دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

لزبین ازم (Lesbianism) اور گے کلچر (Gay culture) کا فتنہ

عنوان: لزبین ازم (Lesbianism) اور گے کلچر (Gay culture) کا فتنہ
تحریر: عالیہ فاطمہ انیسی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

آج کے دور میں جہاں ہر چیز کو آزادی اور اختیار کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے، وہاں بدقسمتی سے جنسی انحرافات کو بھی رائٹ (حق) سمجھا جانے لگا ہے۔ انہی انحرافات میں سے ایک لزبین ازم (Lesbianism) اور گے کلچر (Gay culture) ہے۔

لزبین ازم میں عورت، عورت سے جنسی تعلقات قائم کرتی ہے، اور گے کلچر میں مرد، مرد سے۔ یہ دونوں عمل اسلامی شریعت میں صریح حرام اور فطرت کے خلاف ہیں۔ یہ کوئی جدید آزادی یا محبت کی شناخت نہیں، بلکہ سراسر اخلاقی زوال اور اللہ کی لعنت کا باعث ہیں۔

اسلام نے مرد کو عورت کا اور عورت کو مرد کا (جبکہ وہ شرعاً میاں بیوی ہوں) اپنی خواہشات کی تکمیل اور حصولِ اولاد کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جوڑوں کی صورت میں پیدا فرمایا، مرد اور عورت کے درمیان فطری کشش رکھی تاکہ نسل چلتی رہے، دل کو سکون ملے، اور زندگی اعتدال سے گزرے۔ لیکن جب یہی انسان شیطانی وسوسوں اور مغربی فتنوں کا شکار ہو کر فطری راہ کو چھوڑ دیتا ہے، تو وہ خود اپنی روحانی، اخلاقی اور جسمانی تباہی کا راستہ چن لیتا ہے۔

قرآن مجید میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا ذکر آتا ہے، جو مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے، قرآن میں اُنہیں حد سے بڑھنے والا بتایا گیا ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور انہیں آسمان سے پتھروں کی بارش کے ذریعے ہلاک کر دیا۔

قرآن مجید میں ہے:

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ (الشعراء: 165-167)

ترجمہ کنزالایمان: کیا مخلوق میں مَردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔ اور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جو رُوئیں بنائیں بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔ بولے اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو ضرور نکال دئیے جاؤ گے۔

آج اسی قومِ لوط کے گھنونے طرزِ عمل کو گے پرائیڈ، LGBTQ+, رنگین جھنڈا اور محبت کا حق کہہ کر عام کیا جا رہا ہے، اور معصوم ذہنوں کو بگاڑنے کے لیے اسے اسکولوں، فلموں، سوشل میڈیا، اور یہاں تک کہ بچوں کی کتابوں میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

عورتوں کے درمیان لزبین تعلقات بھی اسی فتنے کا حصہ ہیں۔ عورت کا عورت کے درمیان اور مرد کا مرد کے درمیان دوستانہ تعلق ایک فطری اور جائز چیز ہے، لیکن آج کے فتنہ خیز دور میں کچھ لوگ دوستی کے نام پر اپنی حدود سے نکل کر ایسے تعلقات میں مبتلا ہو رہے ہیں جو کہ سراسر فطرت اور شریعت کے خلاف ہیں۔

ایک عورت کا دوسری عورت سے یا ایک مرد کا دوسرے مرد سے جذباتی حدوں کو پار کر جانا، اور ایک دوسرے کے جسم سے جنسی آسودگی حاصل کرنا، یا مرد کا مرد سے اور عورت کا عورت سے شادی کر لینا یہ ایک ایسا فتنہ ہے جو مغرب سے درآمد ہو کر ہمارے معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔

دوستی اور انسیت فطری اور جائز ہے، لیکن جب وہ دوستی جنسی رجحان اختیار کر لے تو یہ نہ صرف شرعی حدود کی خلاف ورزی ہے بلکہ جسمانی اور روحانی گراوٹ کا بھی ذریعہ ہے۔

یہ تعلقات بظاہر محبت کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ نفس پرستی، گناہ کی لذت اور معاشرتی بگاڑ کی شکل ہیں۔ جس طرح نشہ آور چیز وقتی سکون دیتی ہے لیکن آخر کار تباہی کا باعث بنتی ہے، ویسے ہی یہ تعلقات وقتی جذباتی آسودگی دے سکتے ہیں، لیکن اس کا انجام دنیا اور آخرت میں بہت سخت ہے۔

اسلام نے نکاح کو جائز طریقہ قرار دیا، اور شادی کو پاکیزگی، سکون اور نسل کی بقا کا ذریعہ بنایا۔ لیکن ہم جنس پرستی ان تمام فطری، شرعی، اور معاشرتی بنیادوں کو پامال کر دیتی ہے۔

یہ سچ ہے کہ بعض لڑکیاں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں، ایک دوسرے کی ہم راز اور سہیلی ہوتی ہیں، لیکن اگر یہی محبت حد سے گزر کر حرام تعلق میں بدل جائے تو وہی محبت عذاب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ سچی دوستی، عزت اور شرم و حیا کے دائرے میں رہ کر ہی خوبصورت لگتی ہے۔ لیکن جب دوستی کا نام لے کر ناجائز قربتیں پیدا کی جاتی ہیں، جسمانی رابطے کو کھیل سمجھا جاتا ہے، یا modern love کہہ کر شریعت کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف اخلاقی پستی ہے بلکہ معاشرتی فساد کا دروازہ بھی کھولتی ہے۔

اسلام ہر گناہ سے واپسی کی راہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اس فتنہ میں مبتلا ہو چکا ہے، تو وہ توبہ کرے، اللہ سے رجوع کرے، اور اپنی اصلاح کی طرف بڑھے۔ والدین، اساتذہ، اور معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی تربیت، دوستیوں، اور ماحول پر نظر رکھیں تاکہ وہ ان فتنوں سے بچی رہیں جو آج کل کے سوشل میڈیا، سیریز، اور فلموں کے ذریعے دلوں میں نفوذ کر چکے ہیں۔

اصل خوبصورتی پاکیزہ کردار، شرم و حیا، عزت نفس اور اللہ کی رضا میں ہے۔ دوستیوں کو پاکیزگی دیں، محبتوں کو دینی حدود میں رکھیں، اور اپنی زندگی کو فطرت اور شریعت کے مطابق بنائیں، تب ہی دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہو گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!