دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بدشگونی اور ہماری معاشرتی غلط فہمیاں

بدشگونی اور ہماری معاشرتی غلط فہمیاں
عنوان: بدشگونی اور ہماری معاشرتی غلط فہمیاں
تحریر: محمد ارمان رضا عطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان مفتی اعظم، شاہ جہان پور

کیا اسلام نے کسی دن، وقت، مہینے یا کسی چیز کو برا کہا ہے؟ بعض لوگ کسی شخص، چیز، جگہ یا وقت وغیرہ کو اپنے حق میں برا جانتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے فلاں کا منہ دیکھ لیا اس لیے مجھے یہ برائی پہنچی، یہ بدشگونی ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں، قرآن و احادیث میں بدشگونی کی مذمت بیان کی گئی ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ پاک نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان: تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے، سن لو! ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔ [الاعراف: 131]

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت (قحط سالی وغیرہ) آتی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی مومنین سے بدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہر ہوئے ہیں تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔

(مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:) انسان مصیبتوں، آفتوں میں پھنس کر توبہ کرلیتا ہے مگر وہ لوگ ایسے سرکش تھے کہ ان سب سے ان کی آنکھیں نہ کھلیں بلکہ ان کا کفر و سرکشی اور زیادہ ہوگئی کہ جب کبھی ہم ان کو آرام دیتے ہیں، ارزانی، چیزوں کی فراوانی وغیرہ تو وہ کہتے کہ یہ آرام و راحت ہماری اپنی چیزیں ہیں، ہم اس کے مستحق ہیں نیز یہ آرام ہماری اپنی کوششوں سے ہیں۔ [تفسیر نعیمی، ج: 9، ص: 171]

بدشگونی کا مطلب

کسی چیز، شخص، کام، آواز یا وقت کو اپنے حق میں برا سمجھنا بدشگونی کہلاتا ہے۔ [بدشگونی، ص: 10]

بدشگونی لینا عالمی بیماری ہے، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں سے ایسی ایسی بدشگونیاں لیتے ہیں کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے۔

بدشگونی کی مختلف مثالیں

  1. کبھی اندھے، لنگڑے، ایک آنکھ والے اور معذور لوگوں سے تو کبھی کسی خاص پرندے یا جانور کو دیکھ کر یا اس کی آواز سن کر بدشگونی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
  2. کبھی کسی وقت یا دن یا مہینے سے بدفالی لیتے ہیں۔
  3. کبھی مہمان کی رخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو منحوس خیال کرتے ہیں۔
  4. کبھی جوتا اتارتے وقت جوتے پر جوتا آنے سے بدشگونی لیتے ہیں۔
  5. سیدھی آنکھ پھڑکے تو یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی مصیبت آئے گی۔
  6. کبھی بلی کے رونے کو منحوس سمجھتے ہیں تو کبھی رات کے وقت کتے کے رونے کو۔
  7. نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔
  8. حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر برا اثر پڑے گا۔
  9. جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں، نیز یہ سمجھتے ہیں کہ خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے۔
  10. کسی کا کنگھا استعمال کرنے سے دونوں میں جھگڑا ہوتا ہے۔
  11. خالی برتنوں یا چمچ آپس میں ٹکرانے سے گھر میں لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے۔
  12. دودھ پیتے بچے کے بالوں میں کنگھی کی جائے تو اس کے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں۔
  13. بچہ سویا ہوا ہو اس کے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔
  14. رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔
  15. انگلیاں چٹخانے سے نحوست آتی ہے۔

مذکورہ بالا بدشگونیوں کے علاوہ بھی مختلف معاشروں، قوموں، برادریوں میں مختلف بدشگونیاں پائی جاتی ہیں۔ [بدشگونی، ص: 15 تا 18، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ]

بدشگونی کی مذمت

مشرک قوموں میں مختلف چیزوں سے برا شگون لینے کی رسم بہت پرانی ہے اور ان کے توہم پرست مزاج ہر چیز سے اثر قبول کرلیتے، جیسے کوئی شخص کسی کام کو نکلتا اور راستے میں کوئی جانور سامنے سے گزر گیا یا کسی مخصوص پرندے کی آواز کان میں پڑجاتی تو فوراً گھر واپس لوٹ آتا، اسی طرح کسی کے آنے کو، بعض دنوں اور مہینوں کو منحوس سمجھنا ان کے ہاں عام تھا۔ اسی طرح کے تصورات اور خیالات ہمارے معاشرے میں بھی بہت پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلام اس طرح کی توہم پرستی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور اسلام نے جہاں دیگر مشرکانہ رسموں کی جڑیں ختم کیں وہیں اس نے بدفالی کا بھی خاتمہ کر دیا۔ [تفسیر صراط الجنان، ج: 3، ص: 412]

چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شگون شرک ہے، شگون شرک ہے، شگون شرک ہے، ہم میں سے ہر ایک کو ایسا خیال آ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے ہٹا کر توکل پر قائم فرما دیتا ہے۔“ [ابو داؤد، کتاب الطب، باب في الطيرة، ج: 4، ص: 23، الحدیث: 3910]

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسے کسی چیز کی بدفالی نے اس کے مقصد سے لوٹا دیا اس نے شرک کیا۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسا شخص کیا کفارہ دے؟ ارشاد فرمایا: ”یہ کہے اللّٰهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ۔“ اے اللہ! تیری فال کے علاوہ اور کوئی فال نہیں، تیری بھلائی کے سوا اور کوئی بھلائی نہیں اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ (یہ الفاظ کہہ کر اپنے کام کو چلا جائے۔) [مسند امام احمد، مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنهما، ج: 1، ص: 683، الحدیث: 7066]

احادیث میں بدشگونی کو شرک قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص بدشگونی کے افعال کو مؤثر حقیقی جانے تو شرک ہے اور یا مشرکوں کا فعل ہونے کی وجہ سے زجر اور سختی سے سمجھانے کے طور پر شرک قرار دیا گیا ہے۔ [تفسیر صراط الجنان، ج: 3، ص: 412]

بدشگونی کا بہترین علاج

یہاں معاشرے میں رائج بدفالیوں اور بدشگونیوں کا ایک بہترین علاج ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ حضرت عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس شگون کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: ”اس میں (نیک) فال اچھی چیز ہے۔ اور مسلمان کو کسی کام سے نہ روکے تو جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو یوں کہے: اللّٰهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔“ یعنی اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں نہیں لاتا اور تیرے سوا کوئی برائیاں دور نہیں کرتا، نہ ہم میں طاقت ہے اور نہ قوت مگر تیری توفیق کے ساتھ۔ [ابو داؤد، کتاب الطب، باب في الطيرة، ج: 4، ص: 25، الحدیث: 3919]

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یہ عمل بہت ہی مجرب ہے، ان شاء اللہ اس دعا کی برکت سے کوئی بری چیز اثر نہیں کرتی۔“ [مراۃ المناجیح، فال اور بدفالی لینے کا بیان، تیسری فصل، ج: 6، ص: 222، تحت الحدیث: 4387]

کسی شخص، جگہ، چیز یا وقت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں یہ محض وہم اور لوگوں کی گڑھی ہوئی باتیں ہوتی ہیں۔ بدشگونی میں دینی و دنیاوی دونوں طرح کے نقصانات ہیں ہمیں چاہیے بدشگونی کے علاج پر عمل کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں بدشگونی کے تقاضوں پر عمل نہ کریں۔ علم دین حاصل کریں کتابوں کا مطالعہ کریں علمائے کرام مفتیان کرام سے رابطے میں رہیں تو ان شاء اللہ اس سے بچے رہیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔