| عنوان: | فقیہ اہل سنت، سرپرست دعوت اسلامی مفتی عبد الحلیم رضوی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| پیش کنندہ: | عمران رضا عطاری مدنی بنارسی |
ولادت و نسب:
آپ کی ولادت ضلع سیتامڑھی (بہار) کے گاؤں دَدری میں ایک علم دوست و غریب نواز خاندان میں ہوئی۔
نام و نسب: مفتی عبد الحلیم بن محمد منیر الدین اشرفی رضوی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم گاؤں میں، پھر مدرسہ نور الہدیٰ (عارف باللہ مولانا شاہ عبد الرحمن محبی رحمۃ اللہ علیہ کا قائم کردہ مدرسہ)۔ 1953ء میں منظر اسلام بریلی شریف میں داخلہ۔ اساتذہ کرام میں مولانا احمد انصاری مدنی پوری، مفتی عزیز الرحمن فیض پوری، علامہ ریحان رضا رحمانی میاں، علامہ غلام جیلانی اعظمی، علامہ نعیم الدین گورکھپوری، مفتی محمد احمد جہانگیر خاں فتح پوری، مفتی افضل حسین مونگیری اور جامع علوم عقلیہ و نقلیہ حضرت علامہ الحاج محدث احسان علی مظفر پوری رحمہم اللہ شامل ہیں۔
بیعت و خلافت:
تلمیذ اعلیٰ حضرت محدث اعظم ہند علامہ مولانا مفتی الشاہ سید محمد اشرفی جیلانی المعروف محدث اعظم ہند کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت۔ بعد از وصال مرشد، مفتی اعظم ہند، قطب مدینہ ضیاء الدین احمد، مجاہد ملت حبیب الرحمن اور محدث بہار احسان علی قادری رحمہم اللہ سے اجازت و خلافت حاصل کی۔
درس و تدریس:
منظر اسلام بریلی شریف میں تدریس شروع کی۔ 1966ء سے جامعہ عربیہ ناگپور میں طویل عرصہ درس و تدریس اور دار الافتاء کی ذمہ داری نبھائی۔
تصنیفات:
- فلم ”خانہ خدا“ کا شرعی حکم
- اسلام میں داڑھی کا مقام
- فتاویٰ حلیمیہ (آپ کے تحریر کردہ فتاویٰ کا مجموعہ)
عظیم کارنامہ:
دار العلوم ضیائیہ فیض الرضا (شمالی بہار) کا قیام و تعمیر، جو آپ کی یادگار عظیم ہے۔
زہد و تقویٰ و عاجزی:
دار الافتاء ناگپور کی تنخواہ سے مکمل طور پر دستبردار ہوگئے اور فرمایا: ”کم از کم یہ فتویٰ نویسی اگر بلا معاوضہ ہو تو دل مطمئن رہے گا کہ دین کا کوئی کام بلا معاوضہ بھی انجام دے رہا ہوں۔“
دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولانا عبد الحبیب عطاری کا بیان ہے کہ ایک بار میں مدینہ شریف میں ان سے ملنے گیا، حضرت اکیلے میں رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: حضور! یہ اشک باری کس وجہ سے ہے؟ فرمایا: ”ابھی ابھی معاف نہ کرنے پر وعید سے متعلق ایک حدیث پاک میری نظر سے گزری، مجھے یاد آگیا کہ مدینہ شریف آنے سے پہلے میرے مدرسے میں ایک طالب علم نے کوئی غلطی کی تھی میں نے اس کو سزا کے طور پر درجے سے باہر نکال دیا۔ وہ مجھ سے معافی مانگتا رہا لیکن میں نے بطور تربیت اسے معاف نہ کیا تھا اب حدیث پاک پڑھ کر رو رہا ہوں، یا اللہ میں نے اس کو معاف کردیا تو بھی اس کو معاف کردے۔“
وصال:
12 رمضان المبارک 1442ھ بمطابق 2021ء۔ [ماخوذ: ماہنامہ فیضان مدینہ، ذو القعدۃ الحرام / ذو الحجۃ الحرام 1442ھ، جولائی 2021ء]
پیش کش: المدینۃ العلمیہ، دعوت اسلامی انڈیا
