| عنوان: | خوش کلامی |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ محمدی صالحہ بنت محمد ساجد |
خوش کلامی کا مطلب ہے اپنی گفتگو میں ایسے الفاظ کا انتخاب کرنا اور ایسا لہجہ اپنانا کہ مخاطب کا دل خوش ہو جائے، یعنی سامنے والے کا دل آپ کے لہجے سے باغ باغ ہو جائے۔ خوش کلامی میں الفاظ اور لہجہ دونوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ عموماً پھل، چائے یا دیگر مشروبات ہمیں تب ہی اچھے لگتے ہیں جب میٹھے ہوں، پھل اگر کڑوا یا پھیکا ہو تو طبیعت بھی بے مزہ ہو جاتی ہے، اسی طرح میٹھی زبان، میٹھا کلام اور ٹھنڈا لہجہ ہی سب کو پسند آتا ہے۔ لہجہ نرم ہو اور الفاظ نفیس ہوں تو چاہے بات کڑوی ہی کیوں نہ ہو مخاطب متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
مثلاً جیسا کہ ایک بادشاہ نے خواب دیکھا کہ اس کے سارے دانت گر گئے ہیں۔ چنانچہ ایک معبر نے تعبیر بتائی کہ آپ کا سارا خاندان آپ کے سامنے وفات پا جائے گا، جس پر بادشاہ نے اسے سزا دی۔ مگر دوسرے معبر نے اسی بات کو بڑے محتاط الفاظ میں یوں بیان کیا کہ بادشاہ سلامت کی عمر اپنے تمام رشتہ داروں کی عمر سے طویل ہوگی۔ بادشاہ کو یہ تعبیر بہت پسند آئی اور اسے انعام و اکرام سے نوازا۔ معلوم ہوا کہ بات وہی تھی مگر الفاظ کی تبدیلی نے انجام بدل دیا۔
بد کلامی ایک غیر فطری عمل ہے اور خوش کلامی انسان کی فطرت میں شامل، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان اگرچہ کتنا ہی بد کلام کیوں نہ ہو مگر وہ بد کلامی کو پسند نہیں کرتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بد کلامی نے آج تک کبھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، البتہ خوش کلامی سخت سے سخت دلوں کو موم کر دیتی ہے۔ کہیں پر بڑا خوبصورت جملہ لکھا تھا کہ: ”دل برائے فروخت، قیمت ایک میٹھا بول!“ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان خوش کلامی کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو مائل کر لیتا ہے، بالخصوص تبلیغ دین میں خوش کلامی بے حد مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
خوش کلامی کی برکت
خراسان کے ایک بزرگ تاتاری حکمران تگودار خان کے پاس اسلام کی دعوت دینے تشریف لائے۔ خان نے مذاقاً پوچھا کہ تمہاری داڑھی کے بال اچھے ہیں یا میرے کتے کی دم؟ بزرگ نے کمالِ خوش کلامی اور حکمت سے جواب دیا کہ اگر میں اپنے خالق کا وفادار رہا تو میں اچھا ورنہ آپ کے کتے کی دم مجھ سے اچھی ہے۔ ان کے اس میٹھے اور حکیمانہ جواب نے تگودار خان کے دل پر گہرا اثر کیا اور وہ ان کا معتقد ہو گیا۔ اللہ رب العزت ہمیں ایک دوسرے سے نرم لہجے اور پیار و محبت سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
