| عنوان: | جو خدا و رسول کا نہیں، وہ ہمارا کیسے ہو سکتا ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
گستاخ خدا و رسول قرآن کے آئینے میں
قرآن مجید اور احادیث کریمہ میں گستاخ خدا و رسول کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس حوالے سے بہترین رہنمائی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے ایک مضمون میں ان سب کو سپرد قرطاس نہیں کیا جا سکتا۔ چوں کہ فقیر راقم الحروف کا موضوع ہے ”جو خدا اور رسول کا نہیں وہ ہمارا کیسے ہو سکتا ہے؟“ تو آئیے! اس حوالے سے ایک آیت کریمہ پیش کی جاتی ہے پھر اس کی تفسیر و توضیح بھی پیش کی جائے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
ترجمہ کنز الایمان: ”تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے۔“ [المجادلۃ: 22]
تفسیر صراط الجنان میں ہے: شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم عطاری دام ظلہ العالی فرماتے ہیں: ”یہاں سے مخلص ایمان والوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم، جو لوگ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر سچا ایمان رکھتے ہیں آپ انہیں ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم سے مخالفت کی، یعنی ان سے یہ ہو ہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ان کا ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرما دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور وہ انہیں ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان، اخلاص اور طاعت کے سبب ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے کرم سے راضی ہوئے، یہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہے، سن لو! اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی کامیاب ہے کہ یہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے اور جنت کی عظیم الشان دائمی نعمتیں ہمیشہ کے لیے پائیں گے۔“
جو ان کا نہیں، وہ ہمارا نہیں
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بد دینوں، بد مذہبوں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے قلبی محبت، دوستی اور میل جول جائز نہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کافروں سے دوستی کرنا مسلمان کی شان اور اس کے ایمان کے تقاضوں کے برخلاف ہے۔ [صراط الجنان، ]
امام اہل سنت اور وضاحت آیت متذکرہ
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اس آیت کریمہ میں صاف فرما دیا کہ جو اللہ یا رسول کی جناب میں گستاخی کرے، مسلمان اس سے دوستی نہ کرے گا، جس کا صریح مفاد ہوا کہ جو اس سے دوستی کرے گا وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بالتصریح ارشاد فرمایا کہ باپ، بیٹے، بھائی، عزیز سب کو گنایا، یعنی کوئی کیسا ہی تمہارے زعم میں معظم یا کیسا ہی تمہیں بالطبع محبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے محبت نہیں رکھ سکتے، اس کی وقعت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہو گے۔ مولیٰ سبحانہ و تعالیٰ کا اتنا فرمانا ہی مسلمان کے لیے بس تھا مگر دیکھو وہ تمہیں اپنی رحمت کی طرف بلاتا، اپنی عظیم نعمتوں کا لالچ دلاتا ہے کہ اگر اللہ و رسول کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا کسی سے علاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے۔
- اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں ایمان نقش کر دے گا جس میں ان شاء اللہ تعالیٰ حسن خاتمہ کی بشارت جلیلہ ہے کہ اللہ کا لکھا نہیں مٹتا۔
- اللہ تعالیٰ روح القدس سے تمہاری مدد فرمائے گا۔
- تمہیں ہمیشگی کی جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔
- تم خدا کے گروہ کہلاؤ گے، خدا والے ہو جاؤ گے۔
- منہ مانگی مرادیں پاؤ گے بلکہ امید و خیال و گمان سے کروڑوں درجے افزوں۔
- سب سے زیادہ یہ کہ اللہ تم سے راضی ہوگا۔
- یہ کہ فرماتا ہے میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی، بندے کے لیے اس سے زائد اور کیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہو مگر انتہائے بندہ نوازی یہ کہ فرمایا اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
مسلمانو! خدا لگتی کہنا اگر آدمی کروڑ جانیں رکھتا ہو اور وہ سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثار کر دے تو واللہ کہ مفت پائیں، پھر زید و عمرو سے علاقۂ تعظیم و محبت، یک لخت قطع کر دینا کتنی بڑی بات ہے؟ جس پر اللہ تعالیٰ ان بے بہا نعمتوں کا وعدہ فرما رہا ہے اور اس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔“
جو دوستی کرے وہ گرفتار عذاب ہو
قرآن کریم کی عادت کریمہ ہے کہ جو حکم فرماتا ہے جیسا کہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بشارت دیتا ہے، نہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تازیانہ بھی رکھتا ہے کہ جو پست ہمت نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں، وہ عذاب بھی سن لیجیے:
تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَاتَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمْ وَ اِخْوٰنَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الۡاِیۡمٰنِ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ
ترجمہ: ”اے ایمان والو! اپنے باپ، اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے رفاقت پسند کرے وہی لوگ ستم گار ہیں۔“ [التوبۃ: 23]
اور فرماتا ہے کہ:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمْ تُسِرُّوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالْمَوَدَّۃِ ٭ۖ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیۡتُمْ وَمَاۤ اَعْلَنۡتُمْ ؕ وَ مَنۡ یَّفْعَلْہُ مِنۡکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱﴾ لَنۡ تَنۡفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَاۤ اَوْلٰدُکُمْ ۚۛ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۚۛ یَفْصِلُ بَیۡنَکُمْ ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ
ترجمہ: ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم چھپ کر ان سے دوستی کرتے ہو اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو اور تم میں جو ایسا کرے گا وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا۔ تمہارے رشتے اور تمہارے بچے تمہیں کچھ نفع نہ دیں گے۔ قیامت کے دن۔ اللہ تم میں اور تمہارے پیاروں میں جدائی ڈال دے گا کہ تم میں ایک، دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“ [الممتحنۃ: 1-3]
اور فرماتا ہے:
وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ
ترجمہ: ”تم میں جو ان سے دوستی کرے گا تو بے شک وہ انہیں میں سے ہے۔ بے شک اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالموں کو۔“ [المائدۃ: 51]
پہلی دو آیتوں میں تو ان سے دوستی کرنے والوں کو ظالم و گمراہ ہی فرمایا تھا، اس آیت کریمہ نے بالکل تصفیہ فرما دیا کہ جو ان سے دوستی رکھے وہ بھی ان میں سے ہے، ان ہی کی طرح کافر ہے، ان کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا اور وہ کوڑا بھی یاد رکھیے کہ ”تم چھپ چھپ کر ان سے میل رکھتے ہو اور میں تمہارے چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہوں“۔ اب وہ رسی بھی سن لیجیے جس میں رسول اللہ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے باندھے جائیں گے۔
تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:
وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ
ترجمہ: ”جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“ [التوبۃ: 61]
اور فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیۡنًا
ترجمہ: ”بے شک جو اللہ و رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں، اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ [الأحزاب: 57]
”اللہ عزوجل ایذا سے پاک ہے اسے کون ایذا دے سکتا ہے۔ مگر حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کو اپنی ایذا فرمایا۔ ان آیتوں سے اس شخص پر جو رسول اللہ کے بدگویوں سے محبت کا برتاؤ کرے، سات کوڑے ثابت ہوئے:
- وہ ظالم ہے۔
- گمراہ ہے۔
- کافر ہے۔
- اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
- وہ آخرت میں ذلیل و خوار ہوگا۔
- اس نے اللہ واحد قہار کو ایذا دی۔
- اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
اے مسلمان! اے مسلمان! اے امتی سید الانس و الجان صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم! خدارا، ذرا انصاف کر، وہ سات بہتر ہیں جو ان لوگوں سے یک لخت علاقہ ترک کر دینے پر ملتے ہیں کہ دل میں ایمان جم جائے اللہ مددگار ہو، جنت مقام ہو، اللہ والوں میں شمار ہو، مرادیں ملیں، خدا تجھ سے راضی ہو، تو خدا سے راضی ہو یا یہ سات بھلے ہیں جو ان لوگوں سے تعلق لگا رہنے پر پڑیں گے کہ ظالم، گمراہ، کافر، جہنمی ہو، آخرت میں خوار ہو، خدا کو ایذا دے، خدا دونوں جہان میں لعنت کرے۔ ہیہات، ہیہات کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سات اچھے ہیں، کون کہہ سکتا ہے کہ وہ سات چھوڑنے کے ہیں۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 312-315]
لیکن یہ بات ضرور مدنظر رکھیں کہ صرف قول ہی نہیں بلکہ فعل سے بھی اس کا اظہار ہونا چاہیے۔
کردار صحابہ دشمنان خدا و رسول کے ساتھ:
اس آیت [المجادلۃ: 22] میں مخلص ایمان والوں کا ایک وصف یہ بیان ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے دوستی نہیں کرتے اگرچہ وہ ان کے کیسے ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقابلے میں رشتے داری کا کوئی لحاظ نہیں، چنانچہ منقول ہے کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ احد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ بدر کے دن اپنے بیٹے عبد الرحمن کو لڑائی کے لیے طلب کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو جنگ بدر کے دن قتل کیا۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم، حضرت حمزہ اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جو ان کے رشتہ دار تھے۔ [صراط الجنان، تحت الآیۃ]
اللہ اللہ! اس آیت مذکورہ سے ان لوگوں کو درس عبرت اخذ کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کہتے پھرتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے ہم کسی کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ تو وہ اس آیت [المجادلۃ: 22] کا کیا جواب دیں گے جو صلح کلیت کے نشے میں دھت ہو کر کہتے پھرتے ہیں کہ کسی کو غلط کہنے کی کیا ضرورت، سب ٹھیک ہے؟ نیز کلام مذکور سے یہ بات اظہر من الشمس و ابین من الامس ہو جاتی ہے کہ جو بھی خدا رسول کی شان میں گستاخی و بے ادبی کرے اس سے ہرگز ہرگز ہرگز دوستی، مودت اور محبت نہیں کی جا سکتی۔ چاہیے وہ باپ ہی کیوں نہ ہو الغرض وہ کوئی بھی رشتہ دار ہو ان سے اسی وقت محبت و مودت کا حکم ہے جب کہ وہ خدا و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی و بے ادبی نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں سے ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ آمین۔
