دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مسلمانوں کی عظمت اور آج کا حال

مسلمانوں کی عظمت اور آج کا حال
عنوان: مسلمانوں کی عظمت اور آج کا حال
تحریر: محمد صالح مصطفائی
پیش کش: دار العلوم فیضان اشرف باسنی، راجستھان

ایک وقت تھا جب مسلمان دنیا کی قیادت کرتے تھے۔ ہر میدان میں چاہے وہ سیاست ہو، تعلیم ہو، تجارت ہو یا طبی میدان، مسلمان سب میں آگے تھے۔ دنیا کے لوگ مسلمانوں کو قابل اعتماد اور رہنما مانتے تھے۔ مسلمانوں کی کامیابی ان کے علم، محنت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے تھی۔ ہر جگہ مسلمان علم اور انصاف کی مثال بنے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی یہ کامیابی ان کے دین اور اصولوں پر چلنے کی وجہ سے تھی۔ وہ صرف دنیاوی ترقی کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے بلکہ اچھے اخلاق، ایمانداری اور انصاف کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ علم حاصل کرنا، محنت کرنا اور صبر و استقلال کے ساتھ کام کرنا ان کی عادت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر مسلمان میدان میں آگے نظر آتا تھا اور دنیا کے لوگ انہیں معتمد لیڈر مانتے تھے۔

لیکن آج وہ وقت ہمارے درمیان نہیں ہے، آج ہم جدید دنیا میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ پہلے کے مسلمانوں کو ہر میدان میں کامیابی حاصل تھی، لیکن آج کے مسلمانوں کو اکثر ناکام اور پیچھے رہتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ کسی نے ہماری قیادت چھینی یا ہمارا وقار چھینا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہم نے خود اپنے رویے اور عادات کی وجہ سے اپنی عظمت کھو دی۔ ہم نے سب سے پہلے اتحاد کو چھوڑ دیا۔ مسلمان کبھی ایک دوسرے کے ساتھ متحد رہتے تھے اور اسی اتحاد کی وجہ سے بڑے بڑے کام انجام دے پاتے تھے۔ لیکن آج ہم میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اتحاد کی کمی نظر آتی ہے۔ ہم سب اپنی ذاتی زندگی اور کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ہم اجتماعی کامیابی حاصل نہیں کر پا رہے۔

دوسری بڑی وجہ تعلیم کو پس پشت ڈالنا ہے۔ پہلے کے مسلمان علم کے پیچھے لگے رہتے تھے انہوں نے دنیا کے ہر علم کو سیکھا اور اسے اپنے کام میں استعمال کیا۔ انہوں نے تعلیم کو سب سے اہم سمجھا، چاہے وہ مذہبی تعلیم ہو یا دنیاوی علم۔ آج کے مسلمانوں میں تعلیم کی اہمیت کم ہو گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے طریقۂ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑ دیا۔ ہمارے بزرگان دین نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقوں پر چل کر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ہر کام میں اخلاق، صبر، محنت اور انصاف کو مدنظر رکھا۔ لیکن ہم نے ان اصولوں کو چھوڑ دیا اور دنیاوی دکھاوے کے پیچھے بھاگنے لگے۔ ہم غیر ممالک کے طریقے اپنا کر اپنی اصل شناخت بھول گئے ہیں۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:

طریق مصطفی کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی
اسی سے ہوئی ہے قوم بے اقتدار اپنی

اگر ہم آج بھی وہ اصول اپنائیں جو ہمارے بزرگ مسلمانوں نے اپنائے، تو کامیابی دوبارہ ہمارے قدم چوم سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم حاصل کریں، محنت کریں، صبر و استقامت سے کام لیں، اپنے معاشرے کے لیے اچھا کام کریں اور دین کے اصولوں پر عمل کریں۔ تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں، اپنے معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں، اچھے اخلاق اپنائیں اور طریقۂ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصولوں پر چلیں۔ جب ہم یہ سب کریں گے تو دنیا ہمیں دوبارہ قابل اعتماد اور لیڈر کے طور پر پہچانے گی۔ مسلمانوں کو عزت اور مقام دوبارہ حاصل ہوگا اور وہ دن دور نہیں جب دنیا مسلمانوں کی قیادت کو دوبارہ تسلیم کرے گی اور دنیا دوبارہ ہمیں وہ مقام دے گی جو کبھی ہمارا حق تھا۔

نہ ہو ماحول سے مایوس دنیا خود بنا اپنی
نئی کشتی، نئی آندھی، نئے طوفان پیدا کر
ایمان تیرا لٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایمان تیرا بچا لے وہ رہبر تلاش کر

اللہ تعالیٰ ہمیں علم حاصل کرنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے مقام کو پہچاننے کی توفیق بخشے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!