دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ہفتم)

مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ہفتم)
عنوان: مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا درسِ کسب و تجارت(قسط: ہفتم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

خیارِ شرط

بائع و مشتری کو حق حاصل ہے کہ وہ قطعی طور پر بیع نہ کریں بلکہ عقد میں یہ شرط کر دیں کہ اگر منظور ہوا تو بیع باقی نہ رہے گی۔ اسے خیار شرط کہتے ہیں۔ اور اس کی ضرورت طرفین کو ہوا کرتی ہے، کیوں کہ کبھی بائع اپنی ناواقفی کے باعث کم داموں میں چیز بیچ دیتا ہے، یا مشتری اپنی نادانی سے زیادہ داموں میں خرید لیتا ہے، یا چیز کی اسے شناخت کی ضرورت ہے کہ وہ دوسرے سے مشورہ کر کے صحیح رائے قائم کرے اور اگر اس وقت نہ خریدے تو چیز جاتی رہے گی، یا بائع کو اندیشہ ہے کہ گاہک ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ایسی صورت میں شرع مطہر نے دونوں کو موقع دیا ہے کہ غور کر لیں۔ اگر نا منظور ہو تو خیار کی بنا پر بیع کو نا منظور کر دیں۔ [السنن لابن ماجہ، کنز العمال]

اب اس عنوان پر چند احادیث ملاحظہ ہوں:

الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.

ترجمہ: ”بائع و مشتری میں سے ہر ایک کو اختیار حاصل ہے جب تک جدا نہ ہوں (یعنی جب تک عقد میں مشغول ہوں عقد تمام نہ ہوا)، سوائے بیع خیار (کہ اس میں بعد عقد بھی اختیار رہتا ہے)۔“ [جامع الترمذي، بہار شریعت، ج: 11]

الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.

ترجمہ: ”بائع و مشتری کو اختیار حاصل ہے جب تک جدا نہ ہوں، اگر وہ دونوں سچ بولیں اور عیب کو ظاہر کریں تو ان کی بیع میں برکت ہوگی اور اگر عیب کو چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو برکت مٹا دی جائے گی۔“ [بہار شریعت، ج: 11]

الْخِيَارُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

ترجمہ: ”خیار تین دن تک ہے۔“ [صحیح البخاری، صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]

إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ.

ترجمہ: ”جب تم کسی سے بیع کا معاملہ کرو تو یہ کہہ دو کہ ”دھوکا نہیں“، پھر جو سامان بھی خریدو، اس میں تمہیں تین دن اختیار ہوگا۔ اگر پسند ہو تو رکھ لو اور اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔“ [صحیح البخاری، صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]

خیارِ رؤیت

خیار رؤیت کیا ہے؟ اس سے متعلق مصنف بہار شریعت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چیز کو بغیر دیکھے بھالے خرید لیتے ہیں اور دیکھنے کے بعد وہ چیز ناپسند ہوتی ہے، ایسی حالت میں شرع مطہر نے مشتری (خریدار) کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر دیکھنے کے بعد چیز کو نہ لینا چاہے تو بیع کو فسخ کر دے۔ اس کو خیار رؤیت کہتے ہیں۔ [بہار شریعت، حصہ: 11]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے:

مَنْ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ، إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

ترجمہ: ”جس نے ایسی چیز خریدی جس کو دیکھا نہ ہو، تو جب دیکھ لے اس کے بعد اسے اختیار ہے، لے یا چھوڑ دے۔“ [سنن البیہقی، سنن الدارقطنی، کنز العمال]

بیہقی و دارقطنی نے اسے بسند ضعیف روایت کیا ہے، مگر اس حدیث کو خود امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ اس کی مزید تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بصرہ میں تھی۔ وہ انہوں نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو بیچ دی۔ کسی نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس بیع میں آپ کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا: ”زمین میں نے بغیر دیکھے ہوئے خریدی ہے، اس لیے مجھے اس بیع میں خیار حاصل ہے۔“ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی کسی نے کہا کہ اس بیع میں آپ کا گھاٹا ہے۔ انہوں نے بھی فرمایا: ”میں نے اپنی زمین بغیر دیکھے بیچی ہے، اس لیے اس بیع میں مجھے بھی خیار حاصل ہے۔“ دونوں حضرات نے اس معاملے میں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو حکم بنایا۔ انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے خیار حاصل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ہوا، کسی نے اس پر انکار نہ کیا، تو گویا واقعہ کے وقت موجود تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا کہ کوئی چیز بغیر دیکھے خرید لی، تو خریدار کو خیار رؤیت حاصل ہوگا۔ [بہار شریعت، ہدایہ]

خیارِ عیب

عرف شرع میں عیب جس کی وجہ سے چیز کو واپس کر سکتے ہیں وہ ہے جس سے تاجروں کی نظر میں چیز کی قیمت کم ہو جائے۔ مبیع میں عیب ہو تو اس کا ظاہر کر دینا بائع پر واجب ہے، چھپانا حرام و گناہ کبیرہ ہے۔ یوں ہی ثمن کا عیب مشتری پر ظاہر کرنا واجب ہے۔ اگر بغیر عیب ظاہر کیے چیز بیع کر دی تو معلوم ہونے کے بعد واپس کر سکتے ہیں۔ اس کو خیار عیب کہتے ہیں۔ خیار عیب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وقت عقد یہ کہہ دے کہ عیب ہوگا تو پھیر دیں گے، کہا ہو یا نہ کہا ہو، بہرحال عیب معلوم ہونے پر مشتری کو واپس کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ لہٰذا اگر مشتری کو چیز خریدنے سے پہلے عیب پر اطلاع نہ تھی، نہ وقت خریداری اس کے علم میں یہ بات آئی، بعد میں معلوم ہوا کہ اس میں عیب ہے، تو قطعاً عیب کم ہو یا زیادہ، خیار عیب حاصل ہوگا۔ کہ مبیع کو لینا چاہے تو پورے دام پر لے لے، واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ واپس نہ کرے بلکہ دام کم کر دے۔ ہاں اگر بائع نے یہ کہہ دیا ہو کہ میں اس کے کسی عیب کا ذمہ دار نہیں تو خیار عیب ثابت نہ ہوگا۔ [بہار شریعت]

اب اس مضمون سے متعلق چند حدیثیں پیش کی جاتی ہیں:

مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُبَيِّنْهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللهِ، أَوْ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ.

ترجمہ: ”جس نے عیب والی چیز بیچی اور اس کا عیب ظاہر نہ کیا وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضی میں ہے، یا فرمایا: ہمیشہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔“ [السنن لابن ماجہ، مشکوة المصابیح]

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ. مَنْ غَشَّنِي فَلَيْسَ مِنِّي.

ترجمہ: ”حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک غلے کی ڈھیری کے پاس سے گزرے، اس میں ہاتھ ڈال دیا، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی انگلیوں کو تری محسوس ہوئی، فرمایا: اے غلے والے! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! اس پر بارش پڑ گیا تھا۔ ارشاد فرمایا: تو نے بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہ رکھ دیا کہ لوگ دیکھتے، جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح مسلم، مشکوة المصابیح]

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ.

ترجمہ: ”خود نقصان میں پڑے نہ دوسرے کو نقصان میں ڈالے۔“ [مسند امام احمد، السنن لابن ماجہ، کنز العمال]

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، مَنْ ضَارَّ ضَارَّهُ اللهُ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللهُ عَلَيْهِ.

ترجمہ: ”خود ضرر اٹھائے نہ دوسرے پر ضرر ڈالے، جو ضرر پہنچائے گا اللہ اس کو ضرر پہنچائے گا، جو کسی کو مشقت میں ڈالے گا اللہ اس کو مشقت میں رکھے گا۔“ [المؤطا للامام مالک، سنن الدارقطنی، المستدرک للحاکم، السنن للبیہقی، کنز العمال]

حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بشیر نامی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ دو تین دن تک حاضر بارگاہ نہ ہوئے۔ پھر آئے تو ان کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ سرکار نے فرمایا: ”بشیر تمہارا رنگ کیوں بدلا ہوا ہے؟“ عرض کیا: ”میں نے ایک اونٹ خریدا تھا، وہ بھاگ نکلا، میں اسی کی تلاش میں تھا، میں نے اسے خریدتے وقت کوئی شرط نہ رکھی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

الْبَعِيرُ الشَّرُودُ يُرَدُّ مِنْهُ.

ترجمہ: ”بھگوڑا اونٹ اسی عیب کی وجہ سے واپس کیا جا سکتا ہے (پہلے سے شرط ہونا ضروری نہیں)۔“ [ابن النجار، کنز العمال]

حضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ جس نے خریدے میں کوئی عیب پایا اسے واپس کرے۔ [مصنف عبد الرزاق، کنز العمال]

حدیث: مخلد بن خفاف کہتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا تھا اور اس کو کسی کام سے لگا کر اس سے کچھ آمدنی بھی حاصل کر لی تھی، پھر میں نے اس کے عیب پر اطلاع پائی۔ میں نے اس کا مقدمہ عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پیش کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں غلام واپس کروں اور اس کے ذریعے جو آمدنی ہوئی ہے وہ بھی واپس کروں۔ پھر میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا: ”شام میں عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جا کر انہیں بتاؤں گا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسے معاملے میں یہ فیصلہ فرمایا:

الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ

ترجمہ: آمدنی ضمان کے ساتھ ہے۔ (یعنی جس کی ذمہ داری میں کوئی چیز ہو وہی اس کی آمدنی کا مستحق ہے، مبیع جب تک وہ واپس نہ ہو خریدار ہی کی ضمان میں ہے)۔“ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس شام کو جا کر یہ بات کہی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ آمدنی مجھے واپس ملے۔ [شرح السنة للبغوي، مشکوة المصابیح]

اقالہ

کبھی آدمی چیز خریدنے یا بیچنے کے بعد افسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ معاملہ ختم ہو جائے اور میری چیز پھر سے مجھے واپس مل جائے، مگر تنہا وہ بیع ختم نہیں کر سکتا جب تک دوسرا راضی نہ ہو۔ حدیث پاک میں اس کی ترغیب آئی ہے کہ کوئی اپنے معاملے پر پشیمان ہے، اس کی خاطر داری کے لیے دوسرے نے بھی موافقت کر کے معاملہ ختم کر دیا، تو رب العالمین کے یہاں ثواب کا مستحق ہوگا۔ تو دو شخصوں کے درمیان پہلے جو عقد ہوا اسی کے ختم کر دینے کو اقالہ کہتے ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اللهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ترجمہ: ”جو کسی مسلمان سے اقالہ کرے اللہ اس کی لغزش کو روز قیامت معاف فرمائے گا۔“ [سنن ابو داؤد، مشکوة المصابیح]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!