| عنوان: | فضائلِ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
فضائلِ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا
ذی شرف قارئینِ کرام!
ہم اہلِ سنت و جماعت کے ہاں 3 رمضان المبارک کو سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عرس شریف منایا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شانِ رفیعہ میں لکھنے والے بہت کچھ لکھ چکے ہیں، لکھ رہے ہیں اور آئندہ بھی بہت کچھ لکھتے رہیں گے۔ فقیر راقم الحروف نے فقط ان خوش نصیبوں میں اپنا نام درج کروانے کے لیے قلم اٹھایا، اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
اب پڑھیے! فضائلِ سیدہ فاطمہ زہرا:
حضرت سیدتنا فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائلِ حمیدہ، کمالاتِ کثیرہ اور خصائلِ جمیلہ سے احادیثِ کریمہ مملو ہیں۔ نیز قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر اس آیت کے ضمن میں فرمایا ہے جس میں اہلِ بیت کی پاکیزگی و طہارت کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ذاتِ بابرکات محتاجِ تعارف نہیں۔ فقیر راقم السطور فقط حصولِ برکت کے لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مختصر سا تعارف سپردِ قرطاس کرنے کی سعی کرتا ہے۔
فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مختصر تعارف:
شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ اپنی مایہ ناز و شہرۂ آفاق کتاب ”سیرتِ مصطفیٰ“ میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تعارف کچھ یوں قلم بند کرتے ہیں:
”حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام فاطمہ اور لقب ’زہراء‘ اور ’بتول‘ ہے۔“ [سیرتِ مصطفیٰ، ص: 697]
امام عبد الرحمٰن بن علی جوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:
”اعلانِ نبوت سے 5 سال قبل حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پیدائش ہوئی۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰی أَعْلَمْ وَرَسُوْلُهٗ أَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم.“ [شانِ خاتونِ جنت، بحوالہ المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی]
چند القاباتِ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا:
حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بے شمار القابات ہیں، جیسے ام السادات، مخدومۂ کائنات، دخترِ مصطفیٰ، بانوئے مرتضیٰ، سردارِ خواتینِ جہاں و جناں، حضرت سیدہ طیبہ، طاہرہ، فاطمہ زہراء اور بتول، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، عابدہ، زاہدہ، محدثہ، مبارکہ، عذراء، سیدۃ النساء، خیر النساء، خاتونِ جنت معظمہ، ام الاطہار، ام الحسنین وغیرہ۔ ایسی عظیم کنیتیں اور کثیر القابات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت کو ہی موزوں ہو سکتے ہیں۔ [شانِ خاتونِ جنت، ص: 19]
فضائلِ فاطمہ زہرا بزبانِ قرآنِ مولیٰ:
اللہ جل شانہٗ و عز مکانہٗ نے بھی قرآنِ پاک میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر اگرچہ واضح اور صریح لفظ کے ساتھ نہیں کیا، لیکن بالاجمال ضرور ان کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے۔ جو بالیقین آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شانِ رفیعہ اور بلند و بالا مقام پر دال ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا ۚ
ترجمہ کنز الایمان: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔“ [الاحزاب: 33]
اہلِ بیت سے مراد کون؟
تفسیر صراط الجنان میں آیتِ مذکور کے تحت یہ بات مذکور ہے کہ:
اس آیت میں اہلِ بیت سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ازواجِ مطہرات سب سے پہلے مراد ہیں، کیونکہ آگے پیچھے سارا کلام ہی ان کے متعلق ہو رہا ہے۔ بقیہ نفوسِ قدسیہ یعنی خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا، حضرت علی المرتضیٰ اور حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اہلِ بیت میں داخل ہونا بھی دلائل سے ثابت ہے۔
صدر الافاضل علیہ الرحمہ اور اہلِ بیتِ اطہار:
اب آئیے! اہلِ بیتِ اطہار میں شامل افراد کے حوالے سے جو خلاصہ صدر الافاضل علیہ الرحمہ نے رقم فرمایا ہے، اس کو جاننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ”سوانح کربلا“ میں یہ آیت لکھ کر اہلِ بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مصداق کے بارے میں مفسرین کے اقوال اور احادیث نقل فرمائیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں: ”خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس میں سکونت رکھنے والے اس آیت میں داخل ہیں (یعنی ازواجِ مطہرات)، کیونکہ وہی اس کے مخاطب ہیں۔ (اور) چونکہ اہلِ بیتِ نسب (نسبی تعلق والوں) کا مراد ہونا مخفی تھا، اس لیے آں سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے اس فعلِ مبارک (جس میں پنجتن پاک کو چادر میں لے کر ان کے لیے دعا فرمائی) سے بیان فرما دیا کہ مراد اہلِ بیت سے عام ہے۔ خواہ بیتِ مسکن کے اہل ہوں جیسے کہ ازواج، یا بیتِ نسب کے اہل ہوں (جیسے کہ) بنی ہاشم و مطلب۔“ [تفسیر صراط الجنان، تحت الآیۃ]
فضائلِ فاطمہ زہرا اور احادیثِ حبیبِ مولیٰ:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات نبیِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خوب ارشاد فرمائے ہیں۔ ان تمام احادیث کو سپردِ قرطاس کرنا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے۔ اب آئیے! فضائلِ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق سات احادیثِ کریمہ نوکِ قلم کی جاتی ہیں:
-
جنتی عورتوں کی سردار ہے!
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
”أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ؟“
(کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو سارے جہاں کی مومن عورتوں اور جنت کی عورتوں کی سردار ہے؟)
[صحیح البخاری و مسلم]
-
جنتی عورتوں اور نوجوانوں کا سردار کون؟
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھ کو اجازت دیجیے کہ میں جا کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں اور پھر آپ کی خدمتِ اقدس میں اپنی اور تمہاری بخشش کی دعا کی درخواست کروں۔ والدہ نے اجازت دی اور میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ مغرب کی نماز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ادا کی، پھر نوافل پڑھے، اس کے بعد عشاء کی نماز پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو کر چلے تو میں بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پیچھے چلا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے میرے قدموں کی آواز سن کر فرمایا: ”کیا تو حذیفہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہاں۔ فرمایا:
”مَا حَاجَتُكَ؟ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ. إِنَّ هٰذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهٗ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ.“
ترجمہ: ”تجھے کیا حاجت ہے؟ اللہ تجھے اور تیری ماں کو بخشے۔ یہ ایک فرشتہ ہے جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا، اس فرشتے نے اپنے پروردگار سے میرے پاس آ کر مجھ کو سلام کرنے کی اجازت لی اور یہ مجھے بشارت دے رہا ہے کہ حضرت فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
[سنن الترمذی و مشکوٰۃ، ص: 570]
-
جنت کی عورتوں میں سب سے افضل:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ.“
ترجمہ: ”جنت کی عورتوں میں سے افضل عورتیں یہ ہیں: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا (2) فاطمہ بنت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم (3) مریم بنت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہا (4) آسیہ بنت مزاحم، فرعون کی بیوی۔“
[الاستیعاب، ج: 2، ص: 772]
-
عورتوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ:
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
”كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ، وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ.“
ترجمہ: ”حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم عورتوں میں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور مردوں میں سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے تھے۔“
[سنن الترمذی، باب المناقب / مستدرک للحاکم، ج: 3، ص: 155]
-
سفر میں پہلے اور بعد میں نورِ نظر سے ملاقات:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:
”إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِهٖ فَاطِمَةُ، وَإِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بِهٖ عَهْدًا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهَا.“
ترجمہ: ”حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم جب سفر کو تشریف لے جاتے تو سب کے بعد، اور جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات فرماتے۔“
[المستدرک للحاکم، ج: 3، ص: 156]
-
فاطمہ کی رضا رب کی رضا ہے:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”إِنَّ اللّٰهَ يَغْضَبُ بِغَضَبِ فَاطِمَةَ، وَيَرْضٰی بِرِضَاهَا.“
ترجمہ: ”بیشک اللہ تعالیٰ فاطمہ کے غضبناک ہونے سے غضبناک ہو جاتا ہے اور اس کے راضی ہونے سے راضی ہو جاتا ہے۔“
[المستدرک للحاکم، ج: 3، ص: 153]
-
جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا:
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي.“
وَفِي رِوَايَةٍ: ”يَرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا.“
ترجمہ: ”فاطمہ میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھ کو ناراض کیا۔ اور مجھ کو وہ چیز اضطراب میں ڈالتی ہے جو اس کو اضطراب میں ڈالے، اور مجھ کو وہ چیز تکلیف میں ڈالتی ہے جو اس کو تکلیف دے۔“
[صحیح البخاری، مسلم، و ترمذی]
علامہ فیض احمد اویسی اور حدیثین مذکورین:
ماقبل مذکور ان دونوں حدیثوں سے حاصل ہونے والی اہم معلومات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے علامہ صاحب اپنی کتاب ”فضائلِ فاطمۃ الزہرا“ میں کچھ یوں رقمطراز ہیں:
”ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یا ان کی اولاد کی بے ادبی کرے یا ان کو ایذاء پہنچائے، اس نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ کیونکہ اس کی اس حرکت سے ان کو اذیت ہوگی جو غضبِ الٰہی کا موجب ہے۔ جس طرح ان کا غضب غضبِ الٰہی ہے، اسی طرح ان کی رضا میں اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) کی رضا ہے۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں، تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے اہلِ بیت کی نیاز مندی کرے اور ان کو دوست رکھے۔“ [دیلمی]
(نوٹ: ماقبل مذکور تمام احادیث حضرت علامہ فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”فضائلِ حضرت فاطمۃ الزہرا“ سے اخذ کی گئی ہیں۔)
ذی شعور و ذی عقل قارئینِ کرام!
مضمون ہٰذا سے حضرت سیدتنا فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات اور خصائل و مناقب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں۔ ماقبل میں ایک حدیثِ پاک میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رضا میں رب کی رضا ہے و بالعکس۔
اب اے دشمنانِ فضائلِ فاطمۃ الزہرا! ذرا ہوش میں آ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ مژدہ سنا دیا کہ فاطمہ کی رضا رب کی رضا ہے و بالعکس، تو پھر تیری خیر نہیں! کہ اگر تو ان کی شانِ رفیعہ میں کچھ گستاخانہ و نازیبا کلمات استعمال کرنے کی کوشش کرے گا، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ناراضگی کی وجہ سے ربِ کریم ناراض ہو جائے گا۔ اور جس سے ربِ کریم ناراض ہو جائے، تو پھر اس کی خیر ہی کوئی نہیں۔ اسی طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تکلیف پہنچانا نبیِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایذا پہنچانا ہے۔ آپ کی اضطرابی نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اضطرابی ہے۔ اور آپ کی ناراضگی میں حضورِ کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناراضی ہے۔ الامان و الحفیظ! اب تو سدھر جا اے دشمنانِ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا!
اگر سالکؔ بھی یارب دعوائے جنت کرے، حق ہے
جو وہ زہرا کی ہے، یہ بھی تو ہے خاتونِ جنت کا
اللہ تعالیٰ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فیضان سے مالا مال فرمائے اور ان کی بے ادبی سے محفوظ و مامون رکھے۔
