| عنوان: | مختصر سیرت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | ابن عارف محمد فہد عطاری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان مخدوم لاھوری، موڈاسا، گجرات |
آپ رضی اللہ عنہ کا نام نامی اسم گرامی معاویہ ہے۔ آپ کی کنیت ابو عبد الرحمٰن ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب ”عبد مناف“ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سلسلہ نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ابو سفیان اور والدہ کا نام حضرت سیدتنا ہند رضی اللہ عنہما ہے۔
حضرت سیدنا یونس بن حلبس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خچر پر سوار دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خادم بھی سوار تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پیوند زدہ قمیص زیب تن فرمائی ہوئی تھی، اس حالت میں آپ رضی اللہ عنہ دمشق کے بازار کا دورہ فرما رہے تھے۔ عاجزی انکساری ہمارے اسلاف کی سیرت کا ایک شاندار پہلو ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ ہمارے پیارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سادگی کے پیکر تھے۔ سادگی اپنانے کی عادت اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی خصلت ہماری زندگی میں شامل ہو جائے تو بہت سی خرابی اور پریشانیوں سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
اللہ عزوجل کے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دعا سے نوازتے ہوئے فرمایا:
اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَمَكِّنْ لَهُ فِي الْبِلَادِ
ترجمہ: ”اے اللہ عزوجل! انہیں کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور انہیں شہروں کی حکمرانی عطا فرما۔“
ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکومت کے متعلق یوں نصیحت فرمائی: ”اے معاویہ! اگر تمہیں کوئی ذمہ داری سونپی جائے، اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل کرنا۔“ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان کے سبب مجھے حاکم بننے کی آزمائش میں مبتلا ہونے کا یقین ہو گیا تھا اور آخر کار میں اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا۔ سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک زبان سے نکلا ہوا جملہ پتھر پر لکیر کی مانند ہے، لہٰذا اس دعائے مصطفیٰ اور نصیحت کا اثر کچھ یوں ظاہر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکومت عطا فرمائی، فتوحات کی نعمت آپ کے ہاتھ میں آئی اور اسلام کی ترقی اور ترویج و اشاعت کا عظیم کام بھی آپ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔
حضرت سیدنا ابو زرعہ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک شخص نے کہا: ”میں معاویہ سے بغض رکھتا ہوں۔“ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے یہ وجہ بیان کی: ”کیوں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی۔“ حضرت ابو زرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”تیرا برا ہو، حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا رب رحیم ہے اور ان کے مد مقابل (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نہایت کریم ہیں، تو تیری کیا مجال کہ ان دونوں کے معاملے میں دخل دے؟“
ہر صحابی نبی جنتی جنتی
حضرت معاویہ بھی جنتی جنتی
