| عنوان: | مختصر سیرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد شعبان وارثی، کشن گنج، بہار |
| پیش کش: | دی امان فاؤنڈیشن |
تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں، لیکن سب کے مرتبے برابر نہیں ہیں، کیونکہ اللہ پاک نے کسی کو ایمان جیسی عظیم نعمت سے نواز کر دوسروں سے ممتاز فرمایا، اور پھر اہلِ ایمان میں کسی کو علم و عمل تو کسی کو تقویٰ و پرہیزگاری دے کر دوسروں پر فضیلت بخشی۔ اسی لیے اللہ پاک نے مختلف مقرب بندوں کو مختلف اعتبار سے فضیلت سے نوازا ہے۔ نبیِّ کریم ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اللہ پاک نے دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے اصحاب سے افضل بنایا۔ صحابۂ کرام میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ خلفائے راشدین تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ انہی صحابہ کرام میں سے جلیل القدر صحابیِ رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کا اسمِ مبارک عبداللہ، کنیت ابوبکر، اور القابات صدیق و عتیق ہیں۔
ولادتِ باسعادت: عام الفیل کے اڑھائی سال بعد اور سرکارِ دو عالم ﷺ کی ولادت کے دو سال اور چند ماہ بعد پیدا ہوئے۔ [فیضانِ صدیقِ اکبر، ص: 33]
جائے پرورش اور دیگر معاملات: آپ رضی اللہ عنہ کی پرورش مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ اپنی قوم میں بڑے مالدار اور حسن و اخلاق کے پیکر تھے۔ [ماخذ: المرجع السابق]
قبولِ اسلام کا مختصر واقعہ
آپ رضی اللہ عنہ ایامِ جاہلیت میں ایک دن ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ اچانک اسی درخت کی ایک ٹہنی آپ کی طرف جھکنے لگی، یہاں تک کہ آپ کے سر سے لگ گئی۔ آپ اسے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اسی درخت سے آپ کے کانوں میں یہ آواز پہنچی کہ:
”اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ﷺ فلاں وقت ظاہر ہوں گے۔ تمہیں چاہیے کہ تم ان پر ایمان لاؤ اور ان کے دوست بن کر سب سے زیادہ سعادت مند ہو جاؤ۔“
آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھے اچھی طرح واضح کر کے بتاؤ کہ وہ نبی کون ہیں اور ان کا نام کیا ہے؟ اس نے کہا:
”محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب۔“
میں نے کہا: وہ تو میرے دوست اور میرے حبیب ہیں۔ میں نے اس درخت سے یہ عہد لیا کہ جب وہ مبعوث ہو جائیں تو مجھے خوشخبری دے دینا۔ جب اللہ کے آخری نبی ﷺ مبعوث ہو گئے تو اس درخت میں سے یہ آواز آئی: ”اے ابو قحافہ کے بیٹے! وہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں۔ اب کوشش کرو، اور قسم ہے ربِّ موسیٰ کی! اسلام میں کوئی تم پر سبقت نہیں کرے گا۔“
جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپ ﷺ نے مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلاتا ہوں۔“
میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور آپ ﷺ اللہ کے حق کے ساتھ بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔
[ماخذ: فیضانِ صدیقِ اکبر، ص: 46 تا 47]
قبولِ اسلام کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمرِ مبارک 38 برس تھی۔
سب سے پہلے مبلغِ اسلام کون؟
نبی کریم ﷺ کے بعد اسلام کی دعوت دینے والی شخصیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے۔ [ماخذ: فیضانِ صدیقِ اکبر، ص: 59]
سب سے افضل کون؟
مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سب سے افضل حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کے بعد حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان دونوں باتوں پر صحابہ کرام اور تابعین علیہم الرضوان کا اجماع ہے۔ نیز امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم اجمعین اور اکثر علماء اہلِ سنت کے نزدیک حضرت عمر بن خطاب کے بعد حضرت عثمان غنی اور ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما افضل ہیں۔ [تذکرہ مجدد الف ثانی، ص: 35]
”میں الزام تراشوں والی سزا دوں گا“
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو مجھے حضرات ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے افضل کہے گا، تو میں اس کو مفتری (الزام لگانے والے) کی سزا دوں گا۔“ [عاشقِ اکبر، ص: 6]
یارِ غار کا مالی ایثار
غزوۂ تبوک کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ﷺ نے اپنی امت کے مالداروں کو حکم دیا کہ وہ اللہ پاک کے راستے میں جہاد کے لیے مالی امداد میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں، تاکہ مجاہدینِ اسلام کے لیے کھانے پینے اور سواریوں وغیرہ کا انتظام کیا جا سکے۔ رسول کریم ﷺ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے جس ہستی نے اپنا سارا مال و دولت راہِ خدا عزوجل کے لیے آقا کریم کی بارگاہِ اقدس میں پیش کی، وہ صحابیِ ابنِ صحابی حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی ذاتِ بابرکت ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال آقا علیہ السلام کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس طرح کا ایثار دیکھ کر ارشاد فرمایا: ”کیا اپنے اہل و عیال کے لیے بھی کچھ چھوڑا؟“ عرض گزار ہوئے: ”ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔“ (مطلب: میرے اور میرے گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کافی ہیں) [ماخذ: عاشقِ اکبر، ص: 16]
پروانے کو چراغ تو بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
ثَانِیَ اثْنَیْنِ
اللہ پاک نے آپ رضی اللہ عنہ کے لیے قرآنِ مجید میں ”صَاحِبِہٖ“ یعنی نبی کے ساتھی اور ”ثَانِیَ اثْنَیْنِ“ (دو میں سے دوسرا) فرمایا، یہ شرف کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔
بارگاہِ رسالت میں مقام و مرتبہ
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدنا علی المرتضی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے تھے، اتنے میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ فرمایا، پھر گلے لگا کر آپ رضی اللہ عنہ کے منہ کو چوم لیا اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”اے ابوالحسن! میرے نزدیک ابوبکر کا وہی مقام ہے جو اللہ کے ہاں میرا مقام ہے۔“ [فیضانِ صدیقِ اکبر، ص: 571]
صدیقِ اکبر سب سے بڑے پرہیزگار
اللہ رب العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰىۚ
ترجمہ: ”اور عنقریب سب سے بڑے پرہیزگار کو اس آگ سے دور رکھا جائے گا، جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ اسے پاکیزگی ملے۔“ [اللیل: 17-18]
تفسیرِ صراط الجنان میں ہے
{وَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى:} سب سے بڑے پرہیزگار کو اس بھڑکتی آگ سے دور رکھا جائے گا، اور سب سے بڑا پرہیزگار وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال ریاکاری اور نمائش کے طور پر خرچ نہیں کرتا بلکہ اس لیے خرچ کرتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پاکیزگی ملے۔
فضائلِ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ: امام علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ’سب سے بڑے پرہیزگار‘ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔“ اس سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے 6 فضائل معلوم ہوئے:
- دنیا میں ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوگا۔
- انہیں جہنم سے بہت دور رکھا جائے گا۔
- جہنم سے دور رکھے جانے میں ان کے لیے جنتی ہونے کی بشارت ہے۔
- سید المرسلین ﷺ کی امت میں سب سے بڑے متقی اور پرہیزگار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تمام صدقات و خیرات قبول ہیں۔
- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہر صدقے میں اعلیٰ درجے کا اخلاص ہے، جس کی گواہی رب تعالیٰ دے رہا ہے۔
نوٹ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے فتاویٰ رضویہ کی اٹھائیسویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ ”الزُّلالُ الأنقٰی من بحر سبقۃ الأتقٰی“ (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا بیان) کا مطالعہ فرمائیں۔ [تفسیرِ صراط الجنان، جلد: 10، ص: 715 تا 716]
آپ رضی اللہ عنہ کا وصالِ پرملال
22 جمادی الآخریٰ 13 ہجری، شبِ جمعرات مدینہ منورہ میں مغرب و عشاء کے درمیان تریسٹھ (63) برس کی عمر میں آپ کا وصال ظاہری ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نمازِ جنازہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت دو سال چار ماہ رہی۔ [ماخذ: کتاب العقائد، ص: 32]
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عاشقِ اکبر، صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عشق کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ النبیِّ الامین ﷺ
