کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

کیا الیاس قادری بدمذہبوں کا رد نہیں کرتے؟

کیا الیاس قادری بدمذہبوں کا رد نہیں کرتے؟
عنوان: کیا الیاس قادری بدمذہبوں کا رد نہیں کرتے؟
تحریر: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

کچھ لوگ اور بعض حلقے اس دعوے کے حامل ہیں کہ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ، بدمذہبوں کے باطل عقائد و ضلالت کی واضح و صریح مخالفت نہیں فرماتے، یا ان کے ردِ عمل میں کچھ کمی پائی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت اور حقائق اس سے بالکل متصادم ہیں۔ امیرِ اہلِ سنت نہ صرف دینِ حق کے حقیقی درد کو اپنے دل و دماغ میں بسائے ہوئے ہیں، بلکہ امت کی ہدایت، حق و باطل کے امتیاز اور اسلامی شعائر کی پاسداری میں ہر دور میں پیش پیش اور متحرک رہے ہیں۔

یہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر حق و باطل کی تمیز کی توفیق اور بدعات و بدمذہب افکار کے رد میں بصیرت و جرأت عطا فرمائی ہے۔ ان کی زندگی اور افعال اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ کبھی بھی حق کو چھپانے یا ضلالت کی دعوت دینے والوں کے سامنے خاموش نہیں رہے۔ بلکہ ہر موقع پر علم، حکمت، اور متقین کے اوصاف کے ساتھ بدمذہبوں کی غلط تعلیمات و فتنہ انگیز بیانات کا باقاعدہ اور مدلل رد کرتے ہیں۔

اس مضمون کا مقصد یہی ہے کہ قارئین کے سامنے اس امر کو واضح کیا جائے کہ امیرِ اہلِ سنت نے کس دقیق اور مؤثر انداز میں بدمذہبوں کے باطل عقائد کی مخالفت کی، کس طرح انہوں نے امت کو حق کی رہنمائی میں متحرک رکھا، اور کس طرح ان کے افعال نے دعوتِ اسلامی کے مشن کو تقویت بخشی۔ 26 رمضان المبارک کے بابرکت دن میں امیرِ اہلِ سنت کی ولادت ہوئی، اسی مناسبت سے یہ سعادت حاصل کر رہا ہوں کہ آپ کے سامنے پیش کروں کہ کس عالمانہ بصیرت اور حکمت کے ساتھ آپ نے بدمذہبوں کے باطل عقائد کا رد فرمایا۔

ہر صحابیِ نبی، جنتی جنتی!

جب کچھ افراد نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی اور اہلِ بیت علیہم السلام کی حرمت کی توہین و اہانت کی کوشش کی، تو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے نہ صرف قلبی پرہیزگاری اور حکمت کے ساتھ اس فتنے کا مقابلہ کیا بلکہ ایک واضح اور تعلیم آمیز نعرہ جاری فرمایا:

”ہر صحابیِ نبی، جنتی جنتی!“

یہ نعرہ صرف ایک شعوری نعرہ یا ذاتی موقف نہیں، بلکہ قرآنی حقائق اور سنت کے مطابق صحابہ کرام کی عظمت اور جنتی مقام کی تصدیق ہے۔ امیرِ اہلِ سنت نے یہ نعرہ نہ صرف بڑے لوگوں بلکہ بچوں کی زبان پر بھی جاری کیا، تاکہ امت میں ایمان، محبتِ صحابہ اور صحابیوں کے مرتبے کی صحیح تفہیم عام ہو۔ چھ، سات یا پانچ سال کی عمر کے بچے بھی اسے بلند آواز سے دہراتے ہیں، اور یوں ایک جامع اور تربیتی پیغام پورے معاشرے تک پہنچ گیا۔

امیرِ اہلِ سنت نے اپنی نصیحت اور وصیت میں نہایت واضح اور بے مثال عالمانہ موقف اختیار فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ:

”میرے جنازے کو ایسا شخص ہرگز کندھا نہ دے جو امیر معاویہ سے چڑتا ہو یا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخالفت کرتا ہو۔“

حتیٰ کہ آپ نے فرمایا:

”اپنا باپ بھی ہو، اگر وہ گستاخِ صحابہ کرام یا اہلِ بیتِ کرام علیہم الرضوان ہو تو کسی کام کا نہیں۔“

اور ساتھ ہی میں ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا جس کا نام ہی ”ہر صحابیِ نبی، جنتی جنتی“ رکھا۔

احمدِ مجتبیٰ، سب سے آخری نبی

کچھ لوگ پہلے ہی دوسرے نبی کے آنے کے قائل تھے اور کتنے لوگوں نے اس کا دعویٰ بھی کیا کہ ”میں نبی ہوں“، تو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے مریدین، محبین اور متعلقین کو واضح طور پر بتایا کہ حضور نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ یہ عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث اور امت کے اجماع سے ثابت ہے۔ اسی لیے امیرِ اہلِ سنت نے اس عقیدے کی حفاظت کے لیے 44 صفحات پر مشتمل ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا، جس کا نام ہے: ”سب سے آخری نبی“۔

اس رسالے میں انہوں نے قرآنِ پاک، احادیثِ کریمہ اور تاریخی واقعات سے یہ ثابت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں۔ یہاں تک کہ جانور بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ اور بہترین، جامع اور حقیقت سے بھرپور بااثر نعرہ بھی عطا فرمایا:

  • محمدِ مصطفیٰ — سب سے آخری نبی
  • احمدِ مجتبیٰ — سب سے آخری نبی
  • آمنہ کا لاڈلا — سب سے آخری نبی
  • شاہِ ہر دوسرا — سب سے آخری نبی
  • تاجدارِ انبیاء — سب سے آخری نبی
  • ہیں حبیبِ کبریا — سب سے آخری نبی
  • شافعِ روزِ جزا — سب سے آخری نبی
  • عقیدہ سب صحابہ کا — سب سے آخری نبی
  • عقیدہ اہلِ بیت کا — سب سے آخری نبی
  • نظریہ غوث کا — سب سے آخری نبی
  • خواجہ کا نظریہ — سب سے آخری نبی
  • ہے رضا کا نظریہ — سب سے آخری نبی
  • اولیاء کا نظریہ — سب سے آخری نبی
  • بچے بچے کا نظریہ — سب سے آخری نبی
  • نظریہ عطارؔ کا — سب سے آخری نبی

سب کا موقف ایک ہے: حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں۔ یہ نعرہ محض الفاظ نہیں، بلکہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت اور یاد دہانی ہے۔ یاد رہے کہ یہ عقیدہ ہر مسلمان کے لیے لازم ہے، اور جو شخص حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے، اس کا عقیدہ باطل ہے۔ واضح ہے کہ امیرِ اہلِ سنت حقیقی محافظ ہیں اور علم و عمل کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کو ہر سطح پر محفوظ رکھتے ہیں۔

امیر معاویہ، جنتی جنتی!

جب کچھ لوگوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، ادب و احترام کو پامال کیا اور طرح طرح کی بے ادبیاں کرنے لگے—کبھی کہنے لگے کہ یہ صحابیِ رسول نہیں، کبھی (معاذ اللہ) غدار کہا، کبھی یہ کہا کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دشمن ہیں، اور کبھی (معاذ اللہ) دشمنِ رسول کہا—تو ایسے فتنہ خیز دور میں امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے جرأت و بہادری کا بے مثال ثبوت دیتے ہوئے امت کو مضبوط پیغام دیا اور نعرہ دیا:

اے سن لو گستاخو!

  • خائفِ کبریا — حضرتِ معاویہ
  • عاشقِ مصطفیٰ — حضرتِ معاویہ
  • زاہد و پارسا — حضرتِ معاویہ
  • صاحبِ اتقاء — حضرتِ معاویہ
  • ہو کرم، ہو عطا — حضرتِ معاویہ
  • خاتمہ ہو بھلا — حضرتِ معاویہ
  • خوبرو خوش ادا — حضرتِ معاویہ
  • خوش نما، خوش لقا — حضرتِ معاویہ
  • مخلص و باوفا — حضرتِ معاویہ
  • باعمل بے ریا — حضرتِ معاویہ
  • ہمدمِ باوفا — حضرتِ معاویہ
  • باادب، باحیا — حضرتِ معاویہ
  • جنتی بے شبہ — حضرتِ معاویہ
  • باخدا، باصفا — حضرتِ معاویہ

اسی کے ساتھ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفاع میں 25 صفحات پر مشتمل ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام ہی ”حضرت امیر معاویہ“ رکھا۔ اس رسالے میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیا کہ: حضرت امیر معاویہ صحابیِ رسول ہیں، عاشقِ رسول ہیں، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ نہ یہ غدار ہیں، نہ گستاخ—بلکہ اللہ کے محبوب بندے ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے۔

مزید امیرِ اہلِ سنت نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں ایک منقبت بھی تحریر فرمائی، جو اس بات کی کھلی گواہی ہے کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور باغیوں کا نہایت خوبصورت اور مضبوط انداز میں رد کیا ہے۔ اس منقبت کا آغاز یوں ہوتا ہے:

رب کی ہو تم پہ ہر گھڑی رحمت معاویہ
اور مصطفیٰ کی نظرِ عنایت معاویہ

دل میں ہے میرے آپ کی الفت معاویہ
یہ ہے خدا کی مجھ پہ عنایت معاویہ

مولیٰ علی کا تم نے ہمیشہ ادب کیا
کرتے رہے علی بھی ہیں شفقت معاویہ

نامِ معاویہ پہ بھی بے جا ہے اعتراض
فرمایا خود نبی نے سماعت معاویہ

عطارؔ کو تمہاری غلامی پہ ناز ہے
محشر میں کام دے گی یہ نسبت معاویہ

اور ساتھ ہی امیرِ اہلِ سنت نے بدعقیدہ گستاخوں کو یہ بات بھی صاف صاف سمجھا دی کہ تمہاری گستاخی سے حضرتِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کچھ نہیں بگڑتا۔ بلکہ آپ نے عرسِ حضرتِ امیر معاویہ منعقد کر کے یہ اعلان کر دیا کہ گستاخوں کے طعنے، بہتان، الزام اور بدزبانی کا کوئی اثر نہیں—حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عطا فرمائی، اور اہلِ حق اسی عظمت کو دنیا کے سامنے بیان کرتے رہیں گے۔

اعلیٰ حضرت کے غلام ہیں الیاس قادری

میں اپنے مضمون کو طوالت سے بچانے کے لیے یہاں اختصار کرتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے جس انداز سے بدمذہبوں، گستاخوں اور بے ادبی کرنے والوں کا رد فرمایا ہے، وہ رد معمولی نہیں بلکہ ایسا مؤثر، دلنشین اور غیرتِ ایمانی سے بھرپور ہے کہ جسے سننے والا اپنی پوری زندگی یاد رکھے۔

امیرِ اہلِ سنت کوئی عام شخصیت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی قبولیت، ایسی جرأت، ایسی زبانِ حق اور ایسا عشقِ اہلِ سنت عطا فرمایا ہے کہ آپ کی بات دل کے تاروں کو چھو کر گزر جاتی ہے۔ آپ شیدائے اعلیٰ حضرت ہیں—اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا یہی عقیدہ تھا کہ دین کی حرمت، نبی کی ناموس، صحابہ کی عظمت، اہلِ بیت کی محبت اور اولیائے کرام کی توقیر ایمان کا حصہ ہے۔ اور یہی عقیدہ امیرِ اہلِ سنت نے بھی پوری زندگی نبھایا، اپنایا اور زندہ رکھا۔

  • آپ غوثِ اعظم عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی نظرِ رحمت کے حامل ہیں، کہ جن کی نگاہیں ہزاروں کو ولی اور لاکھوں کو سچا عاشقِ رسول بنا دیتی ہیں۔
  • آپ دینِ اسلام کی تبلیغ میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے نائب ہیں۔ وہی خواجہ غریب نواز جن کی دعوت نے لاکھوں دلوں پر اسلام کی مہر ثبت کر دی؛ امیرِ اہلِ سنت نے اسی سلسلے کو جدید دور میں نہایت حسن و کمال کے ساتھ زندہ کیا ہے۔

آپ اسی سلسلے کی وہ روشن کڑی ہیں جن کی محنت، جن کی للکار، اور ناموسِ صحابہ و اہلِ بیت کی حفاظت پر کھڑے ہونے کی غیرتِ دینی نے زمانے کو حیران کر دیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زمانہ آج بھی اور قیامت تک آپ کی مثال دیتا رہے گا کہ:

  • عشقِ مصطفیٰ کیا ہوتا ہے؟
  • غیرتِ صحابہ کیا ہوتی ہے؟
  • مودتِ اہلِ بیت کیا ہوتی ہے؟
  • امت کی اصلاح کیسے کی جاتی ہے؟

امیرِ اہلِ سنت کا عقیدہ وہی ہے جو اعلیٰ حضرت کا عقیدہ ہے۔ وہی مضبوطی، وہی پاکیزگی، وہی حق پر قائم رہنے کا انداز، وہی مصلحت کے بجائے حق گوئی، وہی بدمذہبیت کے سامنے آہنی دیوار بن جانا، وہی ناموسِ صحابہ و اہلِ بیت کی حفاظت، اور وہی عشقِ اولیاء کی خوشبو۔

امیرِ اہلِ سنت نے ہر اس موقع پر زبانِ حق بلند کی جب بدمذہبی کا فتنہ ظاہر ہوا، جب صحابہ کرام کی عظمت کو نشانہ بنایا گیا، جب اہلِ بیت کی شان کو چھپایا گیا، اور جب اولیائے کرام کی بے ادبی کی گئی۔ ہر وقت اور ہر موقع پر امیرِ اہلِ سنت نے بہترین، مدلل، مضبوط، دل کو ہلا دینے والا اور حق دکھا دینے والا جواب دیا۔

آپ کے رد کا انداز ایسا ہے کہ بدمذہب لاکھ چیخے، گستاخ لاکھ گرجے، بے ادب لاکھ زور لگائے—لیکن امیرِ اہلِ سنت ایک جملہ بولتے ہیں اور حق کی چمک دلوں پر نقش ہو جاتی ہے۔ یہ وہ رد ہے جس نے فتنوں کو جڑ سے کاٹ دیا، امت کو مطمئن کیا، اور حق کو نمایاں کر کے باطل کو رسوا کر دیا۔

اسی لیے میں کہتا ہوں: جس نے امیرِ اہلِ سنت کا اندازِ دفاعِ صحابہ و اہلِ بیت دیکھا، اس نے سمجھ لیا کہ عشق کی حقیقی تعریف کیا ہوتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!