| عنوان: | لا وارث چینلز اور گروپ ایک فکری المیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار |
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ہر فرد کی خواہش بن چکی ہے کہ اس کا بھی کوئی نہ کوئی گروپ یا چینل ہو، جس میں کثیر تعداد میں فالوورز ہوں، لوگ اس سے جڑے ہوں اور اس کی بات سنی جائے۔ بظاہر یہ خواہش فطری معلوم ہوتی ہے، مگر جب اس کے پیچھے کوئی مقصد، منصوبہ بندی اور ذمہ داری نہ ہو تو یہی خواہش ایک اجتماعی مسئلہ بن جاتی ہے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بے شمار گروپس اور چینلز محض شوقیہ طور پر بنا دیے جاتے ہیں۔ ابتدا میں دو چار پوسٹیں ڈال دی جاتی ہیں، چند لوگوں کو شامل کر لیا جاتا ہے، اس کے بعد وہ گروپ یا چینل ایسے لاوارث ہو جاتے ہیں جیسے ان کا کوئی پوچھنے والا ہی نہ ہو۔ نہ مستقل مزاجی ہوتی ہے، نہ معیار، نہ رہنمائی اور نہ ہی کوئی واضح سمت۔
گروپس اور چینلز کی اس کثرت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ لوگ اب تحریریں پڑھنے کے بجائے محض برائے نام شامل رہتے ہیں۔ ایک ہی نوعیت کی تحریریں، ایک ہی انداز کی پوسٹیں بار بار دہرائی جاتی ہیں، جس سے قاری کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور سنجیدہ مواد بھی نظر انداز ہو جاتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے اور بغیر مقصد کے کسی بھی کام میں کامیابی ممکن نہیں۔ یہی اصول گروپ اور چینل بنانے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی واضح مقصد نہیں، اگر آپ کے پاس دینے کے لیے کوئی نیا، مفید یا با معنی مواد نہیں، تو محض چینل یا گروپ بنا لینا کسی خدمت کے زمرے میں نہیں آتا۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج عالم ہو یا عام آدمی، ہر کوئی گروپ یا چینل بنانے میں مصروف ہے، اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ وہ اسے چلانے کا اہل بھی ہے یا نہیں۔ نہ وقت دیا جاتا ہے، نہ مواد کی فکر کی جاتی ہے، نہ سامعین و قارئین کی ذمہ داری محسوس کی جاتی ہے۔ یہی لاپروائی سوشل میڈیا کو بے مقصد بے شعور شور میں تبدیل کر رہی ہے۔
خدارا! بلا وجہ چینلز اور گروپس بنا کر لوگوں کا وقت برباد نہ کریں۔ یہ وقت ایک امانت ہے اور اس کا درست استعمال ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند گنے چنے گروپس اور چینلز کے علاوہ اکثر جگہوں پر صرف ایک ہی طرح کی پوسٹ، ایک ہی موضوع اور ایک ہی تحریر گردش کرتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ دھیان دینا چھوڑ دیتے ہیں۔
دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان صرف انہیں گروپس اور چینلز سے وابستہ رہے جو واقعی مفید ہوں، جہاں کچھ سیکھنے کو ملتا ہو، جہاں مقصد واضح ہو اور مواد معیاری ہو۔ فضول، غیر سنجیدہ اور لاوارث گروپس و چینلز سے دور رہنا ہی ذہنی سکون اور فکری ترقی کا ذریعہ ہے۔
یہ اصول صرف واٹس ایپ تک محدود نہیں بلکہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹیلی گرام اور دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کم مگر معیاری، مختصر مگر با مقصد یہی کامیاب سوشل میڈیا کی پہچان ہے۔
اگر ہم سب اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں تو نہ صرف سوشل میڈیا کا معیار بہتر ہو سکتا ہے بلکہ ہمارا وقت، توجہ اور فکری توانائی بھی درست سمت میں استعمال ہو سکتی ہے۔
