| عنوان: | لڑکیوں کی جلد شادی کی ترغیب ضروری کیوں؟ |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
اسلام ایک ایسا دینِ فطرت ہے جو انسانی زندگی کے ہر مرحلے میں توازن، پاکیزگی اور تحفظ کو مقدم رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف عبادات کا جامع نظام عطا کیا بلکہ معاشرت، خاندانی نظام اور اخلاقی قدروں کی بھی ایسی مضبوط بنیاد رکھی جو ہر دور میں انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوا۔ نکاح اور شادی بھی اسی فطری نظام کا ایک نہایت اہم اور حساس حصہ ہے۔ بالخصوص جب معاملہ اولاد خصوصاً بیٹیوں کا ہو تو والدین پر اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ والدین کی جانب سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ بچیوں کی شادی میں جلدی کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ کیا تعلیم، معاشی استحکام اور سماجی حیثیت کو دیکھنا ضروری نہیں؟ بظاہر یہ سوال معقول محسوس ہوتا ہے لیکن اگر ہم شریعتِ اسلامیہ، سیرتِ نبوی علیہ السلام اور عصرِ حاضر کے حالات پر گہری نظر ڈالیں تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بلاوجہ تاخیر دراصل خیر نہیں بلکہ کئی فتنوں اور آزمائشوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق جب لڑکی سنِ بلوغت کو پہنچ جائے، اس کے لیے نکاح کی صلاحیت پیدا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اسباب مہیا فرما دے تو والدین پر لازم ہے کہ وہ اس فریضے کو اولین ترجیح دیں۔ خاص طور پر آج کے دور میں جب فتنوں کا سیلاب امڈ آیا ہے، بے حیائی عام ہے، اخلاقی قدریں زوال کا شکار ہیں اور گناہ تک پہنچنے کے راستے نہایت آسان ہو چکے ہیں، ایسے میں بچیوں کی شادی میں غیر ضروری تاخیر نہایت خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں امت کو نہایت واضح اور دو ٹوک رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے نکاح کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کر دو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہو جائے گا۔“ [مشکوٰۃ شریف]
یہ حدیثِ پاک ایک انتباہ ہے کہ نکاح میں تاخیر معاشرے کے بگاڑ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں دین اور اخلاق کے بجائے دولت، منصب، ڈگری، پیشہ، گاڑی اور کوٹھی کو معیار بنا لیا گیا ہے۔ والدین دین دار اور صالح رشتوں کو اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ لڑکا ڈاکٹر نہیں، انجینئر نہیں یا مالی اعتبار سے ان کے تصوراتی معیار پر پورا نہیں اترتا، حالانکہ تجربہ شاہد ہے کہ محض مال و دولت پر قائم ہونے والے رشتے اکثر دیرپا ثابت نہیں ہوتے جب کہ دین داری، اخلاق اور خوفِ خدا پر قائم گھرانے مشکلات میں بھی مضبوط رہتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے نکاح کے حوالے سے جو اصول بیان فرمایا وہ قیامت تک کے لیے رہنمائی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ: عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے: مال، خاندان، حسن اور دین، پھر تاکید فرمائی کہ دین والی کو ترجیح دو یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ یہ ارشاد اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ دین کو پسِ پشت ڈال کر کیے گئے فیصلے وقتی چمک تو رکھتے ہیں مگر انجام کے اعتبار سے خسارے کا سودا ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ وسائل کم ہونے کے باوجود اپنی بچیوں کی شادی نسبتاً جلد کر دیتے ہیں۔ اگر اسباب مکمل نہ بھی ہوں تو وہ صاحبِ خیر حضرات کے تعاون سے، سادگی اختیار کر کے اور توکل علی اللہ کے ساتھ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس خوشحال خاندان اپنی جھوٹی شان، سماجی مقابلہ بازی اور نام نہاد معیار کے چکر میں اتنی تاخیر کر دیتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے عمر ڈھل جاتی ہے اور ہزاروں بچیاں سنِ ایاس کو پہنچ جاتی ہیں جس کا ازالہ پھر ممکن نہیں رہتا۔
ایسے والدین کو چاہیے کہ وہ لمحہ بھر رک کر یہ سوچیں کہ آیا وہ اپنی بچیوں کے ساتھ واقعی خیر خواہی کر رہے ہیں یا نادانستہ طور پر انہیں آزمائشوں کے دہانے پر کھڑا کر رہے ہیں۔ تاریخ اور معاشرہ دونوں اس بات کے گواہ ہیں کہ شادی میں غیر ضروری تاخیر نے نہ جانے کتنے گھروں کو بربادی، بدنامی اور ندامت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔
عقل مندی یہی ہے کہ آگ لگنے سے پہلے اس کی تدبیر کر لی جائے کیونکہ جب نقصان ہو چکتا ہے تو صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔ اسی لیے دل سے نکلنے والی یہ صدا ہر ماں باپ کے لیے ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں، ان کی جوانی، عزت اور مستقبل کو محض دنیاوی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ یاد رکھیے! آج جو گھر جل رہا ہے ضروری نہیں کہ کل وہ آپ کا نہ ہو۔ عبرت کی آنکھ کھول کر دیکھنے والا ہی حقیقت کو پہچان پاتا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہر بیٹی کا نصیب اچھا فرمائے۔ صالح، دین دار اور بااخلاق شریکِ حیات عطا کرے، والدین کو درست فیصلے کرنے کی توفیق دے اور ہمارے معاشرے کو فتنوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
[ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، فروری 2026ء، ص: 32]
