| عنوان: | دوستی کا اثر |
|---|---|
| تحریر: | مفتیہ ہانیہ فاطمہ قادریہ |
| پیش کش: | قادریہ اکیڈمی للبنات، احمدآباد، گجرات |
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصّٰدِقِينَ
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ [التوبۃ: 119]
اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطری طور پر ایک سماجی مخلوق بنایا ہے۔ وہ تنہا زندگی نہیں گزار سکتا بلکہ اپنے ماحول، ساتھیوں اور دوستوں کے اثر میں آتا ہے۔ یہی تاثر و اثر ایک اہم مقام رکھتا ہے جسے ہم کہتے ہیں: دوستی کا اثر۔
نیک لوگوں کی صحبت انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرتی ہے، نیک عمل کی رغبت بڑھاتی ہے اور وہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس برے لوگوں کی صحبت انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتی ہے، دل سے نرمی، حیا اور نیکی کی محبت ختم ہونے لگتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
اَلْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَن يُخَالِلُ
آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ [سنن ابی داؤد، حدیث: 2624]
اسی لیے والدین اور اساتذہ ہمیشہ بچوں کو نیک صحبت اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہیں، کیوں کہ دوستی کا اثر دیرپا اور گہرا ہوتا ہے۔ نیک صحبت انسان کو جنت کی راہ پر ڈالتی ہے، جب کہ بری صحبت غفلت، گناہ اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔
ایسے لوگ جو دین سے غافل ہوں، فاسق و فاجر ہوں یا دنیا پرست ہوں، ان کی سنگت انسان کو بھی اللہ اور اس کے دین سے دور کر دیتی ہے۔ اسی کی طرف قرآن مجید میں ایک دردناک منظر کھینچا گیا ہے:
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يٰٓلَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ترجمہ کنز العرفان: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا، کہے گا: ”اے کاش! کہ میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔“ [الفرقان: 28]
دوستی، تعلقات اور صحبتیں صرف وقتی ساتھ کا نام نہیں، بلکہ یہ دل اور دین پر اثر انداز ہونے والا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صالحین، صوفیا اور اہل حق ہمیشہ اچھی صحبت کی تلقین کرتے آئے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی دوستیوں اور میل جول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صالحین کے معیار پر پرکھیں۔ اپنی صحبتوں کو اللہ کے تقویٰ، علم، خیر خواہی اور نیکی کے دائرے میں رکھیں۔ تبھی ہم دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں گے، ان شاء اللہ الکریم۔
