| عنوان: | یوم عاشورہ کو کیا کریں اور کیا نہ کریں |
|---|---|
| تحریر: | بنت اسلم برکاتی |
| پیش کش: | نوائے قلم رضویہ اکیڈمی للبنات، مبارک پور |
محرم الحرام بڑا ہی عظمتوں و رفعتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی بے شمار فضائل احادیث مبارکہ میں آئی ہیں، اُن میں سے کچھ ملاحظہ فرمائیں:
ایک شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! رمضان کے علاوہ میں کس مہینے میں روزے رکھوں؟ ارشاد فرمایا: اگر تمہیں رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنے ہوں تو محرم کے روزے رکھو کہ یہ اللہ پاک کا مہینہ ہے، اس مہینے میں ایک دن ہے، جس میں اللہ پاک نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور دوسروں کی توبہ بھی قبول فرمائے گا۔ (مسند امام احمد: 1334)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ پاک کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (صحیح مسلم:2755)
حضرت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کا کون حصہ بہترین ہے اور کون سا مہینہ افضل ترین ہے؟ ارشاد فرمایا: رات کا بہترین حصہ اس کا درمیان ہے اور افضل ترین مہینہ اللہ پاک کا وہ مہینہ ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔ (سنن کبریٰ للنسائی:4216)
بلاشبہ ماہ محرم الحرام کی فضیلت بے شمار ہیں۔ اس مبارک ماہ کا پہلا عشرہ پچھلی صدیوں سے ہماری شریعت تک نہایت بابرکت و محل عبادت رہا ہے۔ اس کے بارے میں حضرت سیدنا ابو عثمان نہدی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تین عشروں کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ذوالحجۃ الحرام کا پہلا عشرہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ
اس مبارک مہینے میں 10 محرم الحرام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اسے یوم عاشوراء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 10 محرم الحرام کو عاشوراء کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس دن اللہ پاک نے 10 انبیاء کرام علیہم السلام کو اعزاز اکرام سے نوازا۔ (فیض القدیر:5365)
یوم عاشوراء کی مبارک نسبتیں
یوم عاشوراء کو انبیاء کرام علیہم السلام سے خصوصی نسبت حاصل ہے۔ اس لیے یہ مبارک دن بہت بابرکت اور اہم ہے۔ آییے! اس مبارک دن کی نسبتوں کا مختصر تذکرہ ملاحظہ کرتے ہیں:
یوم عاشوراء کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کی گئی اور فرعون اور اس کے پیروکار اس میں ہلاک ہوئے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔ حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی قبولیت توبہ کا دن ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اسی دن آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اسی دن ولادت ہوئی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کا زوف اسی دن دور ہوا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ اسی روز اللہ پاک نے حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائشی دور فرمائی۔ یوم عاشوراء کو ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت عطا ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص لوگوں کی مغفرت کا مژدہ ملا۔ (نزھت القاری:409)
عاشوراء کے دن کرنے والے کام
یوم عاشورہ کے متعلق حضرت علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: 10 محرم بہت عظمت والا دن ہے۔ لہذا! مناسب یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو اچھے اور بھلائیوں کے کام کیے جائیں۔ ان موسموں کو غنیمت جانو اور غفلت سے بچو!۔ اس عظمت والے دن کی نسبت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ نیک کام کریں۔
یوم عاشوراء کا روزہ رکھیں اور اس کے ساتھ نوی یا گیارویں محرم الحرام کا روزہ بھی ملا لیجیے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے۔ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ: عاشورہ کے دن جو ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو اس کی طرف اللہ پاک نظر فرمائے گا اور جس کی طرف رحمٰن نظر فرما دے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ اس فرمان کو پیش نظر رکھیے اور رحمت خداوندی کے امیدوار بن کر ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ لیجئے۔ یوم عاشورہ ہی کو حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، لہذا اس دن توبہ استغفار کیجئے اور بارگاہ الہی سے توبہ پر قائم رہنے کی بھیک طلب کیجئے۔ والدین کا اکرام کیجیے۔ غصے پر قابو رکھیے۔ راستے سے تکلیف دہ چیز دور کیجیے۔(7) نوافل کی کثرت کیجئے۔ سرمہ لگائیے۔ یوم عاشورہ کو بالخصوص اسمد سرمہ لگائیے اس کی برکت سے آنکھیں نہیں دکھیں گی، جیسے کہ فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو شخص یوم عاشورہ اسمد سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دکھیں گی۔ فضولیات سے بچیں۔ رشتہ داروں سے ملاقات کیجئے۔زیارت قبور کیجئے۔ خوشبو لگائیے۔ روزہ داروں کو افطار کرائیے۔ قرآن پاک کی تلاوت کیجئے۔ 70 بار سبحان اللہ کا ورد کیجئے۔ یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیریں۔ ناراض مسلمانوں میں صلح کروائیے۔ علماء دین کی زیارت کیجئے۔ ہو سکے تو خوف خدا سے آنسو بہائے۔ جو کوئی عاشورہ کے دن یہ دعا پڑھے تو دراز عمر پائے گا:
یَا قَابِلَ تَوْبَۃِ اٰدَمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔ یَا فَارِجَ کَرْبِ ذِی النُّوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔ یَا جَامِعَ شَمْلِ یَعْقُوْبَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔ یَا سَامِعَ دَعْوَۃِ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔ یَا مُغِیْثَ اِبْرَاہِیْمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔ یَا رَافِعَ اِدْرِیْسَ اِلَی السَّمَآءِ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ ۔ یَا مُجِیْبَ دَعْوَۃِ صَالِحٍ فِی النَّاقَۃِ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔ یَا نَاصِرَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ ۔ یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ رَحِیْمُھُمَا صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ صَلِّ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیَآءِ وَ الْمُرْسَلِیْنَ وَاقْضِ حَاجَاتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَطِلْ عُمُرَنَا فِیْ طَاعَتِکَ وَ مَحَبَّتِکَ وَ رِضَاکَ وَ اَحْیِنَاحَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَّ تَوَفَّنَا عَلَی الْاِیْمَانِ وَ الْاِسْلَامِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط اَللّٰھُمَّ بِعِزِّ الْحَسَنِ وَ اَخِیْہِ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیْہ وَ جَدِّہ وَ بَنِیْہ فَرِّجْ عَمَّا مَا نَحْنُ فِیْہِ۔
عاشورہ کے دن نہ کرنے والے کام
جس طرح عاشورہ کے دن نیک کام کرنے کا ثواب زیادہ ہے اسی طرح گناہ کرنے کا عذاب بھی زیادہ ہے۔ تازیاداری اور عالم نکالنا، کودنا، ناچنا یہ وہ کام ہیں جو یزیدی لوگوں نے کیے تھے کہ امام حسین و دیگر شہدائے کربلا رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے سر نیزوں پر رکھ کر ان کے آگے کودتے، ناچتے، خوشیاں مناتے ہوئے، کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے دمشق یزید پلید کے پاس لے گئے تھے۔ باقی اہل بیت نے نہ کبھی تعزیہ داری کی اور نہ علم نکالیں، نہ سینے کوٹے نہ ماتم کیے۔ اس دن سیاہ کپڑے پہننا، سینہ کوبی کرنا، کپڑے پھاڑنا، بال نوچنا، نوحہ کرنا، چھری، چاقو سے بدن زخمی کرنا جیسے رافضیوں کا طریقہ ہے حرام اور گناہ ہے۔
لہذا اے مسلمانو!! اس مبارک دن میں یہ کام ہرگز نہ کریں ورنہ سخت گنہگار کے مرتکف ہوں گے۔ خود بھی ان جلسوں اور ماتم میں شریک ہونے سے بچیں اور اپنے بچوں، اپنی بیویوں اور دوستوں کو بھی روکیے۔ رافضیوں کی مجلس میں ہرگز ہرگز شرکت نہ کریے بلکہ خود اپنی سنیوں کی مجلسیں کریں جس میں شہادت کے سچے واقعات بیان ہوں۔
اللہ کریم ہمیں اِس مبارک دن میں خوب خوب نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!
