| عنوان: | میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ |
| پیش کردہ: | زوبیہ اویسی بنت طفیل احمد |
تقسیمِ نور اور حقیقتِ محمدی ﷺ
حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ میں جو بار بار تقسیمِ نور کا ذکر آیا ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ معاذ اللہ نورِ محمدی کے ٹکڑے ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے جب نورِ محمدی کو پیدا فرمایا تو اس میں شعاع در شعاع بڑھاتا گیا اور وہی مزید شعاعیں تقسیم ہوتی رہیں۔ حدیثِ شریف میں "نُورُ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ" وارد ہے۔ جس طرح "نُورِهِ" میں اضافت بیانیہ ہے اور نور سے اللہ تعالیٰ مراد ہے، اسی طرح "نُورِ نَبِيِّكَ" میں اضافت بیانیہ ہے اور لفظِ نور سے ذاتِ پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مراد ہے۔ لہٰذا ذاتِ محمدی کو لفظِ نور سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
حدیثِ جابر میں جس نورِ محمدی کی خلقت کا بیان ہے وہ حضور ﷺ کے نورانی اجزائے جسمیہ کا جوہرِ لطیف ہے، جو آدم علیہ السلام کی پشتِ مبارک میں بطورِ امانت رکھا گیا۔ علامہ زرقانی فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو نورِ مصطفیٰ ﷺ ان کی پشت میں ودیعت فرمایا اور وہ نور ایسا شدید تھا کہ پیشانیِ آدم سے چمکتا تھا اور باقی انوار پر غالب رہتا تھا۔ [شرح الزرقانی علی المواہب، ج: 1، ص: 49] یہ اجزاء روح کے نہیں تھے بلکہ آپ کے جسمِ اقدس کے جوہرِ لطیف کے انوار تھے، کیونکہ صحیحین کی حدیث کے مطابق روح ماؤں کے پیٹ میں چار ماہ بعد پھونکی جاتی ہے۔ [مشکوٰۃ، ص: 20]
خاتم النبیین اور علمِ الٰہی
امام احمد، بیہقی و حاکم نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرمائی کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "بے شک میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم علیہ السلام اب بھی اپنے خمیر میں تھے"۔ یہاں خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ عالمِ ارواح میں اللہ نے اپنے حبیب کو اس منصب پر فائز فرما دیا تھا، اگرچہ اس کا ظہور دنیا میں سب سے آخر میں ہوا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ بادشاہ کسی کو امیرِ جہاد مقرر کر دے تو وہ امیر کہلائے گا چاہے ابھی جہاد پر روانہ نہ ہوا ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ ثبوتِ کمال کے لیے اسی وقت ظہور لازم نہیں ہے۔ [مواہب اللدنیہ، ج: 1، ص: 2]
کتبِ احادیث کی شہادتیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو نبوت کب ملی؟ فرمایا: وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ یعنی جب آدم ابھی روح اور جسم کے درمیانی مرحلے میں تھے۔ [ترمذی شریف] اسی طرح حضرت امام زین العابدین اپنے والد سیدنا امام حسین سے اور وہ مولا علی مرتضیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: "میں پیدائشِ آدم علیہ السلام سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے پروردگار کے حضور میں ایک نور تھا"۔ [انسان العیون، ج: 1، ص: 29]
خلاصہ یہ کہ حضور ﷺ کا بدنِ مبارک بھی نور تھا اور آپ کی خلقت تمام کائنات سے پہلے ہوئی۔ صاحبِ المعانی فرماتے ہیں کہ چونکہ حضور ﷺ وصولِ فیض میں واسطہِ عظیمی ہیں اسی لیے آپ کا نور اولِ مخلوقات ہے۔ [تفسیر روح المعانی، ص: 92]
