| عنوان: | سوانح حیات آفتاب الہ آباد حضرت مخدوم سید شاہ منور علی قادری علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | سید کاشف حسین جیلانی قادری |
آج میں جس عظیم المرتبت بزرگ کے تذکرۂ خیر کے لیے قلم اٹھا رہا ہوں، وہ ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ دنیا انھیں آفتابِ الہ آباد، عطائے غوثِ اعظم، نبیرۂ سید الطائفہ، حضرت مخدوم سلطان سید شاہ منوّر علی قادری جنیدی بغدادی ثم الہ آبادی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ سلسلۂ اولیاء کرام میں نہایت بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں آپ کی حیاتِ مبارکہ کے چند نمایاں گوشے قارئین کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔
ولادتِ باسعادت
حضرت سیدنا منوّر علی شاہ قادری رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت ۱۱ رمضان المبارک ۴۹۱ھ مطابق ۱۵ اگست ۱۰۹۸ء کو بغدادِ مقدس میں ہوئی۔ [ماخوذ از: حیاتِ جلیل]
نسبِ شریف
آپ کا شجرۂ نسب حضرت جنیدِ بغدادی قدس سرہ العزیز سے جا ملتا ہے:
حضرت سیدنا منوّر علی شاہ بن حضرت شیخ عبد اللہ بن حضرت شیخ عثمان بن حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی قدس اللہ اسرارہم۔
حضرت جنیدِ بغدادی رضی اللہ عنہ کا نسبِ مبارک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِ امجد عبد مناف سے جا ملتا ہے، یوں آپ کو سلسلۂ نسب میں قربِ نبوی حاصل ہے۔
نسبتِ جنیدیہ
جیسا کہ اوپر واضح ہوا، حضرت منوّر علی شاہ قادری، حضرت جنیدِ بغدادی قدس سرہ کی نسلِ پاک سے ہیں، اور شجرۂ طریقت میں حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے چھٹے مرشد حضرت جنیدِ بغدادی ہی ہیں۔
یہ دونوں سلسلے اس طرح ہیں:
- حضرت سیدنا غوث الاعظم عبد القادر جیلانی
- حضرت شیخ ابو سعید مخزومی
- حضرت شیخ ابو الحسن بخاری
- حضرت شیخ ابو الفرج طرطوسی
- حضرت شیخ عبد الواحد تمیمی
- حضرت شیخ ابو بکر شبلی
- حضرت جنیدِ بغدادی رضی اللہ عنہم
حضرت منوّر علی شاہ قادری، حضرت غوثِ اعظم کے پروردۂ خاص، مریدِ خاص، خادمِ خاص اور خلیفۂ مجاز تھے۔ یہ قرب و اختصاص آپ کی مقبولیت و عظمت پر روشن دلیل ہے۔
تعلیم و تربیت
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت شیخ عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی زیرِ نگرانی حاصل کی۔ علومِ ظاہری میں کمال حاصل کرنے کے بعد علومِ باطنی کی تکمیل کے لیے بارگاہِ غوثیت مآب میں حاضر ہوئے۔ آپ نے تقریباً بیالیس سال تک حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمتِ بابرکت میں رہ کر فیوض و انوار حاصل کیے۔
تبرکاتِ غوثِ اعظم
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت منوّر علی شاہ رضی اللہ عنہ وصالِ غوثِ اعظم تک ان کے قرب و خدمت میں رہے۔ وصال کے بعد آپ حضرت سید کبیر الدین شاہ دولہ گجراتی قدس سرہ کے ہمراہ گجرات تشریف لے گئے اور سولہ برس تک ان سے باطنی تربیت حاصل کی۔ پھر آپ کو اجازت و خلافت کے ساتھ تبرکاتِ غوثی سے نوازا گیا اور الہ آباد کی جانب روانہ فرمایا گیا۔
عمرِ طویل کا فیض
ایک مشہور روایت کے مطابق حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ کو آبِ حیات عطا فرمایا، جس کے پینے سے آپ کو ساڑھے چھ سو (۶۵۰) برس کی طویل عمر نصیب ہوئی۔ اسی وجہ سے آپ کے سلسلے کو ”سلسلۂ سو معمریہ منوریہ“ کہا جاتا ہے کہ اس میں اکثر مشائخ طویل العمری کے فیض یافتہ ہوئے۔
شیخ العالم کا خطاب
حضرت شاہ کبیر الدین شاہ دولہ گجراتی رضی اللہ عنہ نے حضرت غوثِ اعظم کا تاج آپ کے سر پر رکھا، عمامۂ غوثیہ قادریہ سے سرفراز فرمایا، اور اکابرِ اولیاء کی موجودگی میں آپ کو ”شیخ العالم“ کا لقب عطا کیا۔ [ماخوذ از: حقیقتِ گلزارِ صابری]
الہ آباد میں قیام
جب آپ الہ آباد تشریف لائے تو یہاں جنگلوں کا عالم تھا۔ آپ نے اسی مقام کو سکونت کے لیے اختیار فرمایا اور یہ مقام ہی بعد میں ”ہمت گنج شریف“ کہلایا، جہاں آج بھی آپ کا آستانۂ منوریہ مرجعِ خلائق ہے۔
خلفائے کرام
آپ نے بہت کم لوگوں کو مرید فرمایا۔ چند معروف خلفاء کے اسمائے گرامی درجِ ذیل ہیں:
- حضرت ملا فقیر عبد الکریم اخوند رامپوری قدس سرہ
- حضرت شاہ عالم دہلوی قدس سرہ
حضرت غلام عبد القادر کی نسبت
راجہ کاشی کی اولاد نہ تھی۔ اس نے آپ کی بارگاہ میں دعا کی۔ اللہ کے فضل سے اسے فرزند عطا ہوا جس کا نام آپ نے غلام عبد القادر رکھا۔ یہ فرزند بعد میں آپ کا محبوب مرید بنا۔
آپ نے فرمایا: ”میرے وصال کے بعد میرا زائر پہلے غلام عبد القادر کے آستانے پر حاضری دے، پھر میرے پاس آئے۔“ چنانچہ آج بھی حضرت غلام عبد القادر کا مزارِ شریف آپ کے مزار کے بالمقابل مغرب کی جانب واقع ہے۔
وصالِ اقدس
آفتابِ ولایت، شیخ الاولیاء، حضرت منوّر علی شاہ قادری جنیدی بغدادی رضی اللہ عنہ کا وصال ۴ جمادی الآخرۃ ۱۱۹۹ھ میں الہ آباد شریف کے محلہ ہمت گنج میں ہوا۔
آپ کا مزار آج بھی اہلِ ایمان کے لیے مرکزِ عقیدت و فیضان ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اولیاء کرام کے فیوض و برکات سے ہمیشہ فیضیاب فرمائے اور ان کے علم و عرفان سے ہمارے قلوب کو منور کرے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
