| عنوان: | فتاویٰ شارحِ بخاری میں دیوبندیت کی تشریح |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز نے رسالہ: إِزَالَةُ الْعَارِ بِحَجَرِ الْكِرَامِ عَنْ كِلَابِ النَّارِ میں غیر مقلدین کے چار طبقات بیان فرمائے ہیں۔ دو طبقے کافرِ کلامی ہیں۔ ایک طبقہ کافرِ فقہی ہے اور ایک طبقہ گمراہ وغیرہ کافر ہے۔ اسی اعتبار سے دیوبندیوں کے چار طبقات ہوں گے۔
فتاویٰ شارحِ بخاری میں دیوبندیوں سے متعلق ایک فتویٰ درج ہے۔ اس کے بعض اقتباسات تشریح طلب ہیں، اس لیے ان عبارتوں کی توضیح رقم کی جاتی ہے۔
پس منظر یہ ہے کہ حضور شارحِ بخاری علیہ الرحمہ نے ایک فتویٰ لکھا تھا، جس میں توہینِ رسالت کے سبب دیوبندیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ اس پر سوال ہوا کہ کیا ہر دیوبندی کافر ہے؟ جواب میں آپ نے فرمایا کہ جو ان کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر ان کو مومن اور پیشوا مانے، وہ حقیقی دیوبندی ہے، اور کافر و مرتد ہے۔ جو ان کے کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو، وہ کافر و مرتد نہیں، وہ حقیقی دیوبندی نہیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ فرقہ دیوبندیہ کے بہت سے لوگ ان کے کفریہ عقائد پر مطلع نہیں، لیکن وہ دیوبندی مذہب سے وابستہ ہیں۔ ان غیر مطلع اور بے خبر دیوبندیوں میں بعض لوگ کافرِ فقہی ہیں اور بعض لوگ گمراہ ہیں، کافرِ فقہی یا کافرِ کلامی نہیں۔
حضور شارحِ بخاری علیہ الرحمہ نے اسی زیرِ بحث فتویٰ میں دوبارہ وضاحت بھی فرمائی کہ دیوبندی سے ہماری مراد وہی مرتد دیوبندی ہے اور اسی کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ باقی لوگ دیوبندی نہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ باقی لوگ مرتد دیوبندی نہیں، نہ ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔
ایسا نہیں کہ باقی لوگ سنی ہیں۔ پس منظر ذہن سے غائب ہونے کے سبب بعض قارئین نے یہ سمجھا کہ جو دیوبند کے کفریہ عقائد پر مطلع نہیں، وہ سنی ہیں، حالانکہ مراد یہ ہے کہ وہ مرتد دیوبندی نہیں ہیں۔ زیرِ بحث فتویٰ کا سوالنامہ مندرجہ ذیل ہے۔ سائل نے لکھا:
”آپ نے فتویٰ میں تحریر فرمایا ہے کہ تمام دیوبندی خصوصاً نور محمد ٹانڈوی توہینِ رسالت کرنے کی وجہ سے بلا شبہ کافر و مرتد ہیں۔ اس کی یا کسی دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنی، دعائے مغفرت کرنی بر بنائے مذہبِ صحیح کفر ہے۔ اب چند امور دریافت طلب ہیں۔ (1) کیا مطلقاً تمام دیوبندی کافر ہیں؟ نیز یہ کہ دیوبندی کسے کہتے ہیں؟ (2) جو حضرات خود کو دیوبندی کہتے ہیں مگر علمائے دیوبند کی کفری عبارتوں سے واقف نہیں ہیں، کیا ایسے حضرات کافر و مرتد ہیں؟ اور ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے؟“
سوالنامہ اور پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے جواب دیکھیں تو بات واضح ہو گی۔ زیرِ بحث فتویٰ کے شروع حصہ میں ہے:
”دیوبندی حقیقت میں وہ ہے جو مولوی اشرف علی تھانوی، مولوی خلیل احمد انبیٹھوی، مولوی قاسم نانوتوی، مولوی رشید احمد گنگوہی کی کفری عبارتوں پر مطلع ہوتے ہوئے بھی انہیں اپنا امام و پیشوا جانے، یا کم از کم مسلمان ہی جانے، اس لیے کہ ان لوگوں کی ان کفری عبارتوں میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صریح توہین ہے اور شانِ الوہیت میں کھلی ہوئی گستاخی ہے۔“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 386، دائرۃ البرکات گھوسی]
اس کے بعد اشخاصِ اربعہ کی کفریہ عبارتیں اور شرعی حکم نقل فرمانے کے بعد رقم فرمایا:
”اسی بنا پر یہ چاروں تو کافر ہیں ہی، ان کے علاوہ جو بھی ان چاروں کے ان مذکورہ بالا کفریات میں سے کسی ایک پر قطعی، یقینی، حتمی طور پر مطلع ہو، اور انہیں مسلمان جانے، کافر نہ کہے تو وہ بھی کافر ہے، اور یہی علمائے عرب و عجم، حل و حرم، ہند و سندھ کا متفقہ فیصلہ ہے جو حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ میں بار بار چھپ چکا ہے۔ اب دیوبندی وہ ہے جو ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر قطعی، یقینی حتمی طور پر مطلع ہو، پھر بھی ان چاروں کو یا ان چاروں میں سے کسی ایک کو اپنا پیشوا مانے، یا کم از کم اس کو مسلمان جانے، کافر نہ کہے۔ ایسے ہی لوگوں کی نمازِ جنازہ پڑھنی یا دعائے مغفرت کرنی بر بنائے مذہبِ صحیح کفر ہے، اور دیوبندیوں سے میری مراد فتویٰ نمبر 1353 میں ایسا ہی شخص ہے، بلکہ علمائے اہلِ سنت جب دیوبندی بولتے ہیں تو ان کی مراد دیوبندیوں سے ایسا ہی شخص ہوتا ہے۔“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 388، دائرۃ البرکات گھوسی]
توضیح: اس اقتباس میں سابقہ فتویٰ (فتویٰ نمبر: 1353) کا ذکر ہے، جس میں یہ رقم کیا گیا تھا کہ دیوبندی کافر ہیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ جب سوال ہوا تو آپ نے وضاحت فرمائی کہ دیوبندی سے میری مراد مرتد دیوبندی ہے جو اشخاصِ اربعہ کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر ان کو اپنا پیشوا مانے، یا مسلمان جانے۔
ایسے ہی دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ اسی طرح جب علمائے اہلِ سنت فرماتے ہیں کہ دیوبندی کافر ہیں تو ایسا ہی دیوبندی مراد ہوتا ہے جو ان کے کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر ان کو مومن مانے۔ جو دیوبندی ان کے کفریہ عقائد پر مطلع نہیں، وہ اشخاصِ اربعہ کی طرح کافرِ کلامی نہیں، لیکن وہ سنی بھی نہیں، بلکہ حسبِ شقاوت بعض لوگ کافرِ فقہی ہوں گے اور بعض لوگ محض گمراہ۔
منقولہ بالا اقتباس کے بعد والے کلام سے بعض قارئین کو غلط فہمی ہوئی۔ ان حضرات نے پس منظر پر غور نہیں کیا۔ بعد والی تحریر مندرجہ ذیل ہے:
”رہ گئے وہ لوگ جو ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر مطلع نہیں۔ قطعی یقینی اطلاع نہیں۔ وہ صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت، ان کی نماز، ان کے روزوں کو دیکھ کر انہیں عالم، مولانا جانتے ہیں۔ ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام جانتے ہیں۔ وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور ان کا یہ حکم نہیں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں، اور دوسرے لوگ بھی ان کو دیوبندی کہتے ہوں۔“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 389، دائرۃ البرکات گھوسی]
توضیح: منقولہ بالا اقتباس میں یہ بتایا گیا کہ جو دیوبندی کفریہ عقائد پر مطلع نہیں، وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور اس کا یہ حکم نہیں، یعنی وہ مرتد دیوبندی نہیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر نہیں۔ یہ مراد نہیں ہے کہ جو کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو، وہ کافرِ فقہی اور گمراہ بھی نہیں، بلکہ وہ سنی ہے، جیسا کہ بعض قارئین نے سمجھا ہے۔ حضرت نے خود ہی اپنی مراد بیان فرما دی ہے کہ اس کے دیوبندی نہ ہونے کا مطلب کیا ہے۔ مذکورہ اقتباس کے بعد یہ عبارت ہے:
”اس لیے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو، لوگ بھی اس کو دیوبندی کہتے ہوں، وہ ان چاروں علمائے دیوبند کو اپنا مقتدا و پیشوا بھی مانتا ہو، حتیٰ کہ اہلِ سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو، مگر ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے، یا اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے: وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ.“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 389، دائرۃ البرکات گھوسی]
توضیح: حضرت جو فرما رہے ہیں کہ وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں، اس کی وضاحت بھی فرما رہے ہیں کہ حقیقت میں دیوبندی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص کافر (کافرِ کلامی) نہیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر نہیں۔ اب وہ شخص کافرِ کلامی نہیں تو کافرِ فقہی ہے یا نہیں؟ گمراہ ہے یا نہیں؟ اس بارے میں یہاں بحث بھی نہیں ہے، نہ ہی سائل نے ایسا سوال کیا تھا۔
سوال کو دوبارہ پڑھ لیا جائے۔ سوال میں یہی دریافت کیا گیا ہے کہ کون سا دیوبندی کافر (کافرِ اصلی) ہے اور کس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ جو کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو تو وہ کافر (کافرِ اصلی) ہے یا نہیں؟ جواب میں بھی اتنا ہی بتایا گیا کہ جو کفریہ عقائد پر مطلع ہو کر ان کو مومن و پیشوا مانے، وہ کافر (کافرِ اصلی) ہے، اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ جو کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو، وہ کافر (کافرِ اصلی) نہیں۔ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر نہیں، اگرچہ وہ خود کو دیوبندی کہتا ہو، اور معمولاتِ اہلِ سنت کو ناجائز و حرام کہتا ہو۔ مفہوم یہ ہے کہ معمولاتِ اہلِ سنت کو ناجائز کہنے سے وہ کافرِ اصلی نہیں ہو سکتا۔ کفریہ عقائد سے لاعلمی کی حالت میں خود کو دیوبندی کہنے سے وہ کافرِ کلامی نہیں ہو سکتا۔ اب ایسا شخص کافرِ فقہی ہے، یا نہیں؟ کافرِ فقہی بھی نہیں تو گمراہ ہے یا نہیں؟ اس بارے میں اس فتویٰ میں کوئی وضاحت موجود نہیں، پس جہاں وضاحت موجود ہے، اس طرف رجوع کریں۔
علمائے متاخرین میں امام ابوالحسن اشعری و امام ابو منصور ماتریدی کے عکسِ جمیل، علمِ کلام میں غزالی و رازی کے جانشین، تفتازانی و جرجانی کے مثیل و نظیر امام احمد رضا قادری قدس سرہ القوی نے رسالہ ”اَلزُّلَالُ الْأَنْقٰى مِنْ بَحْرِ سَبْقَةِ الْأَتْقٰى“ (جسے رسالہ میں غلطی سے الزلال الانقی من کلام الکراہۃ لکھ دیا گیا ہے جو کہ درست نہیں) میں تفصیل رقم فرما دی ہے۔
جو لوگ خود کو دیوبندی کہتے ہیں اور معمولاتِ اہلِ سنت کو ناجائز یا شرک و بدعت کہتے ہیں، وہ شعارِ دیوبندیت اختیار کرنے کے سبب گمراہ و بد مذہب ہیں، اگرچہ وہ کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہوں، جیسے مسلمان شعارِ کفر اختیار کرنے پر کافر ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہو، اور نماز و روزہ کا پابند ہو۔
اسی طرح جو دیوبندی کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہوں، ان میں بعض کافرِ فقہی بھی ہوں گے۔ رسالہ ”ازالۃ العار“ میں بیان کردہ چاروں طبقات کی تفصیل پڑھیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ حقائق ظاہر ہو جائیں گے۔ وہاں غیر مقلد وہابیہ کے چار طبقات کا بیان ہے۔ وہی احکام مقلد وہابیہ پر بھی منطبق ہوں گے، بلکہ دیگر فرقِ باطلہ مرتدہ پر بھی۔
وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ.
