| عنوان: | توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات میں بندہ یہ تصور رکھے کہ میرا قیام خدائے تعالیٰ کے سامنے ہے۔ مقامات کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے کہ انتباہ یعنی خواب غفلت سے بیداری، توبہ یعنی گناہوں کو چھوڑ کر حق تعالیٰ کی جانب رجوع، انابت یعنی غفلت سے ذکر کی جانب واپسی، ورع یعنی مشتبہ چیزوں کو ترک کرنا، مجاہدہ نفس یعنی نفس کی اصلاح کی فکر، ارادت یعنی طاعت و عبادت میں دائمی محنت، زہد یعنی دنیا کی حلال شہوات سے باز رہنا، فقر یعنی املاک سے دل خالی رکھنا، صِدق یعنی ظاہر و باطن کا یکساں ہونا، تصبر یعنی نفس سے ناگوار باتیں برداشت کرانا، صبر یعنی شکایت ترک کرنا، رضا یعنی بلا میں لذت پانا، اخلاص یعنی معاملاتِ حق سے خلق کو باہر رکھنا اور توکل یعنی حق تعالیٰ کی رزاقی پر بھروسہ کرنا۔
احوال
یہ دلوں کے معاملات کا نام ہے یعنی ذکر کی صفائی سے دلوں میں جو واردات آتے ہیں وہ احوال ہیں۔ حضرت جنید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حال ایک وارد ہونے والی کیفیت ہے جو دل پر اترتی ہے اور ہمیشہ نہیں رہتی۔ کچھ احوال یہ ہیں کہ مراقبہ یعنی پسِ غیب کی چیزوں کو دیکھنا، قرب یعنی خدا کے سامنے ما سوا سے ہمت جمع رکھنا، محبت یعنی محبوب کی پسند میں موافقت، رجاء یعنی وعدۂ الہی کی تصدیق، خوف یعنی اللہ کی سطوت کا مطالعہ، حیا یعنی دلوں کو انبساط سے روکنا، شوق یعنی محبوب کی یاد میں قلب کا ہیجان، انس یعنی خدا کی جانب سکون پذیری، طمانینت یعنی قضا و قدر پر راضی ہونا، یقین یعنی شک سے پاک تصدیق اور مشاہدہ جو رؤیت یقین اور رؤیت عین کے درمیانی فاصلہ کا نام ہے۔
طالب صادق کو چاہیے کہ ان تمام اخلاق، مقامات اور احوال کی مشق و عادت ڈالے تاکہ رفتہ رفتہ یہ سب اسے حاصل ہو جائیں اور مرید حقیقی بن جائے۔ اس کے بعد کچھ اور خوشبوئیں، تابشیں، بخششیں ہوتی ہیں جن کے بیان سے عبارت قاصر ہے اور اگر تم خدا کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے۔ یہ ان امور کا اجمالی بیان ہے جن کی پابندی کی ہدایت و تربیت صوفیائے کرام فرماتے ہیں۔ غور کیجیے ان میں کون سا ایسا امر ہے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو، یا جن سے اعتقاد میں کوئی خرابی آتی ہو۔
برا ہو صوفیہ سے عداوت کا کہ تصوف کو زندقہ اور صوفیہ کو زنادقہ کے نام سے شہرت دینے کی سعی مذموم جاری ہے، حالاں کہ یہ حضرات جس شدت و استقامت کے ساتھ اسلامی عقائد و احکام کے پابند ہوتے ہیں اور ان کے افکار و اخلاق کی جو بلندی ہوتی ہے اہل ظاہر کے یہاں اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا، مگر جب دل سے حق و انصاف رخصت ہو چکا ہو اور قلب میں بغض و عناد کی ظلمت گھر کر چکی ہو تو اس کا کیا علاج؟
