| عنوان: | حافظ ملت علیہ الرحمہ کا پیغام طالبان علوم نبویہ کے نام |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
اس مضمون میں اس بے مثال، فقید المثال اور عدیم النظیر شخصیت کی چند نصیحتیں برائے طالبان علوم نبویہ بیان کی جائیں گی جنہیں آج دنیا جلالۃ العلم اور حافظ ملت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ ویسے یہ نصائح طالبان علوم نبویہ سے متعلق ہیں بالخصوص اور بالعموم ہر کام کے بندوں کے لیے ہیں، اگر غور کریں۔ اب آئیے وہ نصائح پیش کی جاتی ہیں:
دینی طلبہ پر مجھے افسوس ہے!
آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: تم نے طلب علم کی راہ میں قدم رکھا ہے، تو اسی میں منہمک رہنا چاہیے اور اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہیے۔ ایک تاجر اپنی تجارت کے فروغ اور دولت کے حصول کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے، کبھی سر پر بوجھ لاد کر چلتا ہے اور کبھی سخت طعنہ و الفاظ بھی سنتا ہے، ذلت بھی اٹھاتا ہے، مگر اپنے مقصد اور اپنے کام سے دست بردار نہیں ہوتا۔ ایک درزی اپنے کام کی تکمیل کے لیے ہر وقت لگا رہتا ہے۔ دکان دار صبح بیٹھ جاتا ہے تو شام کو اٹھتا ہے۔ کھانے سے اور راحت و آرام سے بھی بے پروا ہو جاتا ہے۔ بنکر اپنی بنائی کے کام میں لگا رہتا ہے اور ہر طرح کی زحمت و صعوبت برداشت کرتا ہے۔ جب سب کام والے اپنے کام میں بھرپور دلچسپی اور محنت سے لگے رہتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ طالب علم اپنے کام سے غافل رہے اور اپنا وقت برباد کرے؟ دینی طلبہ پر مجھے افسوس ہے کہ تحفظ وقت کا خیال نہیں رکھتے۔ ایک بار میں کلکتہ کی ایک بلڈنگ میں ٹھہرا ہوا تھا، قریب کے کمرے میں ایک بنگالی طالب علم کا قیام تھا، کچھ دیر سوتا اور پھر اٹھ کر پڑھنے لگتا، رات بھر زیادہ تر اس نے پڑھتے ہوئے ہی وقت گزارا، اسے اپنی تعلیم سے اس قدر لگن اور اس کے لیے اتنی محنت تھی، تو ہمارے طلبہ میں ایسی لگن اور محنت کیوں نہیں آتی۔ انہیں بھی اپنی تعلیم سے شغف، اپنے مقصد کے ساتھ اخلاص، اپنے وقت کی قدر شناسی، اپنے کام سے دلچسپی ہونی چاہیے۔
عالم بے عمل، عند اللہ مقبول ہو سکتا ہے نہ عند الناس
علم کے بعد عمل کی ترغیب پر آتے تو فرماتے: عالم کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اگر اس میں عمل نہیں ہے تو وہ نہ عند اللہ مقبول ہو سکتا ہے اور نہ عند الناس۔ ایک مقرر رد وہابیہ میں تقریر کر رہے تھے اور ٹھوس دلائل، مضبوط شواہد اور دل نشیں انداز بیان کے ساتھ بولتے جا رہے تھے۔ تقریر بڑی کامیاب ہوئی۔ تقریر ختم ہوتی ہے۔ ایک شخص مجمع سے اٹھا اور بولا: مولانا ذرا اپنے سر کے بال تو دیکھیے، دیکھا تو سر پر انگریزی بال تھے، دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مولانا ذرا اپنا پاجامہ تو دیکھیے، پاجامہ ٹخنے سے نیچے تھا۔ ان کے اعتراضات سے مولانا کی تقریر کا جواب تو نہ ہوا، جو حقائق انہوں نے بیان کیے وہ غلط تو نہیں ہو گئے، مگر ان کی ذاتی اور عملی خامیوں کی وجہ سے ان کی تقریر بے اثر ہو گئی۔
علم بھی سیکھا، عمل بھی سیکھا
مزید فرماتے ہیں: ہم نے صدر الشریعہ سے علم بھی سیکھا ہے اور عمل بھی سیکھا۔ ہر بات وہ بتاتے نہ تھے ہم نے تو انہیں دیکھ دیکھ کر سیکھا ہے، انہیں عمامہ باندھتے دیکھا تو عمامہ باندھنا سیکھ لیا، انہیں سر جھکا کر وقار سے چلتے ہوئے دیکھا تو چلنا سیکھ لیا، انہیں کھاتے ہوئے دیکھا تو کھانے کا طریقہ سیکھ لیا۔ (ظاہر ہے کہ یہ وہی کہہ سکتا ہے جو خود علم و تقویٰ کا جامع اور سنت نبوی کا پابند ہو۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تلمذ اور شاگردی کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے علم کے ساتھ ہمارا کردار و عمل بھی حاصل کرو اور اپنے علم و عمل کے جامع بنو، جب ہی تم خدا اور رسول کی خوشنودی اور اپنی دینی خدمات کے میدان میں کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکتے ہو)۔
اس طرح کی تقریروں کا اثر یہ ہوتا کہ طلبہ میں ایک علمی و عملی لہر پیدا ہو جاتی اور کھیلنے والوں میں بھی کچھ سیکھنے، کچھ کرنے کا جذبہ بیدار ہو جاتا۔ [مقالات مصباحی، ص: 398، ملخصاً]
اے پیارے طالبان علوم نبویہ!
ہمیں علم و عمل، غور و فکر اور زہد و تقویٰ کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہونے کی ضرورت ہے اور اس سے اس بات کو اخذ کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے وقت کی قدر کریں، جس طرح دیگر کام کاج والے اپنے اوقات کی قدر کرتے ہیں، بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم طالبان علوم نبویہ ہیں، خاص طور پر ہم دین کی تعلیم حاصل کرنے والے ہیں تو ہم اپنے وقت کی بطور خاص قدر کریں اور یوں ہی بیکار و بے سود اپنے اوقات کو ضائع نہ کریں۔ ساتھ ہی ساتھ جو کچھ بھی علم دین حاصل کیا اس پر صحیح معنوں میں علیٰ وجہ الأکمل عمل کرنے کی بھی بھرپور سعی و کوشش کریں اور زہد و تقویٰ کو بھی اپنی زندگی کا جزو لا ینفک بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حافظ ملت کے فیضان سے مالا مال فرمائے، آپ کا صدقہ ہم سب کو بھی علم نافع عطا فرمائے اور اس پر عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔
23 نومبر 2025ء
