| عنوان: | اہل سنت پر کیے گئے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | احسان مصطفیٰ |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور |
سنیت یہ نہیں ہے جناب
راقم الحروف چند روز قبل ایک مزار شریف پہنچا، عصر کی نماز مزار مقدس کے قریب واقع مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد ادب و احترام کے ساتھ آستانہ شریفہ کی حاضری کا شرف حاصل کیا۔ وہاں پہنچ کر صاحب مزار کو سلام و عقیدت کا نذرانہ پیش کیا۔ فاتحہ پڑھی اور عاجزی و فروتنی کے ساتھ دعا کی، جس سے دل میں ایک روحانی سکون محسوس ہوا۔ مگر یہ راحت دل میں اثر انداز ہونے ہی والی تھی کہ اچانک ایک جانب سے ڈھولک بجنے کی آواز گونجی، جو لمحہ بھر میں سکون قلب کو چھین لے گئی اور ذہن کو منتشر کر دیا۔
لہٰذا میں نے اطراف میں نگاہ دوڑائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا ڈھولک ہے، جس کو بجانے کے لیے دو آدمی مقرر ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں کہا کہ جس بزرگ نے اپنی پوری زندگی طرز اسلامی کے مطابق گزاری، آج انہی کے در اقدس پر خرافات کا ظہور ہے۔
محترم قارئین! صرف ایک یہی نہیں بلکہ میں نے ارد گرد دیکھا تو مزار کے ایک طرف سے کچھ عورتیں تو دوسری جانب سے کچھ مرد حضرات مع چادر مزار شریف پر حاضر ہو رہے ہیں اور دونوں طرف نام نہاد خادم مقرر ہیں، جو زائرین سے چادر چڑھانے کا پیسہ مانگ رہے ہوتے ہیں اور وہ بھی ایک دو سو نہیں بلکہ پانچ سو روپے۔ بیچارہ مجبوری میں ایک سے کم چار سو دیتا ہے، تب چادر چڑھائی جاتی ہے۔
قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر مزار پر ایک چادر ہے تو دوسری چادر چڑھانا فضول ہے۔ جیسا کہ میرے اعلیٰ حضرت امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”چادروں کے سبز و سرخ ہونے میں بھی حرج نہیں بلکہ ریشمی ہونا بھی روا کہ وہ پہننا نہیں، البتہ باجے ناجائز ہیں۔ جب چادر موجود ہو اور وہ ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی ہو کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے، بلکہ جو دام اس میں صرف کرے، ولی اللہ کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لیے محتاج کو دیں۔ ہاں جہاں معمول ہو کہ چڑھائی ہوئی چادر جب حاجت سے زائد ہو تو خدام، مساکین، حاجت مند لے لیتے ہیں اور اس نیت سے ڈالے تو مضائقہ نہیں کہ یہ بھی تصدق ہو گیا۔“ [احکام شریعت، حصہ: 1، ص: 87، نظامیہ کتاب گھر لاہور]
لہٰذا جب میں نے ان تمام مناظر کا مشاہدہ کیا تو میرے ذہن میں آیا کہ عوام اہل سنت اور معاندین اولیا کو ان تمام باتوں سے آگاہ کر دیا جائے کہ ان تمام خرافات کا تعلق سنیت سے نہیں ہے بلکہ جہالت سے ہے، جن میں سے چند سپرد قرطاس ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
- مزامیر، موسیقی، ڈھول باجے، ناچ گانا اور مروجہ قوالی۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 79، رضا فاؤنڈیشن لاہور]
- مزار کا طواف کرنا۔ [مرجع سابق، ج: 22، ص: 382]
- مزار کو سجدہ کرنا۔ [مرجع سابق، ج: 24، ص: 474]
- مرد کا کندھوں کے نیچے بال بڑھانا۔ [مرجع سابق، ج: 21، ص: 600]
- سلف و صالحین کی فرضی تصویر بنا کر رکھنا۔ [مرجع سابق، ج: 24، ص: 574]
- عورتوں کا بے پردہ میل جول۔ [مرجع سابق، ج: 23، ص: 690]
- عورتوں کا مزار پر حاضر ہونا۔ [مرجع سابق، ج: 9، ص: 538]
- مروجہ تعزیہ داری۔ [مرجع سابق، ج: 24، ص: 500]
- مردوں کا سونا، لوہا، پیتل، تانبا، جست یا چاندی کا وہ انگوٹھی یا کنگن وغیرہ پہننا جو ساڑھے چار ماشہ کا یا اس سے زائد ہو۔ [بہار شریعت، ج: 3، ص: 429، مکتبۃ المدینہ]
محترم قارئین کرام! مذکورہ تمام امور شریعت کے خلاف اور گمراہی پر مبنی ہیں، لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ایسے باطل طریقوں، من گھڑت رسموں اور نام نہاد جعلی پیروں سے دور رہے۔ سنت کی اصل بنیاد ہمیشہ سے وہی ہے جو عقائد حقہ پر قائم اور بدعات و خرافات سے پاک ہے۔ الغرض ہمارا وہی معطر راستہ ہے جو قرآن پاک، احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اجماع امت، ائمہ اربعہ کے مناہج، اولیائے کرام کی روحانی وراثت اور سلف و صالحین کی مبارک تعلیمات سے ثابت ہے۔
معزز قارئین! اگر آپ نے گزشتہ عبارات و دلائل پر غور کیا ہوگا تو آپ پر یہ بات بخوبی واضح ہو گئی ہوگی کہ اقتباسات میں زیادہ تر حوالہ جات امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ دراصل بات کچھ اس طرح ہے کہ چند معاندین حضرات نے آپ علیہ الرحمۃ پر یہ بے بنیاد اور جھوٹی الزام تراشی کی ہے کہ انہوں نے خرافات و بدعت کی بنیاد رکھی ہے (معاذ اللہ)۔
لہٰذا اسی وجہ سے آپ علیہ الرحمۃ کی نہایت فیصلہ کن رد بدعات عبارات سے خرافات کے تمام شبہات کا مکمل سد باب کیا گیا۔ اب وہ لوگ جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ پر بدعتی کا الزام رکھتے ہیں، اپنے ہی منہ پر تھپڑ ماریں۔ بہرحال معاندین کی علمی تنگیاں، فکری کمزوریاں اور تعصبانہ عینک کو چاک کیا گیا۔ اللہ پاک ہمیں تمام تر بدعات و خرافات سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
درجہ سابعہ
جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگپور
