| عنوان: | مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ششم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
آدابِ معاملات
رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى.
ترجمہ: ”خدا اس مرد پر رحم فرمائے جو نرمی کا رویہ رکھے جب بیچے، جب خریدے اور جب تقاضا کرے۔“ [مسند الفردوس دیلمی، کنز العمال]
حدیث: تم میں سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا، اس کے پاس موت کا فرشتہ روح قبض کرنے آیا۔ اس سے کہا گیا: کیا تم نے کوئی کار خیر کیا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ تو اس سے کہا گیا: غور کرو۔ عرض کیا: نہیں، کوئی کار خیر نہیں جانتا، بجز اس کے کہ دنیا میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا اس وقت ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا، مال دار کو مہلت دیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا۔ (یہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے)۔ [صحیح البخاری، صحیح مسلم]
اس کے ہم معنی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے امام مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا:
أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي
ترجمہ: ”عفو و درگزر کا میں تم سے زیادہ حق دار ہوں، میرے بندے سے درگزر کرو۔“ [صحیح البخاری، مشکوة المصابیح]
كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَلَقِيَ اللهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.
ترجمہ: ”ایک شخص لوگوں سے دین کا معاملہ کرتا تھا، وہ اپنے غلام سے یوں کہتا کہ جب تم کسی تنگ دست کے پاس جاؤ تو اس سے درگزر کر دیا کرو، شاید اللہ ہم سے درگزر فرمائے، بعد موت وہ خدا سے ملا تو رب نے اسے معاف کر دیا۔“ [صحیح البخاری، صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]
مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَنْجَاهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: ”جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو خدا قیامت کے کرب و غم سے اس کو نجات دے گا۔“ [صحیح البخاری، صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]
مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِئٍ فَلْيَتْبَعْ.
ترجمہ: ”دینے میں مال دار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، جب کوئی مدیون تم میں سے کسی کو مال دار کے پیچھے لگائے (دین کی ادائیگی اس کے حوالے کرے) تو وہ اس مال دار سے تقاضا کرے۔“ [صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَضَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَزَادَنِي.
ترجمہ: ”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرا قرض واپس کر دیا اور مجھے زیادہ دیا۔“ [سنن نسائی]
مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ.
ترجمہ: ”جس کا کسی پر حق ہو اور وہ اسے ادائیگی کی مہلت دے دے تو ہر روز اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔“ [صحیح البخاری، صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]
بَاكِرُوا فِي طَلَبِ الرِّزْقِ وَالْحَوَائِجِ فَإِنَّ الْغُدُوَّ بَرَكَةٌ وَنَجَاحٌ.
ترجمہ: ”رزق اور حاجتوں کی طلب میں صبح سویرے نکلو، اس لیے کہ صبح نکلنے میں برکت اور کامیابی ہے۔“ [مصنف عبد الرزاق، کنز العمال، سنن ابو داؤد، مشکوة المصابیح]
إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا.
ترجمہ: ”(اے بیچنے والو!) جب تم تولو تو جھکا ہوا تولو۔“ [مسند امام احمد، مشکوة المصابیح]
حدیث: امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لَا يَبِعْ فِي سُوقِنَا هَذَا إِلَّا مَنْ تَفَقَّهَ فِي الدِّينِ.
ترجمہ: ”ہمارے اس بازار میں وہی شخص بیع کرے جو دین میں فقاہت رکھتا ہو۔“ [معجم اوسط طبرانی، کنز العمال]
