| عنوان: | داڑھی تمام نبیوں کی سنت ہے مومنو! |
|---|---|
| تحریر: | محمد رمضان رضا عطاری (مالیگاؤں) |
داڑھی شعائر اسلام میں سے ایک عظیم شعار اور مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری سنت ہے، متعدد احادیث مبارکہ میں داڑھی بڑھانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اللہ پاک نے مردوں کے چہروں کو داڑھی سے آراستہ فرما کر انہیں عزت و وقار سے سرفراز کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ
ترجمہ: ”اور بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی۔“ [الإسراء: 70]
اس کے تحت تفسیر بغوی میں ہے: وَقِيلَ الرِّجَالُ بِاللِّحَى، وَالنِّسَاءُ بِالذَّوائِبِ۔ ترجمہ: ”کہا گیا ہے کہ مردوں کو داڑھی سے اور عورتوں کو چوٹی سے عزت دی۔“ [تفسیر البغوی، ج: 5، ص: 108]۔ تفسیر قرطبی میں ہے: وَقِيلَ أَكْرَمَ الرِّجَالُ بِاللِّحَى وَالنِّسَاءُ بِالذَّوائِبِ۔ ترجمہ: ”اور کہا گیا ہے کہ مردوں کو داڑھی اور عورتوں کو چوٹی دے کر مکرم کیا۔“ [تفسیر القرطبی، ج: 10، ص: 294]
معلوم ہوا کہ داڑھی مرد کے لیے عیب نہیں بلکہ اس کی زینت، وقار اور عزت و تکریم کا باعث ہے۔ یہی وہ سنت مبارکہ ہے جس سے مرد کے چہرے پر وجاہت، بشاشت، تازگی اور شادابی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں جب ہم اس ذات بابرکت کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں جسے اللہ پاک نے ہمارے لیے بہترین نمونہ اور آئیڈیل بنایا اور جس کی اتباع و پیروی کو بخشش و نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے، تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرۂ پر انوار بھی داڑھی مبارک سے سجا ہوا تھا، چنانچہ احادیث مبارکہ میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی داڑھی مبارک کا ذکر ہے وہاں یہ الفاظ ”عظیم اللحية“ یا ”کث اللحية“ وارد ہوئے ہیں، جن کا مفہوم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی داڑھی مبارک گھنی اور خوبصورت تھی۔ اسی طریقے سے داڑھی رکھنا دیگر انبیا، اولیا، صحابہ اور علمائے امت کا معمول رہا ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ.
ترجمہ: ”مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی وافر (گھنی) رکھو اور مونچھیں پست کرو۔“ [صحیح البخاری، الحدیث: 5892]
اس کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں بتغیر الفاظ اسی طرح کی روایات مذکور ہیں مثلاً: ”وَأَرْخُوا اللِّحَى، خَالِفُوا الْمَجُوسَ“ یعنی داڑھی بڑھنے دو، مجوسیوں کے خلاف کرو وغیرہ۔ ان احادیث کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کو داڑھی رکھنے کا واضح حکم فرمایا اور انہیں مشرکوں اور مجوسیوں کی مشابہت اختیار کرنے، یعنی داڑھی منڈوانے یا کاٹنے سے منع فرمایا۔ پس جو شخص داڑھی نہیں رکھتا، اسے غور کرنا چاہیے کہ وہ کس کے طرز عمل کو اختیار کیے ہوئے ہے۔
سرکار کا عاشق بھی کیا داڑھی منڈاتا ہے!
کیوں عشق کا چہرے سے اظہار نہیں ہوتا
داڑھی کا شرعی حکم
یاد رہے! ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔ جو اس کے ترک پر اصرار کرے یعنی بار بار کاٹے، وہ سخت گناہ گار، موجب غضب جبار اور مستحق عذاب نار ہے۔ [کتب فقہ]
داڑھی نہ رکھنے کے اسباب و تدارک
ہمارے معاشرے میں عموماً نوجوان داڑھی رکھنے سے ہچکچاتے اور نہ رکھنے کے لیے مختلف بہانے بناتے ہیں۔ آئیے! اب ہم ان اسباب پر توجہ کرتے ہیں جن کی بنا پر ہمارے معاشرے کا ایک حصہ چہرے پر داڑھی سجانے سے محروم رہتا ہے اور ان کا مناسب تدارک بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
خوبصورتی میں رکاوٹ: بعض نوجوان داڑھی اس لیے نہیں رکھتے کہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ داڑھی رکھنے سے خوبصورتی میں کمی آ جاتی ہے۔ میرے پیارے بھائی! داڑھی شعار اسلام میں سے ہے، یہ ہمارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عظیم سنت اور ہمارے اسلاف کا طریقہ کار رہی ہے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں: دنیا میں سب سے زیادہ حسین و جمیل چہرہ کس کا ہے؟ اگر آپ کو تاریخ و سیرت سے ذرا بھی دلچپی ہے تو یقیناً آپ کا جواب ہوگا کہ کائنات میں سب سے حسین و جمیل چہرہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے۔ اور اس حقیقت میں کسی مسلمان کو ذرہ برابر شک نہیں ہو سکتا۔ اب ذرا غور کیجیے! اگر داڑھی خوبصورتی میں رکاوٹ ہوتی تو کیا اللہ پاک اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرۂ مبارک کو داڑھی سے مزین فرماتا؟ ہرگز نہیں! بلکہ داڑھی تو چہرے کی رونق، وجاہت اور نورانیت میں اضافہ کرتی ہے۔ یقین جانیے! داڑھی رکھنے سے چہرہ مزید باوقار، پرکشش اور با رونق دکھائی دیتا ہے۔
لوگوں کی تضحیک کا ڈر: کچھ لوگ اس عظیم سنت سے محض اس لیے بھی محروم رہ جاتے ہیں کہ کہیں لوگ ان کا مذاق نہ اڑائیں۔ میرے پیارے بھائی! کیا تیرا ایمان اتنا کمزور ہے کہ تو لوگوں کے مذاق کے خوف سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتنی عظیم سنت کو ترک کر دے؟ یاد رکھ! آج جن لوگوں کی تضحیک کے ڈر سے تو داڑھی جیسی مبارک سنت کو چھوڑ رہا ہے، کل وہی لوگ تجھ پر مٹی ڈال کر اپنے گھروں کی طرف پلٹ جائیں گے۔ سوچ! اگر تیرے اس چہرے کو دیکھ کر آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ناراض ہو گئے اور اپنا رخ انور پھیر لیا، تو تیرا کیا بنے گا؟
خم زلف نبی ساجد ہے محراب دو ابرو میں
کہ یارب تو ہی والی ہے سیہ کاران امت کا
تنبیہ: یاد رہے! داڑھی کا مذاق اڑانا سخت گناہ بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”داڑھی کے ساتھ استہزاء (مذاق) بھی ضرور کفر ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 21، ص: 215]
شادی میں رکاوٹ: بعض نوجوان یہ سوچ کر بھی ہمت نہیں کرتے کہ داڑھی رکھ لی تو رشتے نہیں ملیں گے۔ یاد رکھیں! جو بہترین رشتے داڑھی والوں کو نصیب ہوتے ہیں، وہ اکثر بغیر داڑھی والوں کو نہیں مل پاتے۔ کیوں کہ شریف اور با حیا گھرانوں کی لڑکیاں عموماً داڑھی والے اور دین دار نوجوان کو ہی پسند کرتی ہیں۔
داڑھی کے فوائد اور نہ رکھنے کے نقصانات
- داڑھی سجانے سے اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
- داڑھی والا ہزاروں میں ممتاز ہو جاتا ہے کہ یہ مصطفیٰ ﷺ کا غلام ہے۔
- داڑھی منڈوانا اللہ و رسول کی صریح نافرمانی اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔
- کفار و مشرکین اور عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے، جس پر حضور ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ [صحیح البخاری، الحدیث: 5885]
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
ترجمہ: ”بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔“ [الأحزاب: 21]
یقیناً جب ہم دل و جان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقۂ حیات کو اپنائیں گے، تب ہی حقیقی کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی اور ہمیں دنیا و آخرت میں عزت و سرخروئی نصیب ہوگی۔
طریق مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی
اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی
