| عنوان: | روحِ اسلام (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
صوفیہ اہل اسلام کی اس پاکیزہ جماعت کا نام ہے جس نے رب کی معرفت، رسول کی پیروی، خلق کی ہدایت اور بندگانِ خدا کی خدمت میں وہ مقام حاصل کیا کہ دوسروں کو حاصل نہ ہوا۔ اکنافِ عالم میں اسلام کی اشاعت ان ہی کی بلند کوششوں کا ثمرہ ہے۔ ان کی صاف دلی، سلامت روی اور بلند اخلاقی سے اپنے تو اپنے غیر بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ خود برصغیر ہند و پاک میں آج اسلام و سنت کی جو روشنی نظر آ رہی ہے، اس میں سلاطین کی تگ و دو سے زیادہ صوفیہ کرام کی مساعیِ جمیلہ کا حصہ ہے۔
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جنہوں نے رسمی علوم میں کمال حاصل کیا، مگر وہ حقیقی و غیر متزلزل یقین کے طالب تھے۔ بڑی جانچ پڑتال کے بعد ان پر یہی منکشف ہوا کہ صوفیہ کا طریقہ ہی سب سے افضل و اعلیٰ ہے۔ آپ اپنی کتاب ”المنقذ من الضلال“ میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کا علم قطعی حاصل ہو گیا کہ صرف صوفیہ ہی وہ ہیں جو راہِ خدا پر گامزن ہیں، ان کا راستہ سب سے زیادہ صحیح اور ان کے اخلاق سب سے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ ان کی ہر روش مشکاۃِ نبوت کے نور سے حاصل شدہ ہے اور روئے زمین پر نورِ نبوت کے سوا کوئی ایسا نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جائے۔
امام یافعی عبداللہ بن اسعد یمنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل طریقت پر ان نادانوں کا اعتراض ایسا ہی ہے جیسے کوئی مچھر کسی پہاڑ پر بار بار پھونک مارے اور یہ چاہے کہ اس کے پھونکنے سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے۔ [الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر، ص: 9] اسی طرح صاحبِ قاموس مجدد الدین فیروز آبادی فرماتے ہیں کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنی نظرِ قاصر سے صوفیہ کرام پر نکیر و اعتراض روا رکھے، اس لیے کہ وہ فہم و کشف میں بلند درجے رکھتے ہیں۔ [الیواقیت والجواہر، ص: 13]
اعتراض کے لیے شرائط
شیخ الاسلام مخزومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی عالم کے لیے صوفیہ پر اعتراض روا نہیں جب تک کہ ان کی راہ پر نہ چلے۔ وہ بتاتے ہیں کہ صوفیہ پر اعتراض سے پہلے ستر باتوں سے آگاہ ہونا شرط ہے، جن میں سے چند اہم یہ ہیں کہ انسان اولیاء کی کرامات کی معرفت رکھتا ہو، زبانِ عرب کے مجازات و استعارات سے آشنا ہو، سلف و خلف کے مقامات کو جانتا ہو اور سب سے بڑھ کر صوفیہ کی مخصوص اصطلاحات جیسے تجلیِ ذاتی، احدیت، وحدانیت، سکر و محبت وغیرہ کے معانی سے واقف ہو۔ جو شخص ان حضرات کی مراد ہی سے بے خبر ہو وہ ان پر کیا اعتراض کرے گا؟
علامہ ابن حجر عسقلانی رضی اللہ عنہ جیسے عظیم محدث و فقیہ کا قصہ مشہور ہے کہ جب انہوں نے صوفیہ کے کلام پر غور کیا اور حضرت سیدی مدین رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں انتباہ فرمایا، تو انہوں نے صوفیہ کی محبت اور ان کی رفاقت اختیار کر لی اور اسی طریق پر وفات پائی۔ [الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر، ص: 13] آج کے دور کے معترضین اصطلاحاتِ صوفیہ سے ناواقفیت کی بنا پر ان پاکیزہ نفوس پر زبان درازی کرتے ہیں، حالانکہ تصوف ہی اسلام کی اصل روح ہے۔
