دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم (قسط: اول)

میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم (قسط: اول)
عنوان: میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم (قسط: اول)
تحریر: علامہ سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ
پیش کش: زوبیہ اویسی بنت طفیل احمد

ماہ ربیع الاول شریف وہ نورانی مہینہ ہے جس کی آغوش میں نورِ مبین کے جلوے قیامت تک چمکتے رہیں گے۔ بموجب فرمانِ خداوندی: وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰامِ اللّٰهِ۔ آج ہمیں اس مبارک دن کی یاد تازہ کرنی ہے جو سید ایام اللہ یعنی یوم ولادت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔ [الابراہیم: 5] یہ مبارک دن ہے، جس میں خدا کے سب سے پہلے اور آخری نبی جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ اس مضمون میں ہمیں سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خلقت، ولادت اور بعثت پر روشنی ڈالنی ہے۔

خلقت، ولادت اور بعثت کی تشریح

عالم اجسام میں جلوہ گر ہونے سے پہلے ذاتِ پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عدم سے وجود میں جلوہ گر ہونا ”خلقت محمدی“ ہے اور اس دارِ دنیا میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا پیدا ہونا ”ولادت محمدی“ ہے اور چالیس سال کی عمر شریف میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا وحی نبوت سے مشرف ہو کر لوگوں کو دینِ حق کی طرف بلانے پر مامور ہونا ”بعثت محمدی“ ہے۔ اجسام سے قبل عالم امر میں انبیاء علیہم السلام کا موجود ہونا نصِ قرآن سے ثابت ہے جس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بطریق اولیٰ عالم ارواح میں موجود ہو۔

وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيۡتُكُمۡ مِّنۡ كِتٰبٍ وَّحِكۡمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمۡ لَـتُؤۡمِنُنَّ بِهٖ وَلَـتَـنۡصُرُنَّهٗ ‌ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰى ذٰ لِكُمۡ اِصۡرِىۡ‌ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ‌ؕ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ.

ترجمہ کنز الایمان: ”اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ دیا میں نے تم کو کتاب اور حکمت سے پھر آئے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔“ [آل عمران: 81] تمام نفوسِ بنی آدم سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نفسِ قدسی نے ”بَلٰی“ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار فرمایا اور باقی تمام نفوس نے آپ کے اقرار پر اقرار کیا۔

اولیتِ خلقتِ محمدی ﷺ

اللہ تعالیٰ نے جہاں دیگر انبیاء علیہم السلام سے تبلیغ رسالت پر عہد لیا وہاں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بھی یہ عہد وفا قرار کرایا۔ یہ واقعہ عالم ارواح کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حضور ﷺ کی خلقت اس وقت نہ ہوئی ہوتی تو اس عہد و اقرار کا ہونا کس طرح متصور ہوتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ۔ ترجمہ: ”اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا۔“ [البقرۃ: 253] جن کے درجے بلند کیے وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ آپ کے درجات کی بلندی ظاہر کرتی ہے کہ آپ سب سے پہلے مخلوق ہو کر سب کی اصل ہیں۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

ترجمہ کنز الایمان: ”اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت تمام جہان کے لیے۔“ [الانبیاء: 107] یہ آیت کریمہ روشن دلیل ہے کہ حضور ﷺ تمام عالموں کے لیے رحمت ہیں۔ آپ ﷺ کا رحمۃ للعالمین ہونا جہتِ رسالت سے ہے، یعنی حضور ﷺ رسول ہونے کی وجہ سے رحمت ہیں لہذا رحمت کا عموم رسالت کے عموم کے عین مطابق ہوگا۔ مسلم شریف کی حدیث میں وارد ہے: أُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً یعنی ”میں تمام مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں“۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!