| عنوان: | شہوت اور عقل کے درمیان انسان – زوال یا کمال |
|---|---|
| تحریر: | محمد عادل رضا قادری اسماعیلی، متعلم الجامعۃ الاسلامیۃ، بارہ بنکی |
اکثر انسانوں سے بے حیائی والے کام اور برے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں، کیوں کہ انسان خطا و نسیان کا مرکب ہے، لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایسی برائیاں کر بیٹھتا ہے جن کی وجہ سے اس کے اندر سے انسانیت زائل ہو جاتی ہے اور وہ ذلیل و خوار ہو جاتا ہے۔ ہر شخص کو بری حرکتوں اور بے حیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچا کر رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انسان اشرف المخلوقات ضرور ہے، لیکن کبھی کبھار اس پر ایسی حیوانیت طاری ہو جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ! جسے دیکھ کر حیوان بھی شرمندہ ہو جائے۔ آخر ایسی شیطانی حرکتیں لوگ کیوں کرتے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل بھی عطا کی ہے اور شہوات نفسانی بھی۔ عقل انسان کا وہ خاصہ ہے جو جانوروں کے پاس نہیں ہوتا۔ عقل کا مطلب ہے صحیح اور غلط کو پہچاننا اور شہوت وہ ہے جس سے برائیوں کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں۔ جانوروں میں خواہشات نفسانی ہیں مگر عقل نہیں، فرشتوں میں عقل ہے مگر شہوت نہیں اور انسان میں دونوں چیزیں موجود ہیں، عقل بھی اور شہوت بھی۔
اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے نفس کو دبا کر برائیوں سے بچتا ہے تو وہ فرشتوں سے افضل ہے، کیوں کہ فرشتے برائیوں سے اس لیے بچے ہوئے ہیں کہ ان کے پاس نفس نہیں ہے۔ اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر عقل کے ہوتے ہوئے انسان برائی کرے تو وہ غلیظ جانوروں سے بھی بدتر ہے، کیوں کہ جانور برائی سے اس لیے نہیں بچ پاتا کہ اس کے پاس عقل ہی نہیں ہوتی۔
جانور جیسے ہی کچھ بڑے ہوتے ہیں تو ان میں ماں، باپ، بھائی، بہن کے رشتے ختم ہو جاتے ہیں، ان کے لیے کوئی حدود و قیود نہیں ہوتیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی، تہذیب و شرافت عطا کی اور اس کے لیے حدود مقرر فرمائے۔ اب اگر انسان عقل کے ہوتے ہوئے بھی بدکاریوں میں مبتلا ہو جائے تو وہ ذلیل جانور سے بھی بدتر ہے۔
اب ہمیں اپنے آپ کو دیکھ لینا چاہیے کہ ہم کون سی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ کیا ہم شہوت کے غلام ہیں؟ یا عقل کا استعمال کر کے گناہوں سے بچنے والے ہیں؟ بڑی تکلیف ہوتی ہے آج کل مساجد کے حالات دیکھ کر۔ مسجدوں میں چند گنے چنے نمازی ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ دنیا کے کاموں یا فضولیات میں مصروف ہوتے ہیں مگر مسجد میں جانے کی توفیق نہیں ہوتی ہے اس طرح مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہو چکے ہیں کہ نہ کہیں:
زیادہ تر مسلمان گناہوں میں ملوث ہیں اور نیکی والے کاموں سے دور بھاگ رہے ہیں، کیا مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی حادثہ ہو سکتا ہے کہ کچھ بھائیوں نے ہی مل کر اپنی بہن کے ساتھ زنا کیا ہو؟ کرناٹک کے ایک شہر کا واقعہ ہے کہ تین بھائیوں نے مل کر اپنی ہی بہن کے ساتھ چار سال سے زنا کرتے رہے۔ استغفراللہ!
دل بہت دکھتا ہے یہ سوچ کر کہ ہم کس بلا میں گرفتار ہو گئے ہیں؟ آج آقائے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے کیا یہ وہی امت نہیں ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خیر الامم کہا تھا؟ جس امت کے لیے میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات رات بھر رویا کرتے تھے؟ آج اس امت کا یہ حال ہے کہ اس نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر فراموش کر دیا ہے۔
آج کے بچے سولہ سال کے ہوتے ہی یہ چاہتے ہیں کہ کسی لڑکی کو پھنسائیں اس سے معاشقہ کریں رنگ رلیاں منائیں اور اپنی نفسانی خواہشات پوری کریں، اسی کو وہ مقصد زندگی سمجھتے ہیں، سولہ سال تو بہت ہے، اب تو چھوٹے چھوٹے بچے پچھلے زمانے کے بوڑھوں سے بھی زیادہ نفسانیت اور لذات و خواہشات کے بارے میں جاننے لگے ہیں۔ اس قدر بے حیائیوں کا دور دورہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب تم قبرستان سے گزرو گے تو تمہیں یہ خیال کرو گے کہ کاش! میں بھی ان میں ہوتا، تو زیادہ اچھا ہوتا، اس لیے کہ جو جا چکے ہیں وہ بہت سے فتنوں سے محفوظ ہو گئے ہیں۔
دور دوراں میں حالات اتنے خراب ہیں کہ مت پوچھیے: باطل پرستوں کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کو چاروں طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی اذان پر انگلی اٹھائی جاتی ہے، کبھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس کو نشانہ بنایا جاتا ہے، حتیٰ کہ کلمے تک کی بات آ گئی ہے۔ اور ایسے حالات میں جب کہ گھروں کو آگ لگی ہوئی ہے پھر بھی ہماری قوم کے نوجوان عیاشیوں میں مبتلا ہیں، جو جس چیز کا ذمہ دار ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا۔
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اپنے نیچے والوں کا اور قیامت کے دن تم سے سوال ہوگا کہ تمہارے نیچے والے بگڑے کیسے تھے، باپ سے اس کی اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ استاد سے اس کے شاگردوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
امت کا درد ایک الگ درد ہوتا ہے۔ کبھی یہ خیال آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونا تو طے ہے، مرنے کے بعد قبر میں منہ دکھانا تو طے ہے۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھ لیا کہ تم وہاں سے آ رہے ہو جہاں لوگ ماؤں اور بیٹیوں کی عزت بھول چکے تھے، جہاں زنا اتنا عام ہو چکا تھا کہ جانور بھی اس طرح جوڑا نہیں کھاتے۔ تو ہم کیا جواب دیں گے؟
حضرت ماعز اسلمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے بہت بڑی خطا ہو گئی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا بتا نہیں سکتا، حضور نے فرمایا بتاؤ تاکہ تمہارا علاج کیا جا سکے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے زنا ہو گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا جاؤ یہاں سے۔ وہ صحابی رسول دھاڑیں مار کر رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ ہی منہ پھیر لیں گے تو میں کس کے پاس جاؤں گا؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ہوش میں ہو؟ تم جانتے ہو اس کی سزا اسلام میں کیا ہے؟ پتھروں سے مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ میں جانتا ہوں، آخرت کی سزا سے بہتر ہے کہ آپ مجھے دنیا میں پاک فرما دیں۔ تصدیق کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے جاؤ یہ اقراری مجرم ہیں۔ صحابہ انہیں جبل انم پہاڑی پر لے گئے اور ان پر پتھروں کی بارش کی گئی، یہاں تک کہ وہ پاک ہو کر اللہ سے جا ملے۔ یہ اسلام میں زنا پر دی جانے والی بڑی سخت سزا ہے۔ آج لوگ اسی گناہ کو کھیل سمجھ بیٹھے ہیں۔
اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے قریب لوگ ایسے جوڑا کھائیں گے جیسے کتے اور گدھے راستوں میں جوڑا کھاتے ہیں۔ اسی لیے اقبال نے بہت پہلے کہا تھا۔
نہ سنبھلو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اے اللہ ان بے حیائیوں اور فواحش سے ہمارے گھروں کی حفاظت فرما۔ یا کریم! اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے ہماری ماؤں اور بہنوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! امت مسلمہ کو اصلاح کی توفیق عطا فرما۔ اور آخری دم تک ہمیں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلاموں میں شامل رکھ۔ آمین یا رب العالمین
ایک درد رکھنے والا طالب علم
محمد عادل رضا قادری اسماعیلی
