| عنوان: | امن و امان |
|---|---|
| تحریر: | ماہرِ رضویات پروفیسر مسعود احمد دہلوی |
| پیش کش: | محمد بلال رضا عطاری مدنی،احمدآباد، گجرات |
امن و امان کی فضا، اخوت و محبت کی فضا صنعتوں سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کی اہمیت تسلیم، مگر فضا دماغ کی جلا اور دل کی صفائی سے قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے بعثتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے مقاصد یہ بتائے کہ قلب و ذہن کا تزکیہ اور تطہیر کی جائے، کتابِ مبیں سکھائی جائے، حکمت و دانائی بتائی جائے۔ اگر مقصد کسی قسم کی مادی ترقی ہوتا، جس سے ہرگز ہرگز قلب و نظر کو سکون نہیں ملتا، تو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں چھوٹی چھوٹی صنعتیں قائم کی جاتیں۔
دورِ نبوی میں دنیا بغیر صنعت کے نہ تھی، اور اہلِ عرب کی معاشی حالت کچھ زیادہ اچھی نہ تھی، اس لیے کچھ نہ کچھ تو کیا جاتا، مگر اس سلسلے میں کچھ نہ کیا گیا، کوئی انڈسٹری قائم نہ کی گئی۔ صرف ایک انڈسٹری قائم کی گئی اور وہ دل کی انڈسٹری تھی جس نے آگے چل کر خانقاہوں کی صورت اختیار کر لی۔ دلوں کو روشنی ملی، آنکھیں کھل گئیں، پیٹ کی آگ نہیں بھڑکائی گئی، شمعِ دل فروزاں کی گئی کہ شب کی تاریکیاں دور ہو جائیں، صبح کا اجالا نمودار ہو جائے۔
