کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

روحِ اسلام (قسط: پنجم)

روحِ اسلام (قسط: پنجم)
عنوان: روحِ اسلام (قسط: پنجم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

قصدِ ریا (ریاکاری کا ارادہ)

اس کے چار درجات ہیں:

  1. اول: یہ سب سے برا درجہ ہے۔ وہ یہ کہ عمل سے ثواب بالکل مقصود نہ ہو، جیسے وہ شخص جو لوگوں کے درمیان ہو تو نماز پڑھے، اکیلا ہو تو نہ پڑھے۔ مجمع ہو تو خیرات کرے، تنہائی ہو تو نہ کرے۔
  2. دوم: ثواب کا قصد تو ہو مگر ضعیف ہو، وہ اس طرح کہ لوگوں کے سامنے ہے تو ثواب کا خیال آیا اور عمل بجا لایا، لیکن تنہائی میں ثواب کا خیال نہ آیا۔ یہ درجہ بھی اوپر والے درجے کے قریب ہی ہے۔
  3. سوم: ثواب اور ریاکاری دونوں کا ارادہ برابر برابر ہو، وہ اس طرح کہ دونوں جمع ہوئے اور اس عمل کے لیے محرک بنے۔ اگر صرف ایک امر ہوتا تو اس عمل کی انگیخت (تحریک) نہ ہوتی۔ یہ شخص بھی غضب سے سلامت رہنے والا نہیں۔
  4. چہارم: صرف ثواب کا قصد رکھتا ہے لیکن اگر لوگوں کے سامنے ہے یا ان کے آگاہ ہونے کا موقع ہے تو عمل کے لیے قوت و نشاط ہے، اور اگر ایسا موقع نہیں تب بھی اپنی عبادت کے مطابق وہ عمل کی بجا آوری کرتا ہے اور تنہا ریا کے ارادے سے یہ عمل نہیں کرتا۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسے شخص کا عمل برباد نہ ہوگا، البتہ اس میں نقص ضرور آ جائے گا۔

ایسے شخص کو قصدِ ثواب کے بقدر ثواب اور قصدِ ریا کے بقدر عتاب ہوگا۔ اور حدیثِ قدسی:

”أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ“

(میں شرک کیے جانے سے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہوں)

اس صورت پر محمول ہے جب دونوں قصد مساوی ہوں یا قصدِ ریا راجح ہو۔

ذ ذریعۂ ریا

یہ طاعات (نیک اعمال) ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں:

  1. عبادات میں ریاکاری۔
  2. عبادات کے اوصاف میں ریاکاری۔

پہلی قسم (عبادات میں ریاکاری) زیادہ سخت ہے، اس کے تین درجے ہیں:

  1. اول: اظہارِ ایمان میں ریاکاری۔ ایسا شخص منافق ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور ریا کا یہ باب سب سے بدتر ہے۔
  2. دوم: فرائض میں ریاکاری۔ یہ بھی بری ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اس کا مال دوسرے کے ہاتھ میں ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ اس سے زکوٰۃ نکال دے، مگر خدا جانتا ہے کہ وہی مال خود اس کے ہاتھ میں ہوتا تو زکوٰۃ نہ دیتا۔ یا خلوت میں ترکِ نماز کا عادی ہے، مگر مجمع میں رہتا ہے تو ادا کر لیتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ ہے تو روزہ رکھ لیا مگر تنہائی پائے تو روزہ توڑ دے۔
  3. سوم: ایمان و فرائض میں ریاکار نہیں مگر نوافل و سنن میں ریاکار ہے۔ مثلاً تنہا ہے تو تہجد نہیں پڑھتا، لوگوں کے ساتھ ہو تو پڑھ لیتا ہے۔ ایسے ہی عرفہ و عاشورا کا روزہ جسے مذمت سے بچنے یا مدح و ستائش ملنے کی غرض سے ادا کر لیتا ہے۔

دوسری قسم (اوصافِ عبادات میں ریاکاری) کے بھی تین درجے ہیں:

  1. اول: براہِ ریاکاری ایسا عمل بجا لائے جسے نہ کرتا تو عبادات میں نقص و خلل آتا۔ مثلاً اکیلا نماز پڑھ رہا ہے تو بغیر تعدیل کے جلدی جلدی رکوع و سجدہ کر لیا، اور لوگوں کے سامنے ہے تو تعدیل کے ساتھ سب ارکان ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص زکوٰۃ میں خراب سکے دینے کا عادی ہے لیکن اگر لوگوں کے سامنے دیا تو عمدہ سکے دیے۔ روزے سے ہو تو مخلوق کی مذمت کے خوف سے غیبت و بیہودہ گوئی سے بچتا ہے، جبکہ تکمیلِ عبادت مقصود نہیں۔
  2. دوم: براہِ ریاکاری ایسا کام کرے جسے نہ کرتا تو عبادت ناقص نہ ہوتی، اور کیا تو اس کی حیثیت تکملہ و تتمہ کی ہے۔ جیسے حدِ تعدیل سے زیادہ طویل رکوع و سجود کرنا، عادت سے زیادہ لمبی قراءت کرنا، ماہِ رمضان میں زیادہ تر خلوت میں رہنا، زکوٰۃ میں عمدہ کی جگہ عمدہ تر دینا، مگر جب تنہائی اور لوگوں کے عدمِ اطلاع کی جگہ ہو تو ان امور کی رعایت نہ کرے۔
  3. سوم: نوافل سے خارج کچھ زائد باتوں کی رعایت کرنا۔ مثلاً لوگوں سے پہلے جماعت میں پہنچنا، پہلی صف کا قصد کرنا، جبکہ خدا جانتا ہے کہ لوگوں کی اطلاع کا موقع نہ ہوتا تو یہ ان امور کی پروا نہ کرتا۔

مقصودِ ریا

ریاکار کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے، خواہ مال، جاہ یا کچھ اور۔ اس لحاظ سے اس کے بھی تین درجات ہیں:

  1. اول: سب سے زیادہ قبیح و شدید درجہ وہ ہے کہ عبادت کی نمائش، ورع و تقویٰ کے اظہار اور نوافل کی کثرت سے گناہ کا ارتکاب اور اس کا موقع پانا مقصود ہو۔ مثلاً یہ کہ اس کے تقویٰ سے متاثر ہو کر اسے قضاء کا عہدہ، اوقاف کی تولیت، یا مالِ یتیم کی سرپرستی وغیرہ حاصل ہو جائے، اور وہ اس میں بے دریغ تصرف کرے۔ یا لباسِ صالحین، ہیئتِ صلحاء، اور وعظ و تذکیر سے کسی خوبرو عورت یا لڑکے کو دامِ فجور میں لانا مقصود ہو۔
  2. دوم: ریاکاری سے کوئی جائز حظِ نفس یا مالِ دنیا کا حاصل کرنا مقصود ہو۔ جیسے کسی کی خوبصورت یا معزز خاتون سے نکاح تک رسائی کرنا چاہتا ہو، یا وعظ میں گریہ و زاری اور جذبات کی انگیخت کا مقصد یہ ہو کہ لوگوں سے نذرانہ و ہدیہ زیادہ وصول ہو۔
  3. سوم: کسی حظِ نفس یا مالِ دنیا کی طمع نہ ہو مگر اس خوف سے عبادت کی نمائش کرے کہ کہیں خاص زاہدین سے الگ شمار نہ ہو، اور لوگ اسے نگاہِ نقص سے نہ دیکھیں۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!