دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

دشمنان صدیق اکبر پر لعنت کیجیے

دشمنان صدیق اکبر پر لعنت کیجیے
عنوان: دشمنان صدیق اکبر پر لعنت کیجیے
تحریر: محمد شفیع احمد عطاری رضوی

فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَرُوحِي وَقَلْبِي يَا سَيِّدِي يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ!
حضور جان کائنات کے قربان جاؤں۔ کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے فضائل و مناقب اور خصائل و شمائل کو روز روشن سے زیادہ واضح و عیاں فرمایا وہیں صحابہ کرام کی شان اقدس میں گستاخی و بے ادبی پر وعید و تحدید بھی بیان فرمائی ہے۔ یاد رکھیں! جو آدمی کسی بھی ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان مبارکہ میں گستاخی کرتا ہے، انہیں برا بھلا کہتا ہے یا ان پر بہتان تراشی کرتا ہے وہ صرف صحابہ کرام کو ہی تکلیف نہیں پہنچاتا بلکہ درحقیقت وہ اللہ پاک اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایذا پہنچاتا ہے۔

جیسا کہ امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان اپنی مایہ ناز کتاب ”العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ“ میں رقم طراز ہیں: ”جو ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) میں سے کسی پر طعن کرتا ہے جناب باری تعالیٰ کے کمال حکمت و تمام قدرت یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غایت محبوبیت و نہایت منزلت پر حرف رکھتا ہے، اسی لیے سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ

خدا سے ڈرو! خدا سے ڈرو! میرے اصحاب کے حق میں، انہیں نشانہ نہ بنا لینا میرے بعد، جو انہیں دوست رکھتا ہے میری محبت سے انہیں دوست رکھتا ہے اور جو ان کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے، جس نے انہیں ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو گرفتار کر لے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 355]

اللہ اللہ! کتنی عبرت کی بات ہے۔ اب سنیے! انہیں صحابہ کرام میں سے ایک جان نثار، با وفا و با وقار، یار غار و یار مزار، افضل الصحابہ بعد از انبیائے و رسل، مکرم، أحق الخلافۃ، سب سے پہلے خلیفہ، اعلم الصحابہ، سب سے بڑے ولی، سب سے بڑے بہادر، سب سے پہلے مبلغ اسلام، سب سے بڑے متقی، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عبد اللہ بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں۔ اب جو کوئی ان کی شان مبارکہ میں گستاخی کرے تو گویا وہ اللہ و رسول کی شان میں بے ادبی کرتا ہے اور ان کو تکلیف پہنچانا درحقیقت خدا و رسول کو ایذا پہنچانا ہے۔ الغرض

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یار غار محبوب خدا صدیق اکبر کا

اب آئیے! شان صدیقی میں نازیبا کلمات استعمال کرنے والوں، ان کی بے ادبی و گستاخی کرنے والوں اور ان کو برا بھلا کہنے والوں کی وعید و تحدید پر مشتمل دو احادیث کریمہ بنسبت شیخین نوک قلم کیا جاتا ہے۔

70 نبیوں کے برابر نیکیاں کیوں نہ ہوں!

سلطان المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس قیام کے دوران ایک وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سخت پیاس لگی، آپ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا۔ رسول ذیشان، مکی مدنی سلطان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”غار کے اندر تک جاؤ! (وہاں پانی موجود ہو گا)، جاؤ! پی آؤ!“ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اٹھے اور غار کے اندر کی طرف چلے گئے۔ وہاں آپ کو پانی ملا، جو شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پانی پیا اور واپس آ گئے۔ سرکار عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! میں تمہیں ایک خوشی کی بات بتاؤں؟“ عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیوں نہیں۔ ضرور ارشاد فرمائیے!“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پاک نے جنت کی نہروں پر مقرر فرشتے کو فرمایا کہ وہ جنت الفردوس کی ایک نہر غار کے اندر نکال دے تاکہ ابوبکر پانی پی سکے۔“ یہ خوشخبری (Good News) سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حیرت سے عرض کیا: ”کیا اللہ پاک کے ہاں میری اتنی قدر ہے؟“ فرمایا: ”ہاں! بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اے ابوبکر! اس ذات کی قسم جس نے مجھے سچا نبی بنا کر بھیجا! تم سے بغض و حسد رکھنے والا چاہے 70 نبیوں کی نیکیوں کے برابر نیکیاں لے آئے، ہرگز جنت میں نہیں جائے گا۔“ [تاریخ مدینہ دمشق، ج: 30، ص: 150]

محترم قارئین کرام! ہمارے لیے اس واقعہ میں عبرت ہی عبرت ہے۔ غور کریں کیا فرمایا نبی کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ کہ دشمنان صدیق اگرچہ 70 نبیوں کی نیکیوں کے برابر نیکیاں لے کر آئے، پھر بھی وہ دار الخلود و جنت میں ہرگز، ہرگز اور ہرگز داخل نہ ہو سکے گا۔ اس حدیث پاک میں ”جو 70 نبیوں کی نیکیوں کے برابر نیکیاں لے کر آئے“ فرمایا گیا وہ علی سبیل الفرض ہے کہ ویسے تو کوئی بھی ہو کسے باشد ایک نبی کے برابر نیکیاں نہیں کر سکتا چہ جائیکہ 70 نبیوں کے برابر نیکیاں! پھر بھی اگر بر سبیل فرض یہ مان بھی لیا جائے کہ کوئی 70 انبیائے کرام کے برابر نیکیاں اکٹھا کر لے تو بھی وہ داخل جنت نہیں ہوگا، اگر ان کے اندر بغض صدیق ہو، عداوت صدیق ہو اور دشمنی صدیق ہو۔ فَاعْتَبِرُوْا یَا أُولِي النُّهَى۔ الامان والحفیظ!

دشمن صدیق پر لعنت برستی ہے

صحابی رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن سرکار عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر جلوہ فرما ہوئے، اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”ابوبکر کہاں ہیں؟“ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میں یہاں حاضر ہوں۔“ فرمایا: ”ابوبکر! میرے قریب آ جاؤ!“ آپ قریب حاضر ہوئے، میرے اور آپ کے آقا، محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے سینے سے لگایا اور اپنے پیارے پیارے نورانی ہونٹوں سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیشانی کو چوم لیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ اس وقت رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آپ نے صدیق اکبر کا ہاتھ پکڑ کر اونچی آواز سے فرمایا: ”اے مسلمانوں کے گروہ! یہ ابوبکر صدیق ہے، یہ مہاجرین کا بھی سردار ہے، انصار کا بھی سردار ہے، یہ میرا ساتھی ہے، اس نے میری اس وقت تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، پس جو اس سے بغض رکھے، اس پر اللہ پاک کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو۔ اللہ بھی اس سے بری ہے اور اس کے رسول بھی اس سے بری ہیں۔ تو جو اللہ اور اس کے رسول سے براءت چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ ابوبکر صدیق سے براءت کا مظاہرہ کرے۔“ آخر میں فرماتے ہیں تم میں سے شاہد کو چاہیے کہ وہ غائب کو پہنچا دے۔ [الریاض النضرۃ، الباب الرابع... ج: 1، ص: 244، ملتقطاً]

اللہ اللہ! اس حدیث پاک میں صاف لفظوں میں نبی کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا: کہ دشمنان صدیق اکبر پر اللہ کی لعنت ہو، لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو۔ اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں جو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض و دشمنی رکھے۔ اس سے ان لوگوں کو بھی درس عبرت اخذ کرنے کی اشد ضرورت ہے جو خود پڑھنے سے زیادہ سن کر آگے باتوں کو شیئر کر دیتے ہیں اور صحابہ و اہل بیت کی شان میں گستاخی کرتے نظر آتے ہیں، نہ یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ کہاں تک درست ہے؟ اور نہیں کسی مستند کتب میں تلاش و جستجو کی سعی کرتے ہیں۔ دشمنان صحابہ کرام کا ایمان خطرے میں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی گستاخی کی وجہ سے بوقت نزع کلمہ پڑھنا نصیب نہ ہو اور ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم رسید ہو۔ تمام صحابہ کرام اور بالخصوص صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض و عداوت رکھنے والوں کو یہ واقعہ پڑھ کر، سمجھ کر بغض صحابہ کرام اور بغض صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے باز رہنے کی اشد حاجت ہے۔ نیز اپنے ایمان کی فکر کی سخت ضرورت ہے۔ کہیں ایسا ہو نہ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں بے ادبی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں خسارہ و نقصان اٹھانا پڑ جائے اور سوائے پچھتاوے کے اور کوئی چیز ہاتھ نہ آئے۔

مزید تفصیل کتب ذیل میں جانیں!

  • الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ
  • موسوعۃ ابن ابی الدنیا
  • تاریخ مدینۃ دمشق

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحابہ کرام کا با ادب بنائے اور بالخصوص صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا با ادب بنائے اور تمام صحابہ کرام کی شان میں بے ادبی و گستاخی سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!