کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

سورۂ فاتحہ کے فضائل (قسط: چہارم)

سورۂ فاتحہ کے فضائل (قسط: چہارم)
عنوان: سورۂ فاتحہ کے فضائل (قسط: چہارم)
تحریر: شارحِ بخاری، علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ
پیش کش: معراج فاطمہ مدنیہ، ممبئی

﴿اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ﴾

ترجمہ: ”(اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔“

سابقہ آیت میں اس کا بیان تھا کہ اللہ عزوجل تمام صفاتِ کمالیہ کا جامع ہے، اور سارے عالم کو اس دنیا میں بھی ان گنت نعمتیں عطا فرمانے والا ہے اور یومِ جزا میں بھی مستحقین کو عطا فرمائے گا۔ تو ایسے عظمت و کرم والے کی عظمت دل میں بھی راسخ ہونی چاہیے اور زبان کو بھی اس کی مدح میں مشغول ہونا چاہیے۔ اور جوارح (اعضاء) کو بھی اس کی برتری اور علو کو اپنے افعال میں ظاہر کرنا چاہیے۔ اس لیے اب بندہ اظہارِ عبودیت کرتے ہوئے عرض کرتا ہے:

”اے سارے کمالات کے جامع! اے سارے جہانوں کے پالنے والے! اے سب سے بڑے مہربان، رحمت کرنے والے! اے یومِ جزا کے مالک! جب تو ایسا ہے اور تیرے ان کمالات میں کوئی شریک نہیں، تو ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔“

عبادت کسے کہتے ہیں؟

کسی کے لیے انتہائی تذلل، فروتنی، اور عاجزی کرنے کو عبادت کہتے ہیں۔ اس حد تک کہ اس کے آگے فروتنی کی کوئی حد نہ ہو۔ اس کا دار و مدار اعتقاد پر ہے، اور اگر انتہائی حد سے کچھ کم ہے تو یہ ”تعظیم“ ہے۔ اس کو یوں سمجھیے؛ سارے علماء حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضری کے آداب میں لکھتے ہیں:

”يَقِفُ كَمَا يَقِفُ فِي الصَّلٰوةِ“

(یعنی: یوں کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔) [فتاویٰ ہندیہ، فتح القدیر، طحاوی]

یعنی ہاتھ باندھ کر۔ یوں ہی تمام دنیا میں دستور ہے کہ بزرگانِ دین کے حضور تلامذہ اور نیازمند دو زانو بیٹھتے ہیں۔ مگر یہ عبادت نہیں، تعظیم ہے۔ البتہ نماز میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، رکوع اور سجدے کے مابین ہاتھ باندھے کھڑے ہونا، اور قعدہ میں دو زانو بیٹھنا عبادت ہے۔ افعال باعتبارِ ظاہر یکساں ہیں، مگر ایک جگہ تعظیم اور دوسری جگہ عبادت، ایسا کیوں؟

تذلل اور خضوع کے مختلف درجات

تذلل اور خضوع کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔

  • ایک درجہ وہ ہے جو چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے لیے کرتا ہے۔
  • ایک وہ جو بیٹا باپ کے لیے کرتا ہے۔
  • ایک وہ جو ہر سعید نوعمر، بوڑھے بزرگ کے لیے کرتا ہے۔
  • ایک وہ جو ہر ان پڑھ دیندار، عالمِ دین کے لیے کرتا ہے۔
  • ایک وہ جو ہر مرید اپنے پیر کے لیے کرتا ہے۔
  • ایک وہ جو عامۃ المسلمین، اولیائے کرام کے لیے کرتے ہیں۔
  • ایک وہ جو ہر مسلمان، صحابہ کرام کے لیے کرتا ہے۔
  • ایک وہ جو ہر امتی اپنے نبی کے لیے کرتا ہے۔

ان سب سے اوپر وہ خضوع اور تذلل ہے جو بندہ اپنے معبود کے لیے کرتا ہے۔ پہلے سات درجے خضوع و تذلل تو ہیں مگر غایتِ خضوع اور تذلل نہیں۔ غایتِ خضوع، انتہائی عاجزی و فروتنی وہ ہے جو بندہ اپنے معبود کے لیے کرتا ہے، اور یہی درجہ ”عبادت“ ہے۔

سجدہ، تعظیم اور عبادت کا فرق

عبادت کے افعال میں سب سے زیادہ جو عبادت کے ساتھ مختص ہے، وہ سجدہ ہے۔ مگر سجدہ بھی مطلقاً عبادت نہیں، ورنہ ہر سجدہ عبادت ہوتا، اور اللہ عزوجل کے سوا کبھی کسی اور کے لیے سجدہ کرنا شرک ہوتا اور کسی شریعت میں جائز نہ ہوتا۔ حالانکہ اگلی شریعتوں میں سجدۂ تعظیمی غیرِ خدا کے لیے نہ صرف جائز، بلکہ بعض جگہ فرض تھا۔ مثلاً فرشتوں کو جو حکم تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ اگر یہ سجدہ فرض نہ ہوتا تو سجدہ نہ کرنے اور اس سے انکار کرنے کی وجہ سے ابلیس کافر اور راندۂ بارگاہ نہ ہوتا۔

اس سے ظاہر ہو گیا کہ سجدہ بھی اگر غایتِ خضوع و تذلل سے نہ ہو تو عبادت نہیں، تعظیم ہے۔ اسی وجہ سے ہماری شریعت میں سجدۂ عبادت غیرِ خدا کے لیے شرک ہے، مگر سجدۂ تعظیمی شرک نہیں بلکہ حرام ہے۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ کسی فعل کے عبادت ہونے اور نہ ہونے کا دار و مدار انسان کے اعتقاد پر ہے۔ اگر کوئی کام کسی کے لیے اس تصور کے ساتھ کیا جائے کہ ہم اپنے بس میں جتنی فروتنی اور جتنا تذلل رکھتے ہیں، بس اسی کے لیے ہے، تو یہ کام عبادت ہوگا، اور اگر تصور میں فروتنی و تذلل کچھ کم رہا تو عبادت نہیں، تعظیم ہے۔

عبادت چونکہ غایتِ خضوع اور انتہائی تذلل کا نام ہے، اور غایتِ خضوع اور تذلل صرف اسی کے حضور کرنا تقاضائے عقل و خرد ہے جو سب سے زیادہ عظمت و جبروت والا ہو، اور وہ ذات صرف اللہ عزوجل ہی کی ہے۔ اس لیے اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی عبادت مقتضائے عقل کے منافی ہے۔ بندے نے ﴿اِیَّاكَ نَعْبُدُ﴾ کہہ کر جب اپنی یہ حیثیت متعین کر دی کہ میں اس وقت رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوں، اس سے خطاب کر رہا ہوں، اور بادشاہ کی بارگاہ میں حاضری کے وقت بادشاہ کے علاوہ کسی اور سے عرضِ مطلب کرنا انتہائی حماقت ہے، تو عرض کرتا ہے:

﴿اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ﴾ کی تفسیر اور استمداد

اے اللہ! اس وقت جب کہ ہم تیری عبادت کر رہے ہیں، تیری بارگاہ میں حاضر ہیں، صرف تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ تیری بارگاہ میں حاضری کے وقت کسی اور سے کیا مانگیں؟ ﴿اِیَّاكَ نَعْبُدُ﴾ کے بعد اس کے ساتھ ﴿اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ﴾ عرض کرنا اس بات کا قرینہ ہے کہ حالتِ عبادت میں جب کہ رب العالمین کی بارگاہ میں حاضری ہے، اس کے سوا اور کسی سے مدد چاہنا آدابِ بارگاہ کے منافی ہے۔ لہٰذا اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ ”اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے مدد طلب کرنا شرک ہے“ باطل ہو گیا۔

یا یہ کہا جائے گا کہ یہ حصر، حصرِ اضافی ہے، مشرکین کے معبودانِ باطل کے اعتبار سے۔ کیونکہ مشرکین اپنے معبودوں کی عبادت بھی کرتے تھے اور ان سے مدد بھی مانگتے تھے۔ تو مومنِ موحد ان کے اس غلط عقیدے پر تعریض کرتے ہوئے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے کہ: ”اے اللہ! ہم ان باطل معبودوں سے بیزار ہیں، ہم ان باطل معبودوں کو نہ پوجیں اور نہ ان سے مدد چاہیں، ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھی سے مدد مانگتے ہیں، ان باطل معبودوں سے نہیں۔“

ورنہ اگر حصرِ حقیقی مانا جائے اور اس کی بنا پر یہ کہا جائے کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی سے مطلقاً مدد مانگنا جائز نہیں، شرک ہے، تو لازم آئے گا کہ تمام دنیا کے کل مسلمان مشرک ہو جائیں۔ اس لیے کہ ہر شخص زندگی میں قدم قدم پر غیروں سے مدد مانگتا ہے اور لیتا ہے۔ اور اگر یہ تخصیص کی جائے کہ عوام سے مانگنا جائز ہے اور انبیاء و اولیاء سے مانگنا شرک، یا زندوں سے مدد مانگنا جائز ہے اور مزارات میں آسودگان سے شرک، تو یہ تخصیص بے جا ہوگی۔ اس لیے کہ شرک میں زندہ، مردہ، نبی، امتی، ولی، عامی کی تخصیص نہیں۔ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کی عبادت جائز نہیں، شرک ہے۔

تو کیا انبیاء و اولیاء کی عبادت شرک اور عوام کی ثواب ہے؟ وفات پانے والوں کی عبادت شرک اور زندوں کی اطاعت جائز ہے؟ یہ وہی کہہ سکتا ہے جس سے دین کے ساتھ عقل بھی چھین لی گئی ہو۔ اسی طرح جب پوری امت کا اس پر عملی، اعتقادی اور قولی اجماع ہے کہ اپنے کاموں میں اپنے متعلقین اور اپنے بزرگوں سے مدد مانگنی اور لینی جائز ہے اور یہ ﴿اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ﴾ کے منافی نہیں، تو انبیاء و اولیاء سے بعدِ وصال بھی مدد مانگنا بلا کسی ادنیٰ شائبۂ ممانعت کے جائز ہے۔

(جاری ہے...)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!