کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

”جمعہ مبارک“ کہنا کیسا ہے؟

”جمعہ مبارک“ کہنا کیسا ہے؟
عنوان: ”جمعہ مبارک“ کہنا کیسا ہے؟
تحریر: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

جمعہ کا دن اسلام میں عظمت اور فضیلت کا حامل ہے۔ جمعہ کے دن کی فضیلت پر متعدد احادیثِ کریمہ وارد ہوئی ہیں۔ اس دن کو ”سید الایام“ (دنوں کا سردار) کہا گیا ہے۔ اسی دن مسلمان جمع ہو کر نمازِ جمعہ ادا کرتے ہیں، اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کی رضا کے لیے اپنے کاروبار اور مصروفیات ترک کر کے مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔

نمازِ جمعہ کے موقع پر مسلمان اپنے اسلامی بھائیوں سے باہم ملاقات کرتے ہیں، ایک دوسرے کو دعائیں دیتے ہیں اور بعض مقامات پر باہمی محبت کے اظہار کے طور پر گلے ملنے کا بھی رواج ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کے یہاں یہ بھی معروف ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو ”جمعہ مبارک“ کہتے ہیں۔

لیکن آج کل مارکیٹ میں ایک نئی دینی ڈیوٹی بہت زور و شور سے چل رہی ہے: ہر چیز پر مہر لگاؤ کہ یہ شرک، بدعت، اور گمراہی ہے۔ ابھی چند دن پہلے ایک نہایت ”خطرناک“ جملہ نظر سے گزرا کہ: ”جمعہ مبارک کہنا بدعت ہے۔“

اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ: اس کا ثبوت قرآن میں نہیں، حدیث میں نہیں، کسی صحابی نے نہیں کہا، تابعین نے نہیں کہا، تبع تابعین نے بھی نہیں کہا۔ اور جو بات قرآن و حدیث، صحابہ کرام علیہم الرضوان، تابعین اور تبع تابعین سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے، اور بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔

تو میرا ایسے نادان کو جواب یہ ہے کہ یہ بے جا اعتراض ہے کہ ”جمعہ مبارک“ نہیں کہہ سکتے اور اس میں یہ دلیل دینا کہ ”قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے، نہ کسی صحابی کا عمل ہے، نہ ہی کسی تابعی کا اور نہ ہی کسی تبع تابعی کا معمول تھا۔ اور جو بات قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جاتی ہے“۔ یہ کوئی بیوقوف اور جاہل ہی ایسی بات کر سکتا ہے، کوئی عقلمند ایسی بات نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جو بھی ایسی بات کرتا ہے وہ خود قرآن و حدیث کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ ناک کاٹنا حرام ہے لیکن بالاتفاق سب ناک کاٹنے کو حرام کہتے ہیں۔

یہ اعتراض غلط فہمی، افراط اور اصولِ شریعت سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ یہ کہنا کہ ”جمعہ مبارک“ کہنا ناجائز ہے صرف اس لیے کہ اس کا لفظی ثبوت قرآن و حدیث میں موجود نہیں، یہ طرزِ استدلال خود قرآن و حدیث کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ہر وہ چیز جو نص میں نہ ہو، بدعتِ ضلالہ (بری بدعت) نہیں ہوتی۔

اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ جو چیز قرآن و حدیث میں لفظاً نہ ہو وہ بدعتِ ضلالہ ہے تو پھر: موبائل فون کا استعمال، لاؤڈ اسپیکر، دینی کتابوں کی طباعت، مدارس کا موجودہ نظام، اردو بولنا، نیپالی بولنا، ہندی بولنا، میتھلی بولنا، یہ سب ناجائز قرار پائیں گے کیونکہ یہ سب چیزیں نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہیں، نہ صحابہ کرام سے ثابت ہیں، نہ تابعین سے ثابت ہیں اور نہ ہی تبع تابعین سے ثابت ہیں۔ جب کہ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں کہتا اور نہ ہی اسے ناجائز سمجھتا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ہر نئی چیز بدعتِ سیئہ نہیں ہوتی۔ بلکہ بدعتِ سیئہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کی کسی بات سے ٹکرائے۔

حدیثِ پاک میں ہے: ”كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“ یہاں ”بدعت“ سے مراد بدعتِ سیئہ (بری بدعت) ہے، نہ کہ ہر نیا اچھا کام۔

اس کی واضح دلیل خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ ارشاد ہے:

”مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا، وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَلَيْهِ وِزْرُهَا، وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ.“

ترجمہ: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اس کو بھی اجر ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کو بھی، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس پر اس کا بھی گناہ ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہے، بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی ہو۔“ [صحیح مسلم]

اگر ہر نئی چیز گمراہی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ”مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً“ (یعنی جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا) کا تصور ہی بیان نہ فرماتے۔

اب کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

”الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ“

جب دین مکمل ہو گیا ہے تو پھر دین میں ایجاد کیوں؟

اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: دین کے اصول، عقائد اور بنیادی احکام مکمل ہو چکے۔ مگر جزئیات، وسائل اور طریقوں میں اجتہاد کی گنجائش باقی ہے۔

”جمعہ مبارک“ کہنا دعا ہے اور دعا دینا عبادت ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

”وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ“

ترجمہ کنز الایمان: ”اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔“ [المؤمن: 60]

میرا رب فرماتا ہے:

”أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ“

ترجمہ کنز الایمان: ”دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے۔“ [البقرۃ: 186]

مسلمان کو دعا دینا نیکی ہے، بدعت نہیں۔ جمعہ سب دنوں سے افضل دن ہے۔

حدیث میں ہے:

”إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ، وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اللهِ.“

ترجمہ: ”بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا ہے۔“ [سنن ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب فی فضل الجمعۃ، ص: 185، الحدیث: 1084، المکتبۃ العصریہ بیروت]

جب ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک دوسرے کو ”عید مبارک“ کہتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں تو پھر ”جمعہ مبارک“ کہنے میں کیوں کر حرج ہو؟ جب عیدین پر ”عید مبارک“ کہنا جائز ہے اور جمعہ دنوں کا سردار ہے، تو ”جمعہ مبارک“ کہنا بدرجہِ اولیٰ جائز بلکہ مستحسن ہے۔

”جمعہ مبارک“ کہنے سے جمعہ کی یاد تازہ ہوتی ہے، نمازِ جمعہ کی ترغیب ملتی ہے، مسلمانوں میں محبت اور الفت بڑھتی ہے، اور مسلمانوں میں محبت بڑھانا شریعت کا مطلوب ہے۔

حدیثِ پاک میں ہے:

”مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ.“

ترجمہ: ”جس کام کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔“ [المستدرک علی الصحیحین، ج: 3، ص: 83، دار الکتب العلمیہ بیروت]

یہ کہنا غلط ہے کہ جس کو قرآن و حدیث میں حلال و حرام کہا گیا بس وہی حلال و حرام ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

”الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ.“

ترجمہ: ”حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حرام بتایا اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے یعنی اس پر کچھ مواخذہ نہیں۔“ [جامع الترمذی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!