دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام میں نکاح کی شرعی حیثیت

اسلام میں نکاح کی شرعی حیثیت
اسلام میں نکاح کی شرعی حیثیت
عنوان: اسلام میں نکاح کی شرعی حیثیت
تحریر: محمد رضا اشرفی باسنوی
پیش کش: دار العلوم فیضان اشرف باسنی، راجستھان

نکاح ایک ایسا عمل ہے جو تمام ادیان میں پایا جاتا ہے، اور اسلام میں اس کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے، حتیٰ کہ اس کو عبادت تک قرار دیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک نکاح نوافل میں مشغول رہنے سے افضل ہے۔ نکاح نسلِ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہے، اور ہمارے آقا و مولیٰ حضور تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کرنے کی ترغیب بھی دی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:

النكاح من سنتي. فمن لم يعمل بسنتي فليس مني. وتزوجوا فإني مكاثر بكم الأمم [سنن ابن ماجہ، ج: ۱، ص: ۵۹۲، حدیث: ۱۸۴۶، دار الفکر، بیروت]

ترجمہ: یعنی نکاح کرنا میری سنت ہے، تو جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں، اور نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا۔

ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:

اِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ اِسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّیْنِ فَلْیَتَّقِ اللہ فِی النِّصْفِ الْبَاقِیْ [شعب الایمان، ج: ۴، ص: ۳۸۲، حدیث: ۵۴۸۶، دار الکتب العلمیہ، بیروت]

ترجمہ: یعنی جو کوئی نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا ایمان مکمل کر لیتا ہے، اور باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرتا رہے۔

ان دونوں حدیثوں میں نکاح کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے، یہاں تک کہ نکاح کرنے والے کو نصف ایمان کی تکمیل کی سند عطا کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح انسان کو بے حیائی اور بری باتوں سے روکتا ہے، کیونکہ ہر انسان کے پاس نفس ہے جس کے کچھ تقاضے ہیں، اور ان تقاضوں کا پورا کرنا انسان کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے اسلام نے نکاح کا نظام قائم کیا تاکہ انسان زنا، لواطت اور دیگر فحش کاموں سے بچے، اور نکاح جیسی پاکیزہ سنت کو ادا کر کے اپنی زندگی کو طہارت و پاکیزگی عطا کرے۔

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کی متعدد صورتیں ہیں:

  • اعتدال کی حالت میں یعنی نہ شہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو نہ عنین (نامرد) ہو اور مہر و نفقہ پر قدرت بھی ہو تو نکاح سنّتِ مؤکدہ ہے کہ نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا گناہ ہے اور اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سنّت و تعمیلِ حکم یا اولاد حاصل ہونا مقصود ہے تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذّت یا قضاءِ شہوت منظور ہو تو ثواب نہیں۔
  • شہوت کا غلبہ ہے کہ نکاح نہ کرے تو معاذ اللہ اندیشہِ زنا ہے اور مہر و نفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب۔ یوہیں جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تو نکاح واجب ہے۔
  • یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے۔
  • اگر یہ اندیشہ ہے کہ نکاح کرے گا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کر سکے گا تو مکروہ ہے اور ان باتوں کا یقین ہو تو نکاح کرنا حرام مگر نکاح بہرحال ہو جائے گا۔ [بہار شریعت، ج: ۲، ص: ۶]

اب سوال یہ ہے کہ جس میں نکاح کی استطاعت نہ ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟

اس کا جواب حدیثِ مبارکہ میں موجود ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جس میں نکاح کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ قاطعِ شہوت ہے۔

سبحان اللہ! دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے جو انسان کی ہر جہت میں رہنمائی کرتا ہے۔ اس نے ہمیں نکاح جیسی پاکیزہ نعمت عطا فرما کر زنا، لواطت اور مشت زنی جیسی بے حیائیوں کے دلدل سے نکال کر صراطِ مستقیم پر گامزن کر دیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی توفیقِ خیر نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔