| عنوان: | عرس قاسمی روحانیت کا سفر |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عطاء المصطفیٰ عطاری مصباحی |
۱۰۰ویں عرسِ قاسمی کے مبارک موقع پر مارہرۂ مطہّرہ حاضری کا شرف حاصل ہوا
اللہ اللہ! کیا نور بھرا سماں تھا، کیا عرفانی و روحانی کیفیات کا سنگم تھا، قطبِ سبعہ کا فیض رواں تھا۔
فضا میں سکینہ کی مہک، دل میں طمانیت کی چمک، اور روح پر عجب کیف کا غلبہ تھا۔
ہر سمت انوار کی جھلک، ہر قدم پر اسرار کی چمک، اور ہر ساعت قربِ الٰہی کی لَذَّت تھی۔
گنبدوں کی خاموشی میں سرور، آستانے کی ہواؤں میں نویدِ حضور، اور قلب و نظر پر عجب فیضِ برکاتی و قاسمی کا ظہور تھا۔
ذرّہ ذرّہ میں برکاتِ سبعہ کی دمک، اور پل پل معرفت و محبت کی جھلک تھی۔
نفس و روح کی تیرگیاں چھٹتی گئیں، دل کی وادیاں مہکتی گئیں، اور باطن کی دنیا جگمگاتی گئی۔
یوں محسوس ہوا کہ اس پاکیزہ فضا میں انسان اپنے رب کے قریب، اور اولیاء کے دامنِ کرم میں محو ہو گیا ہو۔
اور کیوں نہ ہو کہ بوقتِ عرس صرف صاحبِ عرس کا فیضان نہیں ملتا بلکہ اس سلسلے کے جملہ مشائخ کا بنفسِ نفیس ورود ہوتا ہے، تو پھر کس قلم میں مجال کہ اس منظر کو قیدِ تحریر میں لا سکے۔
سچ کہا میرے امام نے:
کیسے آقاؤں کا بندہ ہوں رضاؔ
بول بالے مِری سرکاروں کے
دعاؤں کا ملتمس : عطاء المصطفیٰ مصباحی
