دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: اول)

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: اول)
عنوان: توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: اول)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

چند لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تصوف یا طریقت، شریعت سے کوئی جدا راہ ہے، اس خیال کو ان غلط کار متصوفوں نے بھی شہرت دی جو یہ کہتے ہیں کہ شریعت راہ ہے اور طریقت منزل۔ جو منزل تک پہنچ گیا ہے اسے راہ کی کیا ضرورت؟ وہ اپنے تمام احکام و فرائض سے آزاد سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہ زندقہ ہے، صوفیہ نے یہ معنی بیان نہیں کیے۔ نہ ہی وہ طریقت کو شریعت سے بے نیاز سمجھتے ہیں، نہ ہی تصوف کو کتاب و سنت کی تعلیم سے الگ شمار کرتے ہیں۔ بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ جس طریق کو شریعت رد کر دے وہ الحاد و زندقہ ہے، جو کشف معیار شرع پر پورا نہ اترے وہ مکر شیطان ہے۔ تصوف کے تعارف میں تعبیرات بہت آئی ہیں مگر سب کا حاصل اور مآل ایک ہی ہے۔

عارف باللہ امام عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں:

التَّصَوُّفُ إِنَّمَا هُوَ زُبْدَةُ عَمَلِ الْعَبْدِ بِأَحْكَامِ الشَّرِيعَةِ.

ترجمہ: ”تصوف کیا ہے؟ بس احکام شریعت پر بندے کے عمل کا خلاصہ ہے۔“ [طبقات الشافعية الكبرى، ص: 4]

ابو عبد اللہ محمد بن خفیف ضبی قدس سرہ فرماتے ہیں:

التَّصَوُّفُ تَصْفِيَةُ الْقَلْبِ، وَاتِّبَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّرِيعَةِ.

ترجمہ: ”تصوف اس کا نام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی ہو۔“ [الطبقات الكبرى للشعراني، ص: 18]

حجۃ الاسلام امام محمد غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں:

التَّصَوُّفُ عِبَارَةٌ عَنْ تَجَرُّدِ الْقَلْبِ لِلّٰهِ تَعَالَى، وَاسْتِحْقَارِ مَا سِوَى اللهِ، وَحَاصِلُهُ يَرْجِعُ إِلَى عَمَلِ الْقَلْبِ وَالْجَوَارِحِ، وَمَهْمَا فَسَدَ الْعَمَلُ ذَاتَ الْأَصْلُ.

ترجمہ: ”تصوف اس کا نام ہے کہ دل خدا کے لیے خالی ہو جائے اور ما سویٰ اللہ کو خاطر میں نہ لائے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ قلب اور اعضاء سے متعلق اعمال و افعال درست ہوں، جب عمل فاسد ہوگا تو اصل ہی فوت ہو جائے گی۔“ [احیاء علوم الدین، ج: 2، ص: 249]

صوفیائے کرام شریعت پر مضبوطی سے استقامت ہی کو خدا تک رسائی کا سب سے قریب ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ اللہ جل شانہ کی طرف سب سے قریب راستہ قانون بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ کو تھامے رہنا ہے۔ [بہجة الاسرار، ص: 50] شریعت پر استقامت اسی وقت صادق ہوگی جب ظاہر و باطن دونوں احکام الٰہی کے پابند ہوں۔ باطن اخلاق ذمیمہ سے منزہ اور ظاہر اوصاف حمیدہ سے آراستہ۔ صرف چند فرائض و واجبات کی ادائیگی اور چند ممنوعات و حرام سے پرہیز کر لینے سے شریعت کی پابندی فقیہ کی نظر میں بھی کامل نہیں ہوتی، کسی عارف کے نزدیک کیا ہوگی؟

اوصافِ ذمیمہ (برے اوصاف)

باطن کو ان رذائل سے پاک رکھنا ضروری ہے: ریا (دکھاوا)، عجب (خود پسندی)، حسد، کینہ، تکبر، حب مدح، حب جاہ، حب دنیا، حب شہرت، تعظیم امراء، تحقیر مساکین، اتباع شہوات، مداہنت، کفران نعمت، حرص، بخل، طول امید، سوء ظن، عناد حق، اصرار باطل، مکر، غدر، غفلت، قسوت، طمع، اعتماد خلق، نسیان خالق، نسیان موت، جرات علی اللہ، نفاق، اتباع شیطان، بندگیِ نفس، رغبت بطالت، کراہت عمل، خیانت، قلت خشیت، جزع، تملق، عدم خشوع، غضب نفس اور تساہل فی اللہ۔ اہل تصوف نفس سے ہر وقت محاسبہ کرتے ہیں کہ کسی چور دروازے سے کوئی عیب نہ در آئے۔

اخلاقِ حمیدہ (اچھے اخلاق)

حضرت سیدنا میر عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ طالب صادق کو ان اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے: رأفت (نرمی)، محبت، شجاعت، چشم پوشی، پردہ پوشی، درگزر، صبر، بشارت، رضا، حلم (بردباری)، تواضع (عاجزی)، خیر خواہی، شفقت، تحمل، موافقت، احسان، مدارات، ایثار، خدمت، اصرار الفت، بشاشت، کرم، فتوت، بذل جاہ، مروت، کشادہ روئی، تودد، عفو، صفح، سخا، جود، وفا، حیا، تلطف، آہستگی، خوش روئی، سکینت، وقار، ثنا، حسن ظن، تصغیر نفس، توقیر اخوان، تجمیل مشائخ اور چھوٹوں پر رحم۔

جاری ہے...

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!