دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علماے کرام سے دوری کے نقصانات

علماے کرام سے دوری کے نقصانات
عنوان: علمائے کرام سے دوری کے نقصانات
تحریر: محمد علاء الدین قادری مصباحی بلرام پور
پیش کش: ادارۃ الفلاح، بلرام پور

یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ مسلمان ہمیشہ سازشوں کا شکار رہا ہے۔

دشمن کے فریب میں آ کر اپنوں ہی سے بدگمان ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کا مقصد تو ضرور پورا ہو جاتا ہے، لیکن ہونے والے خسارے کی بھرپائی میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔

تاریخِ اسلام کی ورق گردانی سے یہ بات آفتابِ نیم روز کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے علماء کی ذات کو مجروح کرنے اور مسلمانوں کی نظر میں مشکوک بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، جس میں وہ مکمل کامیابی تو حاصل نہ کر سکے لیکن پھر بھی ایک حد تک اپنے مقصد میں ضرور کامیاب رہے۔

یہ میری اپنی ذاتی رائے ہے، جس سے ایک حد تک آپ بھی اتفاق کریں گے کہ جس شدومد کے ساتھ علماء کی کردار کشی کی گئی ہے، اگر اتنی ہی توانائی کہیں اور صرف کی جاتی تو شاید ہی وہ کمیونٹی باقی رہتی۔

آج کے اس پرفتن دور میں علماء کی صحبت کتنی ضروری ہے، آنے والے چند سطور میں آپ ملاحظہ کریں گے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

”اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَ فَتَهْلِكَ“

یعنی صبح اس حال میں کرو کہ تم خود عالم ہو، یا طالب علم ہو، یا علماء کی زبانی دین کی باتیں سنتے ہو، یا کم از کم اتنا ہو کہ تم اہل علم سے محبت کرتے ہو۔ دنیا اور آخرت کی سعادتیں انہی چار چیزوں پر منحصر ہیں۔ پانچواں مت بننا کہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔

آپ ذرا حدیث پاک کا بغور مطالعہ کریں! تو آپ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہ جس طرح ایک شیر خوار بچے کو اپنی زندگی کی بقا کے لیے دودھ درکار ہے، اس سے کہیں زیادہ ایک عام آدمی کو اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت و صیانت کے لیے علماء کی صحبت ضروری ہے۔

معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کامیاب زندگی گزارنے کی جو ہدایات فراہم کی ہیں، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں؛ کیونکہ ہم اور آپ اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ و معائنہ کرتے رہتے ہیں کہ جن کا شمار علماء کی جماعت میں ہوتا ہے، وہ آج بھی ہمارے سروں کے تاج ہیں۔

اور وہ خوش قسمت لوگ جو چشمۂ نبوت سے سیراب ہونے میں مشغول ہیں، ان کے اقبال کا ستارہ ہنوز تابندہ ہے۔

اور رہے وہ جو علماء کے پند و نصیحت کو اپنے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں اور ان کی صحبت سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں، تو وہ بھی کامیاب ہیں۔

اور جو لوگ علماء کی مجالس میں مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہو پاتے ہیں، لیکن ان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ علماء کی صحبت اختیار کریں اور ان کے فیوض و برکات سے بہرہ ور ہوں، تو اللہ کی ذات سے یہی امید ہے کہ وہ اسے اپنی رحمت و برکت سے محروم نہیں فرمائے گا۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، جس پر چل کر دارین کی سعادتیں حاصل کی جائیں۔

اگر کوئی شخص متمنی ہے کہ وہ کامیابیوں کے منازل طے کرے تو اسے انہی طریقوں کو اختیار کرنا ہوگا۔

آج جو لوگ علمائے کرام سے دوری اختیار کرتے ہیں اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں ایسے بدعنوان ضمیر فروش مولوی موجود ہیں، جن کا ملت کے نفع و نقصان سے کوئی سروکار نہیں ہے، تن پروری کے چکر میں ملت کا شیرازہ بکھیرنے سے گریز نہیں کرتے۔

یقیناً ایسے مولویوں کی وجہ سے مسلمانوں کا ایک طبقہ علماء کی مقدس جماعت سے بدظن ہو چکا ہے۔

لیکن یہاں ٹھہر کر میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جس قوم کو یہ پتا ہے کہ جوتے کس کمپنی کے اچھے ہوتے ہیں، کپڑے کہاں اچھے ملتے ہیں، کس اسکول میں تعلیم کا اچھا انتظام ہے، کس کمپنی کی گاڑی ٹرینڈ میں چل رہی ہے اور کونسا فون نیو لانچ ہوا ہے۔

اس قوم کو اگر پتا نہیں ہے تو یہ کہ دین کس سے اور کہاں سے سیکھنا ہے، کونسے عالم کی صحبت اختیار کرنی ہے، کونسی مسجد میں نماز پڑھنی ہے، کونسے مدرسہ میں بچوں کو تعلیم دینی ہے۔

ساری غلطیاں اور خامیاں علماء کی شمار کرا کے اپنی خامیوں سے یک دم صرف نظر کر لینا، یہ کہاں کی دانشمندی ہے۔

کیا یہ آپ کا دینی فریضہ نہیں بنتا ہے کہ آپ تلاش بسیار کے بعد علماء کی صحبت اختیار کریں۔

آمدم بر سرِ مطلب علمائے کرام سے دوری کے جزوی کئی ایک نقصانات ہو سکتے ہیں، البتہ چند ایک پہلو پر بات کر لیتے ہیں:

  1. اگر کوئی شخص یکسر علماء سے دور ہو تو دولتِ ایمان کی حفاظت کس کی رہنمائی میں کرے گا؟ اخروی نجات کے لیے ایمان کی اہمیت سے کون آگاہ کرے گا؟ اس پر فریب دنیا میں جہاں بھیس بدلے ہزاروں چور عقائد و نظریات کو اچکنے میں لگے ہیں؛ کیسے محفوظ رکھے گا؟ دارین میں سلامتی کا راز کس سے طلب کرے گا؟
  2. جب کوئی شخص اپنے آپ کو علماء کی صحبت سے بچائے گا تو یقیناً آنے والی نسلیں بھی علماء سے دوری ہی میں عافیت محسوس کریں گی اور اس طرح کا طرزِ عمل انھیں اسلام سے کافی دور کر دے گا۔ ایسے میں خدا نخواستہ آئندہ نسلوں کو اسلام سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ آئے دن مسئلہ ارتداد سے ہمارا سامنا ہو رہا ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس بات پر غور کیا؟ کیا ہم نے کبھی اپنی بچیوں کو دولتِ ایمان کی اہمیت بتائی؟ کیا ہم نے جہنم کی ابدی عذاب کا تذکرہ کیا؟ جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مظہر ہے۔ کیا ہم نے کبھی عشق و محبت سے لبریز صحابہ کے واقعات بیان کیے؟ اللہ کے رسول نے اس امت کی فوز و فلاح کے لیے جو پریشانیاں برداشت کیں؛ کیا ہم نے انھیں بیان کرنے کی زحمت گوارا کی؟ جب ہم نے اپنے بچوں کو قرآن سے بچا بچا کر جوان کیا اور علماء کی صحبت اختیار نہ کرنے کی سخت تنبیہ کی تو آج جو کچھ وہ کر رہے ہیں، کیوں برا لگ رہا ہے، کیوں شکایتیں کر رہے ہو۔

اگر امتِ مسلمہ عزتِ رفتہ کی بحالی کی خواہش مند ہے تو اپنا رشتہ درِ رسول سے جوڑ لے۔

کل بھی سسکتی انسانیت کو عزت و احترام عطا کرنے والے محبوبِ خدا تھے، اور آج بھی امت کی ہچکولے کھاتی کشتی کو ساحلِ سمندر سے ہم کنار کرنے والی ذات آپ ہی کی ہے۔

بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے اور علمِ دین حاصل کر کے اس پر عمل کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔