کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اعلىٰ حضرت اور ترجمہ ”کنز الایمان“

اعلىٰ حضرت اور ترجمہ ”کنز الایمان“
عنوان: اعلىٰ حضرت اور ترجمہ ”کنز الایمان“
تحریر: محمد سلمان العطاری

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ (1856–1921) برصغیر کے جلیل القدر عالم، فقیہ، محدث، محقق اور صوفی بزرگ تھے۔ آپ نے اپنے وقت میں اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و نظریات کی بھرپور حفاظت کی اور کئی علوم پر گراں قدر کام کیا۔ آپ کی تحریری خدمات تقریباً 1000 سے زائد رسائل و کتب پر مشتمل ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں کارنامہ قرآنِ پاک کا اردو ترجمہ ”کنز الایمان“ ہے۔

قرآنِ کریم کا ترجمہ کرنا ایک عظیم ذمہ داری اور گہری بصیرت کا متقاضی عمل ہے۔ اس میدان میں امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے ”کنز الایمان“ کے نام سے جو ترجمہ پیش کیا، وہ اپنی فصاحت، بلاغت، ادب اور عقیدۂ اہلِ سنت کی حفاظت کے اعتبار سے ایک بے مثال شاہکار ہے۔ اس مضمون میں ہم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت، ترجمہ کنز الایمان کی خصوصیات اور اس کے علمی و سائنسی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔

محترم قارئین! اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے قرآنِ کریم کی جو بے مثال و لازوال خدمات انجام دی ہیں، ان میں ایک بہت ہی شاندار خدمت ترجمۂ قرآن ”کنز الایمان“ بھی ہے۔ یہ بے مثال ترجمہ کسی کرامت سے کم نہیں۔ یہ بظاہر صرف ترجمہ ہے، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ قرآن، حدیث اور 14 صدیوں میں لکھی گئی بڑی بڑی تفاسیر کا نچوڑ ہے۔ کنز الایمان سے پہلے بھی قرآنِ کریم کے کئی تراجم لکھے جا چکے تھے مگر ان میں کسی نہ کسی اعتبار سے کچھ نہ کچھ کمیاں موجود تھیں۔ لیکن کنز الایمان قرآنِ کریم کا واحد اردو ترجمہ ہے کہ جب سے لکھا گیا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک علمائے کرام اس کی خوبیوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں، اس پر پی ایچ ڈی (PhD) ہو رہی ہے اور لوگ اس مبارک ترجمے پر مقالے لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔

الحمد للہ! 100 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جس نے بھی صاف ذہن رکھ کر کنز الایمان پڑھا ہے یا اس کے متعلق تحقیق کی ہے، اس نے یہی کہا ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اپنے تو اپنے، مخالفین بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ترجمہ کنز الایمان کا ایک ایک لفظ عین شریعت کے مطابق اور روحِ قرآن کی درست عکاسی کرتا ہے۔

کنز الایمان کب اور کیسے لکھا گیا؟

یہ ایک حیران کن بات ہے کہ ایسا بے مثال ترجمہ (جس کی خوبیوں پر اب تک 100 سے زیادہ کتابیں لکھی جا چکی ہیں) لکھا کیسے گیا؟ جو لوگ تصنیف و تالیف سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں اندازہ ہوگا کہ عام دینی کتاب لکھنا بھی کوئی آسان بات نہیں۔ کتنی کتابیں پڑھنی پڑتی ہیں، کئی گھنٹے لگاتار بیٹھ کر دماغ کھپانا ہوتا ہے، تحقیق و سوچ بچار کرنی پڑتی ہے، پھر جا کر کئی مہینوں میں صرف ایک آدھ کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یہ تو عام دینی کتاب لکھنے کی بات ہے، اللہ پاک کے کلام کا ترجمہ لکھنا کتنا مشکل کام ہوگا؟

علمائے کرام نے لکھا ہے کہ قرآنِ کریم کا ترجمہ یا تفسیر لکھنے کے لیے صرف کتابیں پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ اس کام کے لیے تقریباً 15 علوم پر مکمل مہارت ہونا ضروری ہے۔ کسی عام شخص کے بس کی بات نہیں ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ جس عظیم الشان کتاب کو پڑھانے کے لیے ربِ کریم نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا، بھلا اس کتاب کے معانی اور مفہوم کو کسی دوسری زبان میں ڈھالنا کوئی آسان بات ہوگی؟ الحمد للہ! اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ان تمام کڑی شرائط پر پورے اترتے تھے۔ آپ وہ بے مثال عالمِ دین ہیں جو صرف 15 نہیں بلکہ 100 سے زائد علوم پر کامل مہارت رکھتے تھے۔

آپ نے ترجمہ کنز الایمان کیسے لکھا؟ سنیے! غالباً 1330ھ کی بات ہے، صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں درخواست پیش کی کہ ایک ایسے ترجمۂ قرآن کی اس وقت ضرورت ہے جو غلطیوں سے پاک ہو، اور احادیث و ائمۂ کرام کے اقوال کے مطابق ہو۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: ”یہ تو بہت ضروری ہے، مگر چھپنے کی کیا صورت ہوگی؟ باوضو کاپیوں کو لکھنا، باوضو حروف کی درستی کرنا، زبر، زیر، پیش، نقطوں اور علامتوں کو پوری احتیاط سے پرکھنا کہ کوئی غلطی نہ رہ جائے۔ پھر پریس میں ہر وقت باوضو رہنا، غرض کہ چھپنے سے لے کر کتابی صورت میں تیار ہونے تک ہر کام باوضو رہ کر مکمل احتیاط سے کیسے کیا جا سکے گا؟“

صدر الشریعہ نے عرض کیا: ”اِنْ شَاءَ اللّٰہ! جو باتیں ضروری ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔“ اعلیٰ حضرت نے درخواست قبول فرمائی اور ترجمے کا کام شروع کر دیا گیا۔ اس کے لیے اعلیٰ حضرت کے آرام کے وقت میں سے کچھ وقت (تقریباً ایک آدھ گھنٹہ) مختص کیا گیا۔ صدر الشریعہ حاضر ہوتے، اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیاتِ کریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور صدر الشریعہ لکھتے جاتے۔ آپ اس کے لیے نہ لغت کی کتابیں دیکھتے اور نہ بڑی بڑی تفسیریں، بلکہ جیسے ایک پختہ یادداشت والا حافظ روانی کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے، ایسے ہی اعلیٰ حضرت روانی کے ساتھ ترجمہ لکھواتے جاتے تھے۔ بعد میں جب صدر الشریعہ اور دیگر علمائے کرام بڑی بڑی تفسیروں کے ساتھ اس ترجمے کا موازنہ کرتے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اعلیٰ حضرت کا برجستہ لکھوایا ہوا ترجمہ پچھلی صدیوں کی معتبر تفاسیر کے عین مطابق ہوتا تھا۔

مقبولِ آستانِ رسولِ کریم ہیں
احمد رضا کا ارفع و اعلیٰ مقام ہے

اہلِ سُنن کا پیشوا، ابنِ نقی علی
عشقِ نبی کے چرخ کا ماہِ تمام ہے

منطق، مناظرہ ہو کہ تفسیر، ترجمہ
ہر علم میں رضا ہی مکمل امام ہے

سُبْحٰنَ اللّٰہ! یہ ہے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی شان اور قرآنِ کریم کے ساتھ کامل وابستگی۔ اندازہ کیجیے کہ آپ نے تفسیرِ قرآن پر لکھی ہوئی بڑی بڑی کتابیں کتنی توجہ اور محنت کے ساتھ پڑھ کر یاد رکھی ہوئی تھیں، تبھی تو آپ کے لکھوائے ہوئے ترجمے کا ایک ایک لفظ بالکل درست ہوتا تھا۔

کنز الایمان کی چند خصوصیات

ترجمہ کنزالایمان کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں لفظوں کا چناؤ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے، نہایت احتیاط اور خوبصورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ سورۂ فاتحہ سے لے کر سورۂ ناس تک پورا ترجمہ پڑھ لیجیے، کہیں ایک بھی لفظ ایسا نظر نہیں آئے گا جس میں کسی طرح کی بے ادبی کا شائبہ بھی نکلتا ہو۔

جہاں خداوندِ متعال کا ذکر آیا تو امامِ اہلِ سنت نے ایسے لفظوں کا انتخاب کیا جن سے اللہ پاک کی شان و عظمت کا اظہار ہو۔ جہاں رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکر آیا، وہاں آپ کی شان و عظمت کا لحاظ رکھ کر نہایت باادب الفاظ استعمال کیے گئے۔ جہاں دوسرے نبیوں کا ذکر آیا، وہاں ان کی شان و عظمت کا لحاظ رکھا گیا۔ غرض کہ آپ پورے ترجمے کو پڑھیں، شروع سے آخر تک آپ کو ادب ہی ادب نظر آئے گا۔

کنز الایمان اور سائنس

کنز الایمان کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ یہ مبارک ترجمہ عظمتِ قرآن کا محافظ بھی ہے۔ کئی جدید مفکرین جو قرآنی آیات کو پوری طرح سمجھتے نہیں، جب کسی آیت کو بظاہر سائنسی نظریات کے خلاف دیکھتے ہیں تو (معاذ اللہ) اس پر اعتراض کر ڈالتے ہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جس طرح بے مثال مفسر ہیں، ایسے ہی باکمال سائنس دان بھی تھے۔ آپ نے ترجمہ مختصر لفظوں میں مگر اتنی خوبصورتی کے ساتھ کیا کہ وہ اعتراضات جو آئندہ قرآنِ کریم پر کیے جا سکتے تھے، آپ نے ترجمے ہی میں ان کے جوابات بھی دے دیے۔

سورۂ رحمٰن کی ایک آیت کی وضاحت:

ایک شخص نے سورۂ رحمٰن کی یہ آیتِ کریمہ پڑھی:

﴿یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ﴾

اس آیت کا ترجمہ کئی لوگوں نے یوں کیا ہے: ”اے گروہِ جن و انسان! اگر تم سے ہو سکے کہ آسمان اور زمین کے کناروں سے (ہو کر کہیں کو) نکل بھاگو، تو نکل دیکھو، مگر کچھ ایسا ہی زور ہے تو نکل دیکھو۔“

جب اس شخص نے یہ ترجمہ پڑھا تو اس کے ذہن میں سوال اٹھا کہ قرآن تو کہتا ہے انسان زمین و آسمان کے کناروں سے نکل ہی نہیں سکتا، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور یہ محض کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس نے بہت سے تراجم دیکھے مگر تسلی بخش جواب نہ ملا۔ آخر اسے ”کنز الایمان“ مل گیا۔ اس میں اس آیت کا ترجمہ یوں تھا:

”اے جن اور آدمی کے گروہ! اگر تم سے ہو سکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں کے باہر نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اُسی کی سلطنت ہے۔“

یہ ترجمہ پڑھتے ہی اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا اور وہ سمجھ گیا کہ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اڑان بھر ہی نہیں سکتا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان جہاں کہیں بھی چلا جائے، وہ اللہ پاک کی سلطنت اور قدرت سے باہر نہیں جا سکتا۔

علمِ ارضیات (Geology) اور کنزالایمان:

کراچی کی ایک یونیورسٹی کے علمِ ارضیات کے استاد نے ایک مرتبہ قرآنِ کریم کی یہ آیتِ کریمہ پڑھی:

﴿وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا﴾

(سورۂ النازعات: 30)

اس آیت کا ترجمہ عموماً لوگوں نے یہ کیا ہے: ”پھر اس کے بعد زمین کو جما دیا۔“

اس آیت کو لے کر ان کے ذہن میں سوال ابھرا کہ علمِ ارضیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہماری زمین (خشکی والا حصہ) مسلسل پھیل رہی ہے۔ دنیا کے تمام بڑے سمندروں کے نیچے بڑی بڑی خندقیں (Ocean Trenches) ہیں جن سے ہر وقت پگھلا ہوا لاوا نکلتا رہتا ہے۔ یہ عمل زمین کو مسلسل پھیلا رہا ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ عام تراجم کے مطابق تو زمین جمی ہوئی ہے، مگر سائنس کہتی ہے کہ زمین پھیل رہی ہے؟

جب ان صاحب نے کنز الایمان پڑھا تو وہاں اس آیت کا ترجمہ لکھا تھا:

”اور اس کے بعد زمین کو بچھایا (پھیلایا)۔“

بس یہ پڑھ کر انہیں اپنے سوال کا جواب مل گیا اور وہ سمجھ گئے کہ زمین جمائی نہیں گئی بلکہ پھیلائی گئی ہے۔

بارگاہِ رسالت کا ادب اور کنز الایمان

آئیے، سورۂ والضحیٰ کی آیت نمبر 7 (وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰی) کے حوالے سے دیگر تراجم اور کنز الایمان کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں:

دیگر تراجم:

  1. محمود الحسن دیوبندی: ”اور پایا تجھ کو بھٹکتا اور راہ سجھائی۔“
  2. اشرف علی تھانوی: ”اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شریعت سے بے خبر پایا، سو آپ کو شریعت کا رستہ بتلا دیا۔“
  3. فتح محمد جالندھری: ”اور رستے سے ناواقف دیکھا تو سیدھا رستہ دکھایا۔“
  4. عبد الماجد دریا بادی: ”اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا۔“

ان سب مولویوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بے خبر اور بھٹکا ہوا لکھا ہے۔ اگر نبی بھولا بھٹکا اور بے خبر ہوگا تو پھر وہ امت کو کیا راستہ دکھائے گا؟ نبی تو پیدائشی ہدایت یافتہ ہوتا ہے۔

اب عاشقِ رسول، امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

”اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا، تو اپنی طرف راہ دی۔“

قارئینِ کرام! فکرِ عمیق سے جملہ تراجم کو پڑھیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ کون سا ترجمہ لائقِ شان ہے اور کون سا نہیں۔ امامِ اہلِ سنت نے جہاں ترجمۂ قرآن کیا، وہاں شانِ رسالت کا کما حقہٗ خیال رکھا، جبکہ بعض دیگر تراجم میں الفاظ کا ایسا چناؤ کیا گیا ہے جو عام قاری کے لیے غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا، قرآن کے ترجمے اور تفسیر میں ایمان و ادب دونوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے، تاکہ عقائد میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں قرآنِ پاک سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!