| عنوان: | مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے |
|---|---|
| تحریر: | بنت محمد یونس |
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرت، گفتار، اخلاق، اور انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں میں ہمیں بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دینِ اسلام میں انسانیت کی عزت، نرمی، توجہ، اور خلوصِ نیت کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے۔ کسی شخص کی بات کو نظر انداز کرنا، اس کی موجودگی کو اہمیت نہ دینا، یا گفتگو کے دوران بے توجہی کا مظاہرہ کرنا، اسلام کے اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہر شخص، خواہ امیر ہو یا غریب، عالم ہو یا عام انسان، سب کو عزت و احترام سے سنا جائے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُۥ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمۡ تُرْحَمُونَ [سورۃ الاعراف: ۲۰۴]
ترجمہ کنز العرفان:
’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
اگر اللہ کے کلام کو سننے کے لیے توجہ اور خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تو انسانوں کی باتوں کو غور سے سننا اور ان کی عزت کرنا بھی ایمان کا تقاضا ہے۔ قرآن ہمیں نہ صرف اللہ کے کلام کی تعظیم سکھاتا ہے بلکہ عمومی طور پر ’’سننے‘‘ کے ادب کی بھی تربیت دیتا ہے۔
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ۪ [سورۃ آل عمران: ۱۵۹]
ترجمہ کنز العرفان:
’’تو اے حبیب! اللہ کی کتنی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم دل ہیں اور اگر آپ ترش مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔‘‘
یہ آیتِ مبارکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ دوسروں سے نرمی، توجہ اور محبت سے پیش آنا ہی دلوں کو جوڑتا ہے۔ کسی کو نظر انداز کرنا سخت دلی کی علامت ہے جس سے لوگ دور ہو جاتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ [صحیح بخاری، ج: ۸، ص: ۱۵، حدیث: ۶۰۷۲]
ترجمہ:
’’مدینہ کی کوئی بھی لونڈی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اپنی بات کے لیے لے جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ چلے جاتے اور اس کی بات پوری توجہ سے سنتے۔‘‘
یہ حدیثِ مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی، انکساری اور مخاطب کی بات پر توجہ دینے کی بہترین مثال ہے۔
حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ... وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ [صحیح مسلم، ج: ۴، ص: ۱۷۰۳، حدیث: ۲۱۶۲]
ترجمہ:
’’مسلمان پر مسلمان کے چھ حقوق میں سے ہے... جب وہ تمہیں بلائے تو اس کی دعوت قبول کرو (یعنی جواب دو)۔‘‘
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مخاطب کی پکار کا جواب دینا اور اسے نظر انداز نہ کرنا ایک دینی ذمہ داری ہے۔
سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ایک دن مدینہ منورہ کی ایک بڑھیا عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعوت قبول کی، اس کے گھر گئے، اور جو کھانا وہ پیش کرتی رہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اور مسکراہٹ کے ساتھ کھاتے رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس کی دعوت قبول کی بلکہ پورا وقت اس کی بات سنتے رہے، یہاں تک کہ وہ خود ہی اجازت لے کر رخصت ہوئیں۔ [المعجم الأوسط للطبرانی، ج: ۳، ص: ۱۱۲، حدیث: ۲۴۳۱]
اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات کو احترام، خاموشی، اور توجہ کے ساتھ سنیں۔ مخاطب کو نظر انداز کرنا دراصل اس کی دل آزاری اور تکبر کی علامت ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود غلاموں، بچوں اور عورتوں کی بات بھی غور سے سنی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی گفتگو میں عاجزی، نرمی، اور تحمل کو شامل کریں تاکہ معاشرہ محبت، احترام، اور ہم آہنگی سے بھر جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہِ حسنہ پر عمل کر کے ہم نہ صرف دوسروں کے دلوں میں جگہ بنا سکتے ہیں بلکہ اللہ کی رحمت کے بھی مستحق بن سکتے ہیں۔
