دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط آخر)

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط آخر)
عنوان: توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط آخر)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

نوٹ: اس قسط کو پڑھنے سے پہلے قسط چہارم کا مطالعہ کریں۔

آئینہ خانہ کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اسے دیکھنے والے تین قسم کے لوگ ہوں گے۔ اول ناسمجھ بچے جنہوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ موجود ہے یہ سب عکس بھی موجود ہیں، حالانکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ وہاں تو بادشاہ ہی بادشاہ ہے اور یہ سب اسی کے عکس ہیں جو حقیقی وجود سے کوئی حصہ نہیں رکھتے۔ دوم اہل نظر و عقل کامل جنہوں نے یہ اعتقاد بنایا کہ وجود صرف ایک بادشاہ کے لیے ہے اور باقی سب ظل و عکس ہیں جو عدمِ محض کے سوا کچھ نہیں۔ یہی حق و حقیقت ہے اور یہی وحدت الوجود ہے۔ سوم عقل کے اندھے جنہوں نے اپنی سفاہت سے عیوب و نقائص کو بادشاہ کی طرف منسوب کر دیا اور حلول و اتحاد کے قائل ہو گئے۔ تَعَالَى اللهُ عَمَّا يَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔

وجودِ حقیقی کی تجلی نے اپنے بہت سے ظلال پر نفس ہستی کے سوا حیات، علم، سمع و بصر جیسی صفات کا بھی پرتو ڈالا ہے۔ اہل حق نے ان صفات کی دو قسمیں کی ہیں: حقیقی ذاتی جو متجلی کے لیے خاص ہے اور ظلی عطائی جو ظلال کے لیے ہے۔ یہ تقسیم اشتراکِ معنی نہیں بلکہ محض موافقت فی اللفظ ہے اور یہی عین معرفت ہے۔

طبرانی نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل روزِ قیامت سب اگلوں پچھلوں کو ایک زمین میں جمع فرمائے گا پھر زیرِ عرش سے منادی ندا کرے گا:

يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ! إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ عَفَا عَنْكُمْ

ترجمہ: ”اے توحید والو! مولا تعالیٰ نے تمہیں اپنے حقوق معاف فرمائے۔“ امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اہل توحید سے مراد یہی محبوبانِ خدا ہیں کہ توحیدِ خالص انہیں کا حصہ ہے۔ یہ بندگانِ خدا نہ صرف عبادت بلکہ خود اصلِ ہستی وجود میں اپنے رب کی توحید کرتے ہیں۔

حاصلِ کلام اور اہم نکات

  • توحید کے بارے میں جو عام امت کا عقیدہ ہے، صوفیہ بھی اسے پورے یقین کے ساتھ مانتے ہیں۔
  • اہل سلوک اپنی ترقیِ معرفت کے نتیجے میں لا موجود الا اللہ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
  • صوفیہ حقیقی و ذاتی وجود صرف وجودِ واجب کو مانتے ہیں اور ظلی و عطائی وجود دوسروں کے لیے تسلیم کرتے ہیں۔
  • صوفیہ کا کشف و شہود کتاب و سنت کی تائید کے ساتھ ہوتا ہے۔
  • صوفیہ کرام میں سے کوئی بھی واجب و ممکن کے اتحاد کا قائل نہیں، یہ الحاد والوں کا قول ہے۔
  • اہل تصوف حلول کے عقیدے کو باطل مانتے ہیں۔

مختصر یہ کہ صوفیہ کی توحید ہر قسم کے شرکِ خفی و جلی سے پاک اور انتہائی بلند مرتبہ پر فائز ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!