دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

آزمائشوں میں پنہاں رمز

آزمائشوں میں پنہاں رمز
عنوان: آزمائشوں میں پنہاں رمز
تحریر: بنتِ عبد الرحیم صدیقی

عصر حاضر میں نہ صرف ایک شہر یا ایک ملک، بلکہ ہندوستان، پاکستان، شام، غزہ، کشمیر، عراق، سوڈان وغیرہ پوری دنیا میں امت مسلمہ کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی اللہ اور اس کے رسول کی توہین کر کے، تو کبھی احکام شریعت کی بے حرمتی کر کے، کبھی مساجد، مدارس اور مزارات جیسے آباد گلشن کو مسمار کر کے، تو کبھی قوم کے افراد کو شہید کر کے۔ غرضیکہ ایسے پر تشدد حملے کیے جا رہے ہیں جو واقعی دین کا درد رکھنے والے ہر فرد کے لیے آزردہ ہیں۔

اب ایسے تشویش ناک حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے امت مسلمہ چند جماعتوں کی طرف منقسم ہو گئی۔ جن میں ایک جماعت تو ان لوگوں کی ہے جنہوں نے معاذ اللہ صبر و استقامت کے بجائے مذہب اسلام کی حقانیت پر شک کر کے بالکلیہ براءت ظاہر کر دی۔ دوسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہے جنہوں نے اسلام سے بیزاری تو ظاہر نہیں کی، مگر! اسلام میں رہتے ہوئے بھی اس پر مشکوک نظر آ رہے ہیں۔ صبر و استقامت کے دامن کو چھوڑ دیا اور برجستہ یہ بھی کہہ رہے ہیں: ”کہ آخر مدد الٰہی کیوں نہیں آ رہی ہے؟ آخر ہم پر کیوں یہ ظلم و ستم ہو رہا ہے؟ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟“ وغیرہ وغیرہ۔ پھر تیسری جماعت ان لوگوں کی ہے جنہیں ایسے تشویش ناک حالات بھی راہ راست سے ہٹا نہیں پا رہے۔ جنہیں یقین ہے کہ یہ مصائب تو چند دن کے لیے ہیں، ایک دن مدد آئے گی۔ جو ایسی آزمائشوں سے گھبراتے نہیں ہیں۔ جنہیں اسلام کی حقانیت پر پورا یقین ہے۔ جنہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان عالی شان پر مکمل اعتبار ہے۔ جنہیں معلوم ہے کہ یہ آلام و مصائب بھی اللہ عزوجل کی رحمت ہیں۔ در حقیقت یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں۔

کیوں کہ آزمائش کوئی جدید دور میں ایجاد ہونے والی چیز نہیں ہے، بلکہ روز اول سے ہی اس کا آغاز ہو گیا تھا۔ یہ فیصلۂ الٰہی ہے جس سے گریز ممکن نہیں۔ ابتدا میں ابو الانسان حضرت آدم علیہ السلام کو آزمایا گیا، پھر تمام انبیائے کرام و رسل علیہم السلام کی بھی آزمائش ہوئی نیز ہر نبی کی امت پر بھی آزمائشیں آئیں اور ہر مومن کے مقدر میں ابتلا و آزمائش ہے۔ کیوں کہ ہر ایمان والا کلمہ پڑھ کر خالق حقیقی سے سودا کرتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اللہ عزوجل کا ہو گیا، اب اللہ رب العزت کی جانب سے اسے جنت جیسی بیش قیمت نعمت سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی سورہ توبہ میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ

ترجمہ: بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ [التوبۃ: 111]

اسی وجہ سے رب تعالیٰ آزماتا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنے وعدے میں سچا ہے؟ تو جس نے وعدہ پورا کیا وہی جنت کا حق دار ہوگا۔ اس لیے کلمہ حق کا اقرار کرنے والے ہر فرد کو صرف کلمے پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ آزمائشوں کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ کیوں کہ مالک حقیقی نے فرمایا:

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ

ترجمہ: کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ [العنکبوت: 2]

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ

ترجمہ: اور بے شک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا۔ [العنکبوت: 3]

مذکورہ آیت کریمہ سے ظاہراً دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ ہر مومن کی آزمائش یقینی ہے۔ اور دوسری یہ کہ یہ آزمائش صرف امت محمدیہ پر ہی نہیں آئی بلکہ اس سے پہلے والی امتوں کو بھی آزمایا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی آزمائشیں ہم سے زیادہ سخت تھیں۔ الحمد للہ رب العالمین ہم پر نہ ہی آسمان سے پتھر برسائے گئے، نہ ہی چہرے کو مسخ کیا گیا، نہ ہی آبادی پلٹی گئی، نہ ہی نسل ختم کی گئی۔ حالانکہ ہمارے اعمال انہیں کے مثل ہوتے جا رہے ہیں الا ماشاء اللہ۔ مثلاً رسم و رواج کے نام پر اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم سے روگردانی، فیشن کے نام پر بے حیائی، تعلیم کے نام پر قرآن و حدیث سے دوری، دنیا کے نام پر دین سے دوری، ترقی کے نام پر عبادت سے دوری، شادی اور فنکشن کے نام پر فضول خرچی، دولت کے نام پر غریبوں کی دل آزاری، وغیرہ وغیرہ تمام برائیاں اس وقت عروج پر نظر آ رہی ہیں۔

یہی وہ برائیاں ہیں جن کے سبب پچھلی امتیں رب تعالیٰ کے عذاب شدید کا شکار ہو جاتی تھیں۔ انہیں بالکل بھی مہلت نہیں دی جاتی تھی۔ مگر یہ تو کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا صدقہ ہے کہ ہم پر اتنا سخت عذاب نہیں مسلط ہو رہا ہے۔ کیوں کہ رب ذوالجلال نے وعدہ فرمایا ہے:

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ

ترجمہ: اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے محبوب آپ ان میں تشریف فرما ہیں اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔ [الأنفال: 33]

نیز ہم پر جو آزمائشیں آ رہی ہیں اس کے متعلق ہمیں چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا گیا ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ کس طرح سے آزمایا جائے گا جیسا کہ یہ آیت مبارکہ اس پر دال ہے:

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ

ترجمہ: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوش خبری دو ان صبر والوں کو۔ [البقرۃ: 155]

اور تسلی بھی دے دی گئی کہ اے امت محمدیہ ان آزمائشوں سے گھبرانا نہیں:

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا

ترجمہ: بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ [الم نشرح: 6]

پھر رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے ارشاد مبارکہ سے ان آزمائشوں کو رحمت بنا دیا اور تسکین جگر بخشا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصَبْ مِنْهُ

ترجمہ: اللہ رب العزت جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ [صحیح البخاری]

یوں ہی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

كَفَّرَ اللهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ

ترجمہ: یعنی ان آزمائشوں کے سبب رب تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [صحیح البخاری]

اس طرح بے شمار آیات و احادیث نبویہ مومنین کو مطمئن اور ثابت قدم رکھنے والی ہیں۔ اسی لیے قرآن و حدیث سے وابستہ ہونے والے لوگ سخت سے سخت حالات میں بھی بے خوف و اضطرار ہو کر حق پر ڈٹے رہتے ہیں اور باطل سے کسی بھی صورت میں خوف نہیں کھاتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ ہم پر جو آزمائشیں آئیں وہ پہلے کے مومنین پر بھی آئی ہیں بلکہ ان کی آزمائشوں کا عالم تو یہ تھا کہ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک روز حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی چادر مبارکہ سے تکیہ لگائے تشریف فرما تھے کہ ہم خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! ہم پر تکلیفوں کی انتہا ہو گئی ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت ہمیں ان مصائب سے نجات عطا فرمائے۔“ کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”یہ مصیبتیں صرف تم ہی نہیں برداشت کر رہے ہو، بلکہ تم سے پہلے کفار کا یہ طریقہ تھا کہ وہ مومن کو پکڑتے اور گڑھا کھود کر انہیں کمر تک گڑھے میں گاڑ دیتے، پھر آری لا کر ان کے سر پر چلائی جاتی اور کاٹ کر ان کے دو حصے کر دیے جاتے۔ بعض مومنین کے جسم پر لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتیں، ان کے گوشت اور ہڈیوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا، اس کے باوجود وہ مومن اپنے دین پر ثابت قدم رہتے۔“ اس کے بعد کریم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے خباب! اللہ کی قسم یہ دین ہر طرف پھیلے گا، اس کے سایہ میں اتنا امن و امان ہوگا کہ ایک شخص مقام صنعاء سے چل کر حضر موت تک سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہ ہوگا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ

ترجمہ: لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو۔

آپ اندازہ لگائیں کہ کس طرح ہمارے لجپال نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آزمائشوں میں اپنی امت کو تسکین و طمانیت بخشی۔ اسی سبب سے جن کے پاس قرآن و حدیث جیسی رہنما کتابیں ہوں انہیں ان آزمائشوں سے گھبرانا یا باطل سے ڈرنا محال ہے۔ کیوں کہ یہ آزمائشیں تو خطائیں مٹانے کے لیے آتی ہیں، قرآن و حدیث سے رشتہ مضبوط کرانے کے لیے آتی ہیں، بندے کو اس کے خالق حقیقی سے جوڑنے کے لیے آتی ہیں۔ یہ آزمائشیں تو اس لیے آتی ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کس نے قرآن و حدیث کو رہنما مانا اور کون معاذ اللہ تردد کا شکار ہو گیا۔ لہٰذا اے امت مسلمہ! آپ ان آزمائشوں سے متنفر و رمیدہ خاطر نہ ہوں۔ یہ تو حقیقت میں رب تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے۔

ایک بات یاد رکھیں! کہ کبھی اللہ عزوجل دے کر آزماتا ہے تو کبھی لے کر۔ یہ آزمائش انسان کو فرعون بھی بنا دیتی ہے اور حضرت آسیہ بھی۔ اس لیے عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے والے جب دین سے لاپرواہ ہو جائیں، مال و اولاد والے متکبر ہو جائیں، اہل علم کے اندر غرور اور طلب شہرت آ جائے تو یہ ان کی ناکامی پر دلیل ہے۔ ایسے شخص کو کہیں بھی امن و قرار میسر نہیں ہوتا۔ اور جو یہ سمجھ لیتا ہے کہ جن کے ذریعے اسے آزمایا جا رہا ہے یہ نعمتیں تو حقیقت میں اس کا حق ہیں ہی نہیں، بلکہ! اس نے تو جنت کے بدلے بیچ دیا ہے۔ اور صبر و استقامت کا دامن تھامے ہوئے نا شکری و کفریہ کلمات وغیرہ سے باز رہتا ہے۔ نیز اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان آزمائشوں کو گناہوں کا کفارہ سمجھ کر دین اسلام کے مشن پر ڈٹا رہتا ہے اور اپنے رب کی طرف سے مہلت سمجھ کر فرمان خالق حقیقی کی جانب رجوع کر لیتا ہے، وہی فلاح و بہبودی کا حامل ہے۔ اسے ہواؤں کی طغیانی اور تلاطم بحر میں بھی دل جمعی و جمعیت خاطر حاصل رہتی ہے۔

اتنی گفتگو کے بعد اب مفاہمت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ چاہیں تو ان آزمائشوں کو رحمت الٰہی سمجھ کر دونوں جہان کی فیروز مندی حاصل کریں یا پھر فانی دنیا کو اپنا حق سمجھ کر دارین کی خستہ حالی مول لیں۔ کسی شاعر نے آگاہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا کہ:

وہ وقت آیا کہ ہم کو قدرت
ہماری سعی و عمل کا پھل دے
بتا رہی ہے یہ ظلمت شب
کہ صبح نزدیک آ رہی ہے
سیاہیوں سے حزیں نہ ہونا،
غموں سے اندوہ گیں نہ ہونا
انہیں کے پردے میں زندگی کی
نئی سحر جگمگا رہی ہے
رئیس اہل نظر سے کہہ دو
کہ آزمائش سے جی نہ ہاریں
جسے سمجھتے تھے آزمائش
وہی تو بگڑی بنا رہی ہے

اللہ رب العزت اپنے حبیب کے صدقے میں ہمیں ان آزمائشوں میں ثابت قدمی و استقامت عطا فرمائے اور آزمائشوں میں پرچم حق بلند کرنے والوں کے زمرے میں ہمیں بھی شامل فرمائے۔ آمین ثم آمین یا مجیب السائلین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!