| عنوان: | افضلیت شیخین: ایک تحقیقی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | احسان مصطفیٰ |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور |
مذہبِ اسلام کامل و اکمل ترین دینِ مبین ہے، جس نے احکامِ حق اور ابطالِ باطل کو اس قدر تاباں و درخشاں فرما دیا کہ اب کسی صاحبِ عقل و فہم پر حقیقت کا نور مخفی نہیں رہا۔
قرآن مجید اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں راہِ ہدایت پر استقامت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، اور ہر اس عقیدے، فکر اور نظریے سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے جو گمراہی، ضلالت اور باطل کی طرف لے جاتا ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عصرِ حاضر میں ایک نہایت خطرناک فتنہ رونما ہوا ہے جو دینی لباس اور زہد و تقویٰ کے پردے میں اپنے باطل نظریات کو حق کے لبادے میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہے۔
یہ گروہ اپنے آپ کو قرآن و سنت کا پابند ظاہر کرتا ہے، اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان، بالخصوص حضرتِ مولیٰ علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے محبت و عقیدت کا بے دھڑک دعویٰ کرتا ہے، لیکن آپ کے اقوال و افعال سے روگردانی اختیار کرتا ہے۔
یہی وہ گمراہ فرقہ ہے جو اپنے آپ کو مولائی کہلواتا ہے، حالاں کہ درحقیقت یہ نام نہاد مولائی وہی فرقۂ ضالہ ہے جسے امتِ مسلمہ نے رافضی کے نام سے موسوم کیا ہے۔
چنانچہ یہ فرقہ خلفائے راشدین علیہم الرضوان، خصوصاً حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی خلافتِ راشدہ کا انکار کرتا ہے، اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت کا بلا فصل حق دار مانتا ہے، حالاں کہ ان کا یہ نظریہ نصوصِ قرآنیہ، احادیث مصطفویہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور اجماعِ امت کے بالکل خلاف اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ أنبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تمام انسانوں میں افضل سیدنا ابو بکر صدیق، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں، ان کے بعد افضلیت کی ترتیب کے بارے میں جمہورِ اہلِ سنت کا مؤقف یہ ہے کہ شیخینِ کریمین کے بعد افضل حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں اور پھر حضرت مولیٰ علی کرّم اللہ وجہہ الکریم۔
یہاں اس حقیقت کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ افضلیت کا کیا مطلب ہے۔ چنانچہ افضلیت کا مطلب بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’سنیوں کا حاصلِ مذہب یہ ہے کہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم جو قرب و وجاہت و عزت و کرامت و علوِِ شان و رفعتِ مکان و غزارتِ فخر و جلالتِ قدر بارگاہِ حق تبارک و تعالیٰ میں، حضراتِ خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حاصل، ان کا غیر اگرچہ کسی درجۂ علم و عبادت و معرفت و ولایت کو پہنچے، اولیٰ ہو یا آخری، اہلِ بیت ہو یا صحابی، ہرگز ہرگز اس تک نہیں پہنچ سکتا، مگر شیخین کو امورِ مذکورہ میں ختنین پر تفوق ظاہر و رجحان باہر، بغیر اس کے کہ عیاذ باللہ فضل و کمالِ ختنین میں کوئی قصور و فتور راہ پائے اور تفضیلیہ دربارہ جنابِ مولا اس کا عکس مانتے ہیں۔ یہ ہی تحریر مادۂ نزاع، بحمد اللہ اس نہجِ قویم و اسلوبِ حکیم کے ساتھ جس میں ان شاء اللہ تعالیٰ شک مشکک و وہم واہم کو اصلاً محلِ طمع نہیں۔‘‘ [مطلع القمرین، ص: ۹۸، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی]
قارئین کرام! ہمارا یہ عقیدہ شریعت کے عین مطابق اور دلائلِ کثیرہ کی روشنی میں ثابت ہے۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ افضلیت کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: اہلِ سنت و جماعت نصر ہم اللہ تعالیٰ کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکہ و رسل و انبیائے بشر صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیہم کے بعد حضراتِ خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تمام مخلوقِ الٰہی سے افضل ہیں۔ تمام اممِ عالمِ اولین و آخرین کوئی شخص ان کی بزرگی و عظمت و عزت و وجاہت و قبول و کرامت و قرب و ولایت کو نہیں پہنچتا۔
مزید فرمایا: پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیقِ اکبر، پھر فاروقِ اعظم، پھر عثمانِ غنی، پھر مولیٰ علی علیہ سید ہم و مولیٰ ہم و آلہ و علیہم و بارك وسلم۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۸، ص: ۴۷۸، رضا فاونڈیشن]
اب ہم ان کے اوہامِ رکیکہ اور شبہاتِ فاسدہ کا ازالہ کرتے ہوئے، حُجَّجِ قاہرہ اور براہینِ ساطعہ سے معمور ایک مدلل و تابناک تحریر آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں، جس میں افضلیتِ شیخینِ کریمین کو آیاتِ قرآنیہ، احادیث مصطفویہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور اقوالِ ائمہ و محدثین اور حضرتِ مولائے کائنات کے ارشاداتِ حقہ کی روشنی میں انتہائی واضح، مؤثر اور جامع اسلوب میں بیان کریں گے۔
نورِ قرآن و مقامِ صدیق
بلا شبہ قرآن مجید وہ مینارِ نور ہے جس کی ضیاؤں سے حق و باطل کے پردے چاک ہو جاتے ہیں۔ اسی کلامِ ربانی میں جہاں انبیائے کرام علیہم السلام کی شان و رفعت موجود ہے، وہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت بھی پنہاں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰى [سورۃ الاعلیٰ: ۱۷-۱۸]
ترجمہ کنز الایمان:
’’اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ ستھرا ہو۔‘‘
تمام مفسرین کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیتِ کریمہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی اور أَتْقَى یعنی سب سے بڑا متقی و پرہیزگار انھیں کو کہا گیا ہے۔ اور پھر سورۃ الحجرات میں یوں ہے:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ [سورۃ الحجرات: ۱۳]
ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت و فضیلت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی و پرہیزگار ہو۔
ان دونوں آیتِ کریمہ کے ملانے سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ سے افضل ہے۔ چنانچہ مشہور کتابِ شرحِ عقائدِ نسفی ص: ۱۰۷ میں ہے: افضل البشر بعد نبینا ابو بکر الصدیق ثم عمر الفاروق ثم عثمان ذوالنورین ثم علی المرتضیٰ۔ یعنی تمام نبیوں کے بعد بشر میں سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان ذوالنورین، پھر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔
اور امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تاریخِ الخلفاء میں فرماتے ہیں:
اجمع اہل السنۃ أن افضل الناس بعد رسول اللہ ابو بکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی ثم سائر العشرۃ ثم باقی أہل بدر ثم باقی أہل أحد ثم باقی أہل البیعۃ ثم باقی الصحابۃ ھکذا حکی الاجماع علیه أبو منصور البغدادی۔
یعنی علمائے اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تمام امت سے افضل ہیں، آپ کے بعد حضرت عمر، پھر حضرت عثمان، پھر حضرت علی، پھر عشرۃ مبشرہ، پھر اہلِ بدر، پھر اہلِ احد، پھر باقی اہلِ بیعت، پھر باقی تمام صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ ابو المنصور بغدادی نے اجماع اسی طرح نقل کیا ہے۔ [ماخوذ: فتاویٰ فیض الرسول، ج: ۱، ص: ۸۴، دار الاشاعت فیض الرسول، براؤں شریف]
یوں آیاتِ قرآنی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام کو اوجِ ثریا سے بلند تر کر دیا اور ان کی ذاتِ ستودہ کو شرف و فضیلت کا منبعِ نور بنا دیا۔
انوارِ حدیث اور مرتبۃ شیخین
حدیثِ رسول وہ مہرِ منیر ہے جو قرآن مجید اور شریعتِ مطہرہ کی صریح اور عملی تصویر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب قدیر نے اپنی اطاعت کو اپنے پیارے محبوب کی پیروی قرار دیتے ہوئے فرمایا:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ [سورۃ النساء: ۸۰]
اور دوسرے مقام پر فرمایا:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ [سورۃ الحشر: ۷]
ان آیاتِ محکمات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بعینہ اطاعتِ خداوندی ہے۔
لہٰذا اسی اصول کے تحت جب ہم احادیث نبویہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں سب سے زیادہ فضیلت حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو عطا فرمائی ہے۔
اسی بنا پر ہم بھی فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق شیخینِ کریمین کو تمام صحابہ کرام سے افضل و برتر مانتے ہیں۔ چنانچہ چند فرمانِ نبوی بطورِ نمونہ ذیلِ نظر ہیں:
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو درداء! تم ایسے شخص سے آگے چل رہے ہو جو دنیا اور آخرت میں تم سے بہتر ہے؟ انبیاء و مرسلین کے بعد ’’ابو بکر‘‘ سے افضل کسی بھی شخص پر کبھی سورج طلوع ہوا ہے اور نہ ہی غروب۔“ [تاریخ بغداد، ج: ۱۲، ص: ۴۳۳، دار الکتب العلمية، بیروت]
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر اور عمر انبیاء کے بعد تمام جنتی جوانوں اور بوڑھوں کے سردار ہیں۔“ [مسند احمد، ج: ۲، ص: ۴۰، مؤسسۃ الرسالہ]
- نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتدا کرو ان کی جو میرے بعد ہوں گے یعنی ابو بکر و عمر۔“ [سنن ابنِ ماجہ، ج: ۱، ص: ۲۱۸، حدیث: ۹۶، دار التاصیل]
- نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس ساری امت کا ایمان ابو بکر کے ایمان سے تولا جائے تو ابو بکر کا ایمان غالب آ جائے۔“ [مسند الفردوس للدیلمی، ج: ۲، ص: ۲۱۱، حدیث: ۵۱۴۸، دار الکتب العلمية، بیروت]
آیاتِ قرآنی کے بعد احادیث نبوی نے بھی مقامِ شیخین کو عالمِ آفتاب کی طرح منور کر دیا۔
قارئین کرام! اب آپ فیصلہ کریں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہم کر رہے ہیں یا رافضی؟
اجماعِ امت اور عظمتِ شیخین
شریعت میں اجماع کہتے ہیں کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صالح مجتہدین کا کسی ایک زمانے میں کسی قولی یا فعلی مسئلے پر اتفاق ہونا۔ [نور الانوار، ص: ۶۲۱، مکتبہ بشریٰ، کراچی]
یہی تسلسل نے امتِ محمدیہ کی علمی و عملی بصیرت کو اجاگر کرنے کا سبب بنا، اور اجماع کو ایسی قطعی حجت قرار دیا گیا کہ اسے شرعی دلائل میں شمار کیا جانے لگا۔
لہٰذا امت کے یہی متوارث اتفاق نے شیخینِ کریمین کی افضلیت کو ثابت اور ناقابلِ انکار امر قرار دیا۔
اب اسی اجماعی مؤقف کی تائید میں ائمہِ دین، أولیاءِ کاملین اور اکابرِ امت کے چند مستند اقوال بطورِ برہان پیشِ خدمت ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
- حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں امت میں سب سے بہتر حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان کو کہا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری، باب فضائلِ أبی بکر بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ص: ۸۹۹، حدیث: ۳۶۵۵، دار ابن کثیر]
- حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخصیت حضرت ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان بن عفان اور پھر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ [فقہ أکبر، ص: ۱۰۷-۱۱۰، مکتبۃ المدینہ]
- حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس ساری امت میں سب سے بہتر شخصیت حضرت ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان بن عفان اور پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ [مناقب احمد لابن الجوزی الترکی، ج: ۱، ص: ۲۱۴، دار ھجر]
- حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام اور ان کے متبعین کا حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین کی افضلیت پر اجماع ہے۔ [فتح الباری، ج: ۷، ص: ۲۰، کتاب فضائلِ أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، المکتبۃ الأشرفیہ، دیوبند، الھند]
- حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ابو بکر صدیق اور ان کے بعد عمر فاروق، پھر فرمایا کیا اس بارے میں کوئی شک ہے؟ [الصواعق المحرقہ، الباب الثالث، ص: ۱۷۹، مکتبہ فیاض للتجارۃ و التوزیع]
- حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ان دس نیکوکار حضرات میں سے چاروں پسندیدہ خلفائے راشدین افضل ہیں، ان چار میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، پھر حضرت عمر بن خطاب، پھر حضرت عثمانِ غنی، اور پھر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ [غنیۃ الطالبین، ص: ۲۶۳ (اردو)، فرید بک سٹال]
- حضرت کمال بن ہمام فرماتے ہیں: خلفائے أربعہ کی فضیلت ان کی ترتیبِ خلافت کے اعتبار سے ہے یعنی سب سے افضل حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ [کتاب المسامرۃ فی شرح المسایرہ، ج: ۱، ص: ۱۵۶، المکتبہ الازھریہ للتراث]
- حضرت خواجہ أبو الحسین سید احمد نوری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے افضل سیدنا صدیق أکبر ہیں، ان کے بعد حضرت عمر فاروق، ان کے بعد عثمانِ غنی، ان کے بعد مرتضیٰ علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ [سراج العوارف، ص: ۶۲، برکاتی پبلشز]
- حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے أصحاب میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں جن کے فضائل و کمالات بے شمار ہیں، پھر بالترتیب حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ [ماخوذ: الأسالیب البدیعہ، ص: ۴۳ (اردو)، نوریہ رضویہ پبلشز]
- حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں افضل خلفائے راشدین حسبِ ترتیبِ خلافت ہیں۔ [مذکورہ حوالہ، ص: ۴۵]
- حضرت امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جمیعِ اہلِ سنت و جماعت کا اس بات پر اتفاق و اجماع ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے وہ ۱۰ افضل ہیں جنہیں زبانِ رسالت سے نامِ جنت کا مژدہ ملا، پھر ان میں سے افضل ابو بکر، پھر عمر رضی اللہ عنہما ہیں، ان کے بعد أکثرِ اہلِ سنت حضرت عثمان کو افضل قرار دیتے ہیں، پھر چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مذکورہ حوالہ، ص: ۶۴]
حضرتِ علی اور افضلیتِ شیخین
حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و عرفان، زہد و تقویٰ، عدالت و شجاعت میں بلند مقام رکھنے والے جلیل القدر صحابی، حیدرِ کرّار اور دامادِ رسول تھے۔ آپ کو حضراتِ شیخین سے سچی محبت اور والہانہ عقیدت تھی، اور آپ ہمیشہ حضراتِ کریمین کو اپنے سے افضل قرار دیتے تھے۔ یہی حقیقت آج نام نہاد مولائی کے منہ کو بند کرنے کے لیے کافی و شافی جواب ہے۔ ذیل میں حضرتِ علی کے چند اقوالِ روشن دلیل ہیں:
- حضرتِ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس أمت میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ [المعجم الأوسط، ج: ۵، ص: ۳۱۸، حدیث: ۵۴۲۱، دار الحرمین]
- حضرتِ علی شیرِ خدا کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس جب حضرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہوتا تو آپ انہیں کثرت سے آگے بڑھنے والے فرماتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم کسی نیکی کے کام میں آگے بڑھنا چاہتے تو حضرت ابو بکر ہم سے آگے ہوتے۔ [المعجم الأوسط، ج: ۷، ص: ۱۶۴، حدیث: ۷۱۶۸، دار الحرمین]
- حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ تو فرمایا: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، میں نے پوچھا پھر کون ہے؟ فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، اور میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نام لینے سے ڈرا اور پوچھا پھر تو آپ ہیں؟ تو حضرتِ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو مسلمانوں میں سے ایک مسلمان شخص ہوں۔ [صحیح البخاری، باب أصحابِ النبی، ص: ۹۰۲، حدیث: ۳۶۷۱، دار ابن کثیر، بیروت]
- آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اللہ عزوجل سے تین بار علی کو مقدم کرنے کا سوال کیا لیکن اللہ عزوجل اس بات کو نہیں مانا اور حضرت ابو بکر صدیق کو مقدم فرمایا۔ [فضائل أبی بکر الصدیق للعشاری، ص: ۳۰، حدیث: ۱۰، مکتبہ شاملیہ]
- حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگوں نے باہم بیٹھ کر گفتگو کی ہے، اور انہوں نے حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دی ہے۔ یہ گفتگو حضرتِ علی رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ممبر پر تشریف لائے اور اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دی ہے اور میرے پاس کوئی مقدمہ نہیں لایا گیا، اگر لایا جاتا تو میں ضرور سزا نافذ کرتا اور حاکم کو نہیں چاہیے کہ کسی کو سزا دے جب تک مقدمہ سامنے نہ آئے۔ سن لو، میرے قیام کے بعد جو شخص مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے گا اس پر وہی سزا چلے گی جو مفتری پر چلتی ہے۔ [تاریخ ابن عساکر، ج: ۳۰، ص: ۳۶۹، دار الفکر]
قارئین کرام! یہی سبب تھا کہ جب بعض منصفِ اہلِ تشیع پر حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقوالِ منکشف ہوئے تو انہوں نے اپنے باطل عقیدے سے توبہ کر کے اہلِ سنت و جماعت میں داخل ہو گئے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ’’الصواعق المحرقہ‘‘ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
بعضِ منصفانِ شیعہ مثل عبد الرزاق محدث صاحب ’’مصنف‘‘ نے باوصفِ تشیع تفصیلِ شیخین اختیار کی اور کہا: جب خود حضرتِ مولا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الانسی انہیں اپنے نفسِ کریم پر تفصیل دیتے ہیں تو مجھے اس کے اعتقاد سے کب مفر ہے؟ مجھے یہ کیا گناہ تھوڑا ہے کہ علی سے محبت رکھوں اور علی کا خلاف کروں؟ [رسائلِ رضویہ، ج: ۳۷، ص: ۳۲۶، امام احمد رضا اکیڈمی]
قارئینِ کرام! اگر یہ رافضی واقعی ’’مولائی‘‘ ہوتے تو یقیناً حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نقشِ قدم پر چلتے اور ان کے ارشاداتِ گرامی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات مولائی نہیں بلکہ محض نام کے مولائی اور دراصل رافضی ہیں۔ مذکورہ تمام تر دلائلِ شمس و امس کی روشنی اس بات کو واضح کر دیتی ہیں کہ افضلیتِ شیخینِ کریمین رضی اللہ عنہما اہلِ سنت کا متفق علیہ اور شریعتِ مطہرہ کے عین مطابق عقیدہ ہے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ رافضی عقائد و نظریات سے خود بھی دور رہیں اور اپنی نسلوں کو بھی ان سے محفوظ رکھیں۔ چنانچہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق حدیثِ شریف ہے:
فَإِيَاكُمْ وَإِيَاهُمْ لَا يَفْتِنُوكُمْ [مسند احمد، ج: ۱۴، ص: ۲۵۳، حدیث: ۸۵۹۶، مؤسسۃ الرسالہ]
مزید تفصیل و تحقیق کے لیے امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز رسالہ ’’مطلع القمرین‘‘ کا بنظرِ عمیق مطالعہ فرمائیں۔
اللہ پاک ہمیں تمامِ فِرَقِ باطلہ سے محفوظ و مامون، اہلِ سنت پر قائم و دائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین
