| عنوان: | آج کے مسلمانوں کے حالات |
|---|---|
| تحریر: | سیدہ عائشہ رضویہ |
سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ مسلمان آخر ہیں کون؟
ایک مسلمان وہ ہے جو اللہ کو ایک مانے اور اس کے محبوب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو
خاتم النبیین
صلی اللہ علیہ وسلم مانے اور ساتھ ہی اسلام کے بتائے گئے احکامات پر عمل کرتا ہو اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن ہم آج کے مسلمانوں کا جائزہ لیں تو ہمیں اکثریت ایسی ملے گی جو اسلام کے احکامات کو تسلیم تو کرتی ہے، لیکن عمل نہیں کرتی۔
وہ مغربی رسم و رواج کو اپنائے ہوئے ہیں اور دین سے دوری اختیار کر چکے ہیں، یہاں تک کہ دنیا کی رنگینیوں میں اتنے مگن ہیں کہ آخرت کو بھول بیٹھے ہیں۔
اب آپ خود سوچیں، جو مسلمان دنیا کو آزمائش کی جگہ نہ سمجھ کر عیش و آرام کی جگہ سمجھے، ان کا کیا حال ہوگا؟
آج مسلمانوں کے حالات کیوں اتنے خراب ہیں؟ کیا یہ کسی اور کی وجہ سے ہے؟ نہیں! یہ ہماری ہی غفلت کا نتیجہ ہے۔
کیوں کہ ایک وقت تھا جب مسلمان قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہوا کرتے، اس کے مطابق اپنی زندگی گزارتے، نماز، حج، روزہ و زکوٰۃ کے اہتمام کے ساتھ دین کی خدمت کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے۔
ہر ایک میں امانت داری، ایمان داری، سچائی، وفاداری پائی جاتی تھی۔ دوسروں کے ساتھ محبت، بھائی چارہ اور ہر معاملے میں عدل و انصاف موجود ہوتا۔ یہ وہ خصوصیات تھیں جو مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت تھیں۔
لیکن آج اس کے برعکس:
- علم دین سے دوری
- بزرگان دین سے ناواقفیت
- دنیا سے محبت
- فلمی ہیرو ہیروئن سے عقیدت
- فحاشی، ریاکاری اور احکامات شرعی سے غفلت وغیرہ۔
کیا اب مزید کچھ کہنا باقی ہے؟
حالات خود ہی ہمیں بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی تباہی کا سبب کیا ہے۔ اگر ہم پہلے اور آج کے مسلمانوں کا جائزہ لیں تو بات خود سمجھ میں آ جائے گی کہ کیوں پہلے مسلمان ہر میدان میں کامیاب تھے اور آج کیوں ہم ناکام ہیں۔
اگر مسلمانوں کو اپنا پہلے والا وقار واپس چاہیے تو انہیں اپنی تاریخ کو جاننا ہوگا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ تب جا کر ہم دشمنوں کو شکست دے سکتے ہیں اور اپنا پہلے والا وقار واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
آج غیر مسلم قومیں، جیسے یہود و نصاریٰ، کفار و مشرکین اپنی من گھڑت تاریخ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتی ہیں۔ پر افسوس کہ ہمیں تو اپنی تاریخ جاننے کی بجائے غیر قوم کے بے ہودہ ڈراموں سے ہی فرصت نہیں۔ ہم نے ان کو ہی اپنا آئیڈیل بنا لیا ہے، حالانکہ یہ ان کی سازشوں کا حصہ بھی ہے جو مسلمانوں کو ان کی اصل حقیقت سے دور کر کے دنیا کے فریب میں الجھائے رکھتے ہیں۔
خدارا! اپنے آپ کو پہچانیں۔ ان کی سازشوں سے بچیں اور اپنی نسل کو بچائیں۔ ابھی بھی وقت ہے، سنبھل جائیے، ورنہ حالات بد سے بدتر ہو جائیں گے۔
اللہ ہمیں دین اسلام کے احکامات پر عمل کرنے اور دشمن کی سازشوں سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین۔
