کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

اخلاقِ محمد ﷺ — ایک کامل نمونہ

اخلاقِ محمد ﷺ — ایک کامل نمونہ
عنوان: اخلاقِ محمد ﷺ — ایک کامل نمونہ
تحریر: محمد نواز عطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان مخدوم لاھوری، موڈاسا، گجرات

جب کوئی قوم، یا علاقہ، یا انسان خسارے میں گرا ہو، تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس نے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج کے اس پُر فتن دور میں مسلمانوں کو جن رسوائیوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کی جڑ بھی یہی ہے کہ ہم نے اخلاقیات کو اپنے ذہن و دماغ سے باہر کر دیا ہے۔ جبکہ مسلمان جس نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں، ان کی تعلیمات اور نجی زندگی حسنِ اخلاق سے مزین ہے۔ اپنی ذات سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

”بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْاَخْلَاقِ“

یعنی ”میں مکارمِ اخلاق (اچھے اخلاق) کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔“

علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:

”حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم محاسنِ اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے۔ یعنی حلم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار و قربانی، مہمان نوازی، عدمِ تشدد، شجاعت، ایفائے عہد، حسنِ معاملہ، صبر و قناعت، نرم گفتاری، خوش روئی، ملنساری، مساوات، غمخواری، سادگی و بے تکلفی، تواضع و انکساری اور حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فائز و سرفراز ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک جملے میں اس کی صحیح تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ‘ یعنی تعلیماتِ قرآن پر پورا پورا عمل ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے اخلاق تھے۔“ [سیرتِ مصطفیٰ، ص: 600]

دو احادیثِ مبارکہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:

پہلی حدیث:

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ الْعَبْدَ لَيَبْلُغُ بِحُسْنِ خُلُقِهٖ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ.“

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ حسنِ اخلاق کی وجہ سے دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والوں کا درجہ پا لیتا ہے۔“ [المعجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، الحدیث: 6283]

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ.“

ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔“ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الخلق، الحدیث: 4799]

اچھے اخلاق ہمیں دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی سے ہمکنار کر دیتے ہیں جبکہ برے اخلاق ہمیں ہر مقام پر ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ جب ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اخلاقِ کریمہ کو اپنانے کی کوشش کریں گے، تو ہم اپنی زندگی میں کافی نمایاں اور مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اچھے اخلاق کا پیکر بنا دے، اور حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے اخلاق کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!