| عنوان: | بیعت مرشد زندگی کا روحانی لمحہ |
|---|---|
| تحریر: | مظفر حسین مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | تحریک علماے ہند |
انسانی زندگی میں کچھ ایسے ایام رونما ہوتے ہیں، جو دل کے نہاں خانے میں تابندہ نقش چھوڑ جاتے ہیں، جس کی روشنی دل میں جاودانی چراغ کا عکس بن جاتی ہے۔ کچھ ایام انتہائی غم کی وجہ سے، تو کچھ غایت سرور کے سبب۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لطف مے عطا کرتے ہیں۔
میری زندگی کا وہ دن جس کی یادیں سوز دروں کا جام دیتی ہیں، 17 اگست 2025ء کا دن ہے، جب مجھے شیخ کامل، عارف باللہ، پیر طریقت حضرت مولانا احمد رضا خان نقشبندی کمال پوری دام ظلہ العالی کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
جس وقت میں نے حضور شیخ العالم کے دست اقدس میں اپنا ہاتھ دیا، اس وقت کی اپنی دلی کیفیات بیان کرنے سے عاجز ہوں۔ گویا کہ دل میں خوشی، خوف اور ادب بیک وقت جمع ہو گئے ہوں۔ خوشی اس بات کی کہ مجھے خدا سے ملانے والا رہبر کامل مل چکا ہے اور خوف و ادب اس بات کا کہ اب میرا ہر عمل مرشد برحق کی نگاہ میں رہے گا۔
جب میرا ہاتھ شیخ کامل کے دست اقدس میں تھا، اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مجھ پر انوار و تجلیات کی برسات ہو رہی ہو۔ کلمات بیعت ادا کرتے وقت دل میں ایک الگ ہی لطف و سرور تھا۔
وہ دن میری زندگی کا نقطۂ آغاز تھا جس کے بعد خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اطاعت میں اور بھی اضافہ ہونے لگا۔ گویا کہ دل کو نئی زندگی ملی ہو جس کے بعد نماز، عبادت اور ذکر و دعا میں مزید لطف و سرور حاصل ہونے لگا۔
مرشد برحق کے دست اقدس پر بیعت کرنا محض ایک رسم اور روایتی کام نہیں، بلکہ خود سے اپنی زندگی کو خدا عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق گزارنے کا عہد کرنا ہے۔
اس طرح یہ دن میری زندگی میں ایسے نقوش چھوڑ گیا ہے جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضور شیخ العالم کو صحت و عافیت کے ساتھ عمر خضر عطا فرمائے اور ہمیں ان کی تربیت میں دنیا و آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین
صلی اللہ علیہ وسلم۔
