دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

میڈیا کا کردار اور ہماری ذمہ داری

میڈیا کا کردار اور ہماری ذمہ داری
عنوان: میڈیا کا کردار اور ہماری ذمہ داری
تحریر: سیدہ عائشہ رضویہ

میڈیا کا مطلب وہ تمام ذرائع ہیں جن کے ذریعے معلومات، خبریں اور پیغامات لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔

میڈیا کی تین اقسام ہیں:

  1. پرنٹ میڈیا: جیسے اخبارات، رسائل، کتابیں وغیرہ۔
  2. الیکٹرانک میڈیا: جیسے نیوز چینلز، ریڈیو، ٹیلی ویژن۔
  3. ڈیجیٹل میڈیا (سوشل میڈیا): فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب چینلز، آن لائن پلیٹ فارمز، ویب سائٹس وغیرہ۔

اب سب سے اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ میڈیا ہمارے معاشرے پر کتنا اثر انداز ہوتا ہے۔ میڈیا وہ اہم ذریعہ ہے جو ہمیں دنیا کے حالات، واقعات اور اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ہمیں دنیا بھر کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔

ایسے میں اگر یہ اپنے فرض کو چھوڑ کر فریب کی چادر اوڑھ کر ہمیں گمراہ کرے تو کیا ہوگا؟

عوام میں انتشار، بے چینی اور فساد کی بھرمار ہو جائے گی، جس کی بنا پر ایک عام انسان کا جینا مشکل ہو جائے گا۔

میڈیا کی ذمہ داری یہ ہے کہ عوام کو سچ بتائے، انہیں بیدار کرے، اور ان کے سامنے دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کرے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں امن و سکون کا ماحول قائم کرے۔

لیکن آج اس کے برعکس ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جنہیں اپنا فرض ادا کرتے ہوئے بغیر ڈرے اور بغیر کسی لالچ یا دباؤ کے عوام کے سامنے جھوٹے لوگوں کو بے نقاب کرنا ہے، آج وہ انہی کے حمایتی بن گئے ہیں۔ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ بے قصور کو قصوروار اور ظالم حکمرانوں کو عوام کا رہنما بنا کر دکھایا جا رہا ہے۔

آج ایسے بہت ہی کم لوگ بچے ہیں یا یوں کہا جائے کہ بہت ہی مختصر چینلز یا پلیٹ فارمز ہیں جو اپنا فرض حقیقی معنوں میں ادا کر رہے ہیں۔ کیونکہ اکثر و بیشتر میڈیا تو بس جھوٹی خبریں شائع کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔

ایک سوال سامنے آتا ہے کہ اب ایسے حالات میں جب کہ ہر طرف یہی صورتِ حال نظر آتی ہو اور میڈیا جب کہ اپنا فرض صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہا ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

  • خبروں کو بغیر تحقیق کیے آگے نہ بڑھائیں۔ کوئی بھی خبر کہیں سے بھی سنی ہو، چاہے وہ کسی معروف نیوز چینل پر ہی کیوں نہ سنائی گئی ہو، بغیر تحقیق کیے نہ خود تسلیم کریں اور نہ اس کو دوسرے تک پہنچائیں۔
  • اور ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق اپنا فرض ادا کرے۔ اپنی قوم و ملت کے لیے جو جتنا کر سکتا ہے وہ کرے۔ اگر کوئی لکھ سکتا ہے تو لکھ کر، بول سکتا ہے تو بول کر، اپنے حصے کا فرض ادا کرے اور ہر جھوٹی خبر کو پھیلنے سے روکے۔

آج ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ بغیر تحقیق کیے کسی کی بھی باتوں پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں۔

بتاریخ: ۶ نومبر ۲۰۲۵ء بروز: جمعرات

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔