| عنوان: | مزارات پر حاضری اور آداب! |
|---|---|
| تحریر: | صغریٰ انجم حنفی |
جس بارگاہ میں انسان حاضر ہو، وہاں ادب سب سے پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ خصوصاً مساجد اور اللہ کے نیک بندوں کے مزارات، یہ وہ مقدس مقامات ہیں جہاں حاضری صرف جسم کی نہیں بلکہ دل کی بھی ہونی چاہیے۔ یہاں قدم رکھتے وقت انسان کے انداز، حرکات اور رویے سب ادب کے تابع ہونے چاہئیں، کیوں کہ یہ جگہیں سکون، خشوع اور اصلاحِ باطن کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ بے جا اظہار یا بے اعتدالی کے لیے۔ افسوس کے ساتھ یہ منظر آج عام ہوتا جا رہا ہے کہ بعض لوگ مزار پر آ کر ادب کے تقاضوں کو ملحوظ رکھے بغیر ایسے افعال اختیار کرتے ہیں جو سلیقۂ ادب اور وقار کے خلاف ہیں، جیسے: قبروں کو بار بار چومنا، مزار پر آ کر سجدے جیسی ہیئت اختیار کرنا یا بزرگوں کے ہاتھ پاؤں کو بار بار چوم کر پریشان کرنا۔
عقیدت کا اصل حسن یہی ہے کہ انسان ادب و احترام اور سکون کے ساتھ حاضری دے، نہ کہ ایسے افعال کے ذریعے جو تقدس کو مجروح کرنے کا سبب بن جائیں۔ جب کسی ایسے عمل سے دوسروں کو تکلیف ہو یا جگہ گندی ہو جائے تو وہاں رک جانا ہی اصل ادب ہے۔ اسی لیے اکابرِ اہل علم نے مزارات پر حاضری کے واضح آداب بیان فرمائے ہیں۔
امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزاراتِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز سے بادب عرض کرے: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ پھر درود، فاتحہ اور ایصالِ ثواب کر کے اپنا جائز شرعی مطلب طلب کرے اور صاحبِ مزار کی روح کو اللہ کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دے۔ مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے، طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 522]
نیز آپ فرماتے ہیں کہ جمہور علماء (قبر کو بوسہ دینا) مکروہ جانتے ہیں، تو اس سے احتراز ہی چاہیے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 526] اور حرمتِ سجدۂ تعظیمی و زمین پر بوسہ دینے کے متعلق اپنے رسالہ میں فرماتے ہیں کہ مزارات کو سجدہ کرنا یا ان کے سامنے زمین چومنا حرام ہے اور حدِ رکوع تک جھکنا ممنوع۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 474]
آج مسئلہ یہ نہیں کہ عقیدت ختم ہو گئی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ادب کی پہچان کمزور ہو گئی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم مزار پر حاضری کے آداب سیکھیں، سمجھیں اور اپنائیں، تاکہ ہماری حاضری واقعی باعثِ ثواب بنے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں ہر طرح کی بے ادبی، غلو اور نادانی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک!
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے!
