دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور حافظ ملت اور ادب و احترام

حضور حافظ ملت اور ادب و احترام
عنوان: حضور حافظ ملت اور ادب و احترام
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی بنارسی

ادب و احترام ہمارے دین اسلام کا بڑا اہم باب ہے۔ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ادب و احترام تو دین کی بنیاد میں شامل ہے۔ جب کہ علمائے دین، مشائخ کرام، اساتذہ اور دینی کتب کا ادب و احترام بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔

حافظ ملت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ادب و احترام کا پہلو بہت زیادہ نمایاں ہے: بزرگوں کا ادب، اساتذہ کا ادب، کتابوں کا ادب وغیرہ ذلک۔ آئیے حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا اس زاویے سے مطالعہ کریں!

اساتذہ کا ادب و احترام:

پیارے اسلامی بھائیو! ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ جو اساتذہ کا ادب و احترام نہیں کرتا، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، اسے علم کی برکتیں نصیب نہیں ہو سکتیں، علامہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس سے تم علم سیکھو اس کا ادب و احترام کرو اور جس کو تم علم سکھاؤ اس کی بھی تعظیم کرو! [الجامع لأخلاق الراوي، ج: 1، ص: 343]

اب حضور حافظ ملت کی زندگی کو دیکھیں! حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ (اپنے استاد) حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ہمیشہ دوزانو بیٹھا کرتے، اگر صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ ضرورتاً کمرے سے باہر تشریف لے جاتے تو طلبہ کھڑے ہوجاتے اور ان کے جانے کے بعد بیٹھ جاتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ادباً دوبارہ کھڑے ہوتے لیکن حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ اس پورے وقفے میں کھڑے ہی رہتے اور حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسند تدریس پر تشریف فرما ہونے کے بعد ہی بیٹھا کرتے۔ [حیات حافظ ملت، ص: 70، ملخصاً]

حضرت مولانا تجمل ہدیٰ صاحب نے ایک بار بیان فرمایا کہ صاحبزادہ گرامی مرتبت مولانا عبد الحفیظ صاحب کو ابتدائی درجوں کی کچھ کتابیں پڑھاتا رہا۔ انہیں ایام میں ایک بار عزیز ملت، حضور حافظ ملت کے پاس تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی درمیان میں حاضر بارگاہ ہوا، تو ارشاد فرمایا: ”عبد الحفیظ! یہ تمہارے استاد ہیں، استاد کا ادب ضروری ہے۔“ [حیات حافظ ملت، ص: 66]

کتابوں کا ادب:

حضور حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ قیام گاہ پر ہوتے یا درس گاہ میں، کبھی کوئی کتاب لیٹ کر یا ٹیک لگا کر نہ پڑھتے نہ پڑھاتے، بلکہ تکیہ یا تپائی (ڈیسک) پر رکھ لیتے، قیام گاہ سے مدرسہ یا مدرسے سے قیام گاہ کبھی کوئی کتاب لے جانی ہوتی تو داہنے ہاتھ میں لے کر سینے سے لگا لیتے، کسی طالب علم کو دیکھتے کہ کتاب ہاتھ میں لٹکا کر چل رہا ہے تو فرماتے: ”کتاب جب سینے سے لگائی جائے گی تو سینے میں اترے گی اور جب کتاب کو سینے سے دور رکھا جائے گا تو کتاب بھی سینے سے دور ہوگی۔“ [شان حافظ ملت، ص: 6]

امیر اہل سنت حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: استاد اور کتابوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کیا جائے، ان شاء اللہ علم کی روح حاصل ہوگی۔ [امیر اہل سنت، 786 نصیحتیں، ص: 61]

قرآن پاک کا ادب:

ایک مرتبہ چھٹی کے بعد کئی طلبہ دارالعلوم اہل سنت اشرفیہ کی سیڑھیوں کے پاس حضور حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت و ملاقات کے لیے منتظر کھڑے تھے، آپ تشریف لائے تو سب طلبہ پاس ادب (ادب کا خیال) رکھتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ اچانک آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک طالب علم سے فرمایا: ”آپ آگے آگے چلیں۔“ یہ سن کر وہ طالب علم جھجکے تو فرمایا: ”آپ کے پاس قرآن شریف ہے، اس لیے آگے چلنے کو کہہ رہا ہوں۔“ [حیات حافظ ملت، ص: 66، ملخصاً]

اے عاشقان حافظ ملت! ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بڑوں کا، اساتذہ کرام کا، کتابوں کا ادب و احترام کریں! ان شاء اللہ الکریم اس کی برکت سے بہت کچھ نصیب ہوگا، جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ حضرت حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف اساتذہ اور دینی کتابوں کا ادب کرتے بلکہ دوسروں کو بھی ان کا ادب و احترام کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ حضرت امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ہمارے بزرگ سادہ کاغذ کا ادب کرگئے، کاش! ہم بھی اپنی قلم، کتب کا ادب کریں! [امیر اہل سنت، 786 نصیحتیں، ص: 56]

محفوظ سدا رکھنا شہا! بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

عمران رضا عطاری مدنی
المدینۃ العلمیہ، احمد آباد

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔