| عنوان: | سیرتِ مردِ حق حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | ابو تراب الحق شاہ محمد ریاض الحق علوی قادری |
| پیش کش: | علوی سنی اسلامک سینٹر نیشنل و چیریٹیبل ٹرسٹ، سریگام، بھلار واپی، گجرات |
آپ کا نام ہندوستان کے مشہور بزرگ حضرت ”شاہ تراب الحق“ کے نام پر رکھا گیا جن کا مزارِ مبارک حیدرآباد دکن میں موجود ہے۔ لہٰذا آپ کا نام سید شاہ تراب الحق قادری ہوا۔
ولادت
سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت ہندوستان کے شہر ناندھیڑ میں ۱۹۴۴ء مطابق ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۶۳ھ کو ہوئی۔
والدین
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد کا نام حضرت سید شاہ حسین قادری رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ کا نام اکبر النساء بیگم تھا۔
تعلیم
سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد دکن میں حاصل کی اور پھر ہجرت کر کے پاکستان پہنچنے کے بعد پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانا قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کتابیں پڑھیں۔
پھر دار العلوم امجدیہ پاکستان سے مزید دینی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت و خلافت
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ۱۹۶۸ء میں بریلی شریف حاضر ہو کر امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چھوٹے صاحبزادے الشاہ حضور مفتیِ اعظمِ ہند مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہاتھوں بیعت ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہوئے۔
آپ کو اپنے پیر و مرشد حضور مفتیِ اعظمِ ہند حضرت علامہ مولانا مصطفیٰ رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے، پیرِ طریقت حضرت علامہ قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سے، اور کتبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمٰن مدنی سے خلافت و اجازت حاصل تھی۔
نکاح و اولاد
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نکاح ۱۹۶۶ء میں حضرت علامہ قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی سے ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین صاحبزادے اور چھ صاحبزادیاں عطا فرمائیں:
- سید شاہ سراج الحق صاحب
- جانشینِ مردِ مومن مردِ حق حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری مدظلہ العالی
- سید شاہ فرید الحق قادری
سیاست و قیادت
سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سیاست میں بھرپور کردار ادا کیا اور ساتھ ہی تحریکِ ختمِ نبوت اور تحریکِ نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں نمایاں کام کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے کئی بڑے عہدوں پر فائز ہو کر دینِ متین کی خدمت کی۔
آپ نے سیادت، سیاست، قیادت، خطابت، امامت کے ساتھ ساتھ تصنیف کے میدان میں بھی قدم رکھا اور کئی کتابیں لکھ کر عوامِ اہلِ سنت کو فیض پہنچایا۔ آپ کی چند تصانیف یہ ہیں:
- تصوف و طریقت
- خواتین اور دینی مسائل
- جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
- امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ
- مزاراتِ اولیاء اور توسل
- فلاح دارین
- رسولِ خدا کی نماز
- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے محبت
- مبلغ بنانے والی کتاب
- دینی تعلیم
- انوار القرآن (تفسیر سورۃ الفاتحہ تا سورۃ الناس)
- مبارک راتیں
- اسلامی عقائد
- جنتی لوگ کون
- فضائلِ شعبان المعظم
- مسنون دعائیں
- فضائلِ صحابہ
- دعوت و تنظیم
- تفسیر سورۃ الفاتحہ
اس کے علاوہ کئی کتابچے، مقالے اور تحریریں ہیں جن سے لوگ اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔
رحلت
حضرت سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ طویل علالت کے بعد پاکستان کے ایک ہسپتال میں ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء مطابق ۱۴ محرم الحرام ۱۴۳۸ھ بروز جمعرات ۷۲ سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔
آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے صاحبزادے و جانشین پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری مدظلہ العالی نے پڑھائی۔
مزارِ مبارک
آپ کا مزارِ مبارک میمن مسجد مصلح الدین گارڈن، کراچی، پاکستان میں حضرت علامہ قاری مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ مبارک کے پہلو میں ہے۔
اللہ پاک شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار و تجلیات اور رحمت و رضوان کی بارشیں نازل فرمائے، درجات بلند فرمائے، ہم سب سنی مسلمانوں کو فیضانِ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ سے مالامال فرمائے۔ آمین
آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تبارک و تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
