| عنوان: | میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ |
| پیش کردہ: | زوبیہ اویسی بنت طفیل احمد |
جب حضور ﷺ ساری مخلوق کے لیے رسول ہوئے تو رسولِ عالمین قرار پائے۔ ثابت ہوا کہ جس طرح حضور ﷺ کی رسالت تمام عالمین کے لیے عام ہے، اسی طرح آپ کی رحمت بھی تمام جہانوں کے لیے عام اور ما سویٰ اللہ کو محیط ہے۔ رہا یہ شبہ کہ کفار کے لیے آپ رحمت کیسے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ظہورِ رحمت کے مراتب ہر ایک کے حق میں متفاوت ہیں۔ تفسیر روح المعانی میں مرقوم ہے کہ مومن و کافر کے درمیان اس میں کوئی فرق نہیں۔ کسی کا رحمت سے فائدہ نہ اٹھانا رحمت کے عموم کے منافی نہیں، جیسے اللہ کی رحمت ہر شے پر محیط ہے مگر کفار اپنی عدم اہلیت سے محروم رہتے ہیں۔
حضور ﷺ کے رحمت ہونے کے معنی یہ ہیں کہ مرتبہ ایجاد میں تمام عالم کا موجود ہونا بواسطہ وجودِ سید الموجودات ﷺ کے ہے اور حضور ﷺ اصلِ ایجاد ہیں۔ چونکہ تمام عالمین اپنے وجود میں حضور ﷺ کے محتاج ہیں اس لیے سب سے پہلے حضور ﷺ کا وجود ضروری ہوگا۔ صاحبِ تفسیر عرائس البیان اور صاحبِ تفسیر روح المعانی نے نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اصل کا وجود فرع سے پہلے ہوتا ہے، اسی لیے ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی خلقت کل موجودات سے پہلے ہے۔ تیسری آیت جس سے حضور ﷺ کی اولیت ثابت ہوتی ہے وہ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ہے یعنی "میں سب سے پہلا مسلم ہوں"۔ [آل عمران: 83]
نورِ محمدی ﷺ کی تخلیق اور حدیثِ جابر
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے جب دریافت کیا کہ اللہ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا؟ تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے جابر! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا"۔ پھر اس نور کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے قلم، لوح، عرش، کرسی، فرشتے، آسمان، زمین اور جنت و دوزخ بنائی۔ اس حدیث کو امام عبد الرزاق، امام قسطلانی، امام زرقانی اور امام ابن حجر مکی جیسے جلیل القدر محدثین نے اپنی تصانیف میں نقل فرما کر اس پر اعتماد کیا ہے۔ [مواہب اللدنیہ، ج: 1، ص: 9]
نورِ محمدی ﷺ سے مراد حضور ﷺ کی ذاتِ مقدسہ ہے، نہ کہ معاذ اللہ اللہ کی ذات کا کوئی حصہ یا مادہ۔ یہ کیفیت متشابہات میں سے ہے، جسے نکتے کے طور پر یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے شیشہ آفتاب کے نور سے روشن ہو جائے مگر آفتاب کی روشنی میں کمی نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ فیضانِ وجود اللہ کی ذات سے حضور ﷺ کو پہنچا اور حضور ﷺ کی ذات سے تمام ممکنات کو وجود کا فیض حاصل ہوا۔
ایک شبہ کا ازالہ
اگر یہ شبہ ہو کہ ناپاک اشیاء حضور ﷺ کے نور سے کیسے بنیں؟ تو جواب یہ ہے کہ حضور ﷺ آفتابِ وجود ہیں اور کل مخلوقات اس سے فیض حاصل کر رہی ہیں۔ جس طرح سورج کی شعاعیں ہر چیز پر پڑتی ہیں مگر اس کی لطافت پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا، ویسے ہی عالمِ اجسام کی کثافت کا اثر حضور ﷺ کی ذاتِ پاک پر نہیں پڑ سکتا۔ نجاستیں اور برائیاں صرف صور و تعینات پر آتی ہیں، حقائق کبھی نجس نہیں ہوتے۔ لہٰذا کل مخلوق کا نورِ محمدی ﷺ سے موجود ہونا کسی اعتراض کا موجب نہیں۔
