| عنوان: | خدارا! بوجہ اختلاف منبر رسول کو میدان جنگ نہ بنائیں |
|---|---|
| تحریر: | فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان مفتی اعظم، شاہ جہان پور |
سابقہ علمائے کرام، مفتیان عظام اور بزرگان دین کا دائمی طرز عمل یہی ہوا کرتا تھا کہ وہ آپس میں شفقت و محبت کے ساتھ پیش آتے تھے، خواہ وہ مسائل، اختلاف ذاتی یا فروعی ہوں، مگر بصد افسوس یہ بات عرض کرنی پڑ رہی ہے کہ سابقہ علمائے کرام و بزرگان دین کے طرز عمل کو پس پشت ڈال کر بوجہ اختلاف ذاتی و فروعی اور نام و نمود کے لیے منبر رسول کو میدان جنگ بنایا جا رہا ہے، شہرت، نام و نمود کی خاطر تکلم اور ملاقات کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہی طرز عمل رہا تو فی زمانہ آئندہ سنی صحیح العقیدہ مسلمان دیگر عقائد اختیار کر لیں گے اور کر بھی رہے ہیں۔ خدارا! بر طرز اسلاف و بزرگان دین عمل کرتے ہوئے آپس میں شفقت و محبت سے پیش آئیں اور اپنا وقت سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں پر بطور اصلاح صرف کریں تاکہ وہ دیگر عقائد اختیار نہ کریں۔
حضرت علامہ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”دنیا ایک باغ ہے جسے پانچ چیزوں سے سجایا گیا ہے: عالموں کے علم سے، حاکموں کے انصاف سے، عبادت گزاروں کی عبادت سے، تاجروں کی امانت سے اور اہل پیشہ کی نصیحت سے۔ تو ابلیس نے پانچ قسم کا جھنڈا آ کر ان چیزوں کی بغل میں گاڑ دیا۔ علم کے پہلو میں حسد کا جھنڈا، انصاف کے بازو میں ظلم کا جھنڈا، عبادت کی بغل میں ریاکاری کا جھنڈا، امانت کے پہلو میں خیانت کا جھنڈا اور اہل پیشہ کے بازو میں کھوٹ کا جھنڈا۔“ [تفسیر کبیر، ج: 1، ص: 36]
علم کی بغل میں حسد کا جھنڈا ابلیس کے گاڑنے ہی کا اثر ہے کہ عالموں میں حسد بہت زیادہ پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد سے حسد کرنے لگتا ہے، بلکہ یہاں تک کہ بعض عالم جو اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم تقویٰ کی سب سے بلند چوٹی پر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی ابلیس کے حسد کے جھنڈے کے نیچے آ کر بری طرح حسد کرنے لگتے ہیں اور دین متین کی صحیح خدمت کرنے والے عالموں کو طرح طرح سے اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ [فقیہ ملت، علم اور علما]
مولیٰ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے سے بغض و حسد کے بجائے آپس میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے اور خاطر شہرت منبر رسول کو میدان جنگ نہ بنانے کی توفیق خیر رفیق عطا فرمائے۔
از: حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی
