انگوٹھی پہنے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو دریافت فرمایا: تمہارے ہاتھ میں یہ انگوٹھی کیسی ہے؟ عرض کی: یا رسول اللہ! یہ انگوٹھی میں نے خود بنائی ہے۔ اس پر کیا نقش ہے؟ عرض کی: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ انگوٹھی مجھے دے دو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ انگوٹھی (بطور مہر) استعمال فرمائی اور اس جیسا نقش کنندہ کروانے سے سب کو منع فرما دیا، یہ انگوٹھی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال تک آپ کے دستِ مبارک میں رہی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق پھر حضرت عمر فاروق اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پاس رہی۔ پیارے اسلامی بھائیو! پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن صحابی کی انگوٹھی کو اپنی انگلی کی زینت بنایا تھا وہ عظیم صحابی حضرت عَمْرُو بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔
قبولِ اسلام اور ہجرت
حضرت عَمْرُو بن سعید بڑے عقلمند اور سمجھ دار تھے آپ سمیت 8 بھائیوں میں سے 5 بھائی اسلام لائے تھے سب سے پہلے حضرت خالد رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے پھر کچھ عرصہ بعد آپ بھی جہالت کی اندھیری وادیوں سے نکل کر ایمان کی روشن شاہراہ پر گامزن ہو گئے۔ پہلے حضرت خالد ہجرت کر کے حبشہ پہنچے پھر حضرت عَمْرُو رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ چلے آئے اور ایک لمبے عرصے تک حبشہ ہی میں قیام کیا۔
نیکی کی دعوت
آپ کے بھائی حضرت آبان ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے لہٰذا انہوں نے اپنے دونوں مسلمان بھائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہے، جواب میں حضرت عَمْرُو بن سعید رضی اللہ عنہ نے بھی کچھ اشعار کہے: میرے بھائی جیسا بھی میرا بھائی ہے میں اس کی عِزّت پر حرف لانے والا نہیں اور وہ بری بات کہنے میں کمی کرنے والا نہیں ہے، جب اس پر معاملات مشکوک ہو جاتے ہیں تو کہتا ہے: سن لو! کاش کہ مقام ظریہ کا مردہ زندہ ہو جاتا، (اے بھائی!) تو اس مُردے (کی فِکر) کو چھوڑ دے کہ وہ اپنی راہ جا چکا، اور اس زندہ کی طرف توجّہ کر جو زیادہ محتاج ہے۔ (یعنی اپنے بارے میں غور و فکر کر)۔ 3 ہجری غزوۂ بدر کے بعد دونوں بھائیوں نے حضرت آبان کو ایک خط لکھا: ہم تمہیں اللہ کی یاد دلاتے ہیں کہ تم اسی باطل دین پر مر جاؤ گے جس پر تمہارا باپ مرا ہے اور تمہارے دونوں بھائی قتل ہوئے ہیں، لیکن حضرت آبان اب بھی مسلمان نہ ہوئے۔ آخر کار دونوں بھائی ایک سفینے میں بیٹھ کر حبشہ سے روانہ ہوئے، ایمان کے ساحل سمندر کے قریب دونوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے بھائی آبان کی جانب ایک قاصد کے ہاتھ مكتوب روانہ کیا اور دعوتِ اسلام پیش کی، مکتوب ملنے کے بعد حضرت آبان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مدینے میں اپنے بھائیوں سے جا ملے، پھر تینوں بھائی 7 ہجری خیبر کے مقام پر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو گئے۔
خدماتِ دینیہ
حضرت عَمْرُو بن سعید رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ نے فتح مکہ، غزوۂ حنین، معرکہ طائف اور جنگ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی سعادت پائی۔ غزوۂ طائف کے کچھ قیدیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف صحابہ کے سپرد کیا اور حکم دیا تھا کہ ان کو قرآن پڑھاؤ اور سنتیں سکھاؤ، حضرت عَمْرُو بن سعید رضی اللہ عنہ بھی قرآن پڑھانے والوں اور سنتیں سکھانے والوں میں شامل تھے۔ تینوں بھائیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف مقامات پر عامل بنا دیا حضرت عَمْرُو رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ تبوک، خیبر اور باغ فدک (کے معاملات دیکھنے) کے لیے مقرر ہوئے۔
عہدہ قبول نہ کیا
تینوں بھائی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری وفات کی خبر ملتے ہی مدینے پہنچے، بعد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ کے عاملین سے بڑھ کر کوئی بھی عامل بننے کا حقدار نہیں ہے آپ تینوں اپنے عہدوں پر برقرار رہیں دوبارہ لوٹ جائیں، یہ پیشکش یقیناً تینوں بھائیوں کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا لیکن تینوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور عرض کی: ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کے لیے عامل نہیں بنیں گے۔
جوشِ ایمانی
حضرت عَمْرُو بن سعید رضی اللہ عنہ کے دل میں شہادت کا شوق اور جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جنگ اجنادین میں حضرت عَمْرُو بن سعید کے ساتھ سات یا آٹھ مسلمان دشمنوں کی جانب اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھ رہے تھے: ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو۔ پھر کہنے لگے: جنت کتنا اچھا ٹھکانہ ہے اور یہ کس کے لئے ہے؟ اللہ کی قسم! یہ اس کے لیے ہے جو اللہ کی رضا پانے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ کریم کی راہ میں لڑتا ہے۔
آخری لمحات
صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن قُطْر رضی اللہ عنہ (سال وفات: 56 ہجری) کہتے ہیں: جنگ اجنادین میں رومی فوج نے بڑا سخت حملہ کیا شدت اتنی تھی کہ میں اپنے ساتھیوں سے پچھڑ کر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ کے پاس پہنچ گیا، کچھ دشمنوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گھیر رکھا تھا میں نے ایک دشمن پر حملہ کر کے اسے نیچے گرا دیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریب ہو کر اپنا نام بتایا تو انہوں نے فرمایا: خوش آمدید! تم میرے مسلمان بھائی ہو اور نسب میں زیادہ قریب ہو۔ اللہ کی قسم! اگر میں شہید ہو گیا تو ضرور تمہاری شفاعت کروں گا، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک ابرو کے اوپر تلوار کا گہرا زخم تھا اور آنکھیں خون سے بھر چکی تھیں آپ اس وقت نہ تو پلک جھپک سکتے تھے اور نہ ہی خون کی وجہ سے اپنی آنکھیں پوری طرح کھول پا رہے تھے۔ پھر کہنے لگے: اللہ کریم اس زخم کو میرے لیے شہادت کا سبب بنا دے اور اس جیسا ایک اور زخم مجھے عطا کر دے۔ اللہ کی قسم! اگر میرا شہید ہو جانا آس پاس کے مسلمانوں کے حوصلے پست نہ کرتا تو میں دشمنوں پر آگے بڑھ بڑھ کر حملے کرتا کیونکہ شہادت کا ثواب بہت زیادہ ہے اور دنیا تو ایسا گھر ہے جس میں کوئی سلامت نہیں رہ پا رہا۔ کچھ دیر نہ گزری تھی کہ دشمنوں کے ایک جتھے نے ہم پر حملہ کیا (تو غبار چھا گیا تھا) حضرت عَمْرُو اپنی تلوار لے کر اس جتھے میں گھس گئے اور دیر تک لڑتے رہے۔ غبار کچھ چھٹا تو ہم نے ان دشمنوں پر حملہ کیا اور ان کے تین ساتھی مار گرائے لیکن اس وقت تک حضرت عَمْرُو نیچے گر کر شہید ہو چکے تھے ان کے جسم پر 30 سے زیادہ زخم تھے آپ کے دونوں بھائی حضرت خالد اور حضرت آبان رضيٰ اللہ عنہم بھی اسی جنگ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ ایک قول کے مطابق اس جنگ میں مسلمانوں نے بروز پیر 18 جمادی الأولى سن 13 ہجری کو فتح حاصل کی تھی۔
